اے جانِ نِعَم ، نقشِ اَتَم ، سیدِ عالَم
بے مثل ہیں سب تیری شِیَم ! سیدِ عالَم مَیں خام ہُوں، خستہ ہُوں، خرابی کا مرقّع تُو ماحیٔ احساسِ الَم ، سیدِ عالَم تُو چاہے تو دے جذب کو اظہار کی نُدرت حاضر ہیں مرے نُطق و قلم ! سیدِ عالَم یہ صبح ترے عارضِ تاباں کا وظیفہ یہ شام تری زُلف کا خَم […]