جو پھول اپنے رنگ میں خوشبو میں ہو جدا
وہ پھول فکر و فن کے خیاباں میں کھل سکے! وہ فنِّ شاعری ہو مرے رب مجھے عطا جس کی مثال ملکِ سخن میں نہ مل سکے
معلیٰ
وہ پھول فکر و فن کے خیاباں میں کھل سکے! وہ فنِّ شاعری ہو مرے رب مجھے عطا جس کی مثال ملکِ سخن میں نہ مل سکے
ملے توفیق طیبہ کے سفر کی شعور پیرویٔ مصطفی دے! مرے اللہ ! سن لے چشمِ تر کی! وہی اُسوہ رہے پیہم نظر میں کہ جس پر ہے بِنا اُجلی سحر کی! ضرورت ہے مری تاریکیوں کو ابو القاسم کی سیرت کے قمر کی! گزرنا ہے جہانِ آب و گِل سے الٰہی خیر ہو میرے […]
پہنے قبائے نوری ، سرکار آ رہے ہیں ہوں آسمان والے یا ہوں زمین والے آمد پہ مصطفیٰ کی ، خوشیاں منا رہے ہیں میلاد مصطفیٰ سے پر کیف ہیں بہاریں گلزار و باغ عالم خوشبو لٹا رہے ہیں نکلے جلوس لے کر باد صبا کے جھونکے غنچے چٹک چٹک کر نعتیں سنا رہے ہیں […]
ماہِ صدق و صفا کی حسیں روشنی جس کے ماتھے کا جھومر صداقت بنی رسمِ تصدیق جس کے پدر سے چلی جس کو ورثے میں تسلیم کی خو ملی چاندنی جس کی رویت سے شرما گئی میری ماں! عائشہؓ علم کی منتہی دیں میں جس کی اُمومت سے جاں پڑ گئی راویوں میں ہمیشہ نمایاں […]
کیا ہے یہ خاص اپنا احساں کہ ان کی خاطر زمیں بنا دی تمام تر سجدہ گاہ یکساں پھر اس زمیں بھر میں پھیلنے کو بنائی خالق نے ایک اُمَّت کہ جو فقط اُس کا حکم مانے اسی کی قائم کرے حکومت زمیں کو منکر سے پاک رکھے جہاں میں معروف عام کر دے نبی […]
مگر ایک بات ہے فخر کی مگر ایک بات ہے ناز کی مجھے اِک شرف تو نصیب ہے مجھے دینِ حق کا شعور ہے یہ شرف تو مجھ کو نصیب ہے کہ جو میرے رب کا حبیب ہے وہی میرے دل کے قریب ہے مری خامیاں تو ہزار ہیں مگر ایک بات ہے فخر کی […]
سعدیؒ کے صدقے آقا ! میرے شعروں کی خوشبو بھی مہکے
نعت کے مفہوم سے آگاہ کر دیجے مجھے میں تو جوں توں آ گیا ہوں آپ ! کے دربار میں سوز دے کر اب چراغِ راہ کر دیجے مجھے بخش دیجے اب غلامی کی سند یا شاہِ دیں ! ایک ذرّہ ہوں مثالِ ماہ کر دیجے مجھے مدینہ منورہ جاتے ہوئے صبح نو بجے کے […]
اور سارے نقوش خام تمام نور جن کا ہے اَوّلیں تخلیق کائنات ان کا فیضِ عام، تمام تھا تو پیغام ہر نبی علیہ السلام کا وہی اُن پہ ہونا تھا یہ نظام تمام راہِ دیں پر ہر اک رسول چلا مصطفیٰ نے کیا خِرام تمام آپ نے در گزر کا درس دیا عفو کی، رسمِ […]
اُن کی خدمت میں کروں کیا پیش میں حرفِ سپاس جب زوالِ اُمتِ آقا کا آتا ہے خیال ڈوبنے لگتا ہے دل ہوتا ہے کچھ اتنا اُداس اب اِسے قعرِ مذلت میں بھی ملتا ہے سکوں بے حسی اس درجہ آتی ہے کسی ملت کو راس؟ اب اُسی ملت کے ذہن و دل میں بت […]