عقیدتوں کا چلا قافلہ مدینے کو

کہ دل سے جاتا ہے اک راستہ مدینے کو مجھے ملی ہے جو توفیقِ مدحتِ شہِ دیں انہیں میں نعت سنانے چلا مدینے کو کرم سے آپ کے خالی نہیں رہا کوئی دعا یہی ہے کہ جائے گدا مدینے کو ترے کرم سے مدینے چلے گئے سب لوگ بلا لو مجھ کو بھی للہ شہا […]

دن رات سوچتا ہوں کہ جاؤں میں کس طرح

جا کر مدینہ نعت سناؤں میں کس طرح اک خواب میں ہوئی مری طیبہ میں حاضری کیسا کرم ہوا یہ بتاؤں میں کس طرح میرے نبی کی چار سو پھیلی ہے روشنی ان کی مثال ڈھونڈ کے لاؤں میں کس طرح جب تک نہ اس طرف سے ملے اذنِ گفتگو حق اس کرم کا شعر […]

مری زبان پہ ان کی ہے گفتگو اب تک

اسی سبب ہے مری ذات سرخرو اب تک نبی کی نعت نے رکھی ہے آبرو اب تک ہمیشہ نعت کہوں یہ ہے آرزو اب تک خدا نے رکھا رفعنا کا تاج جن کے سر انہیں کا ذکر ہے ہر لمحہ چار سو اب تک بلائیں گے مجھے اک روز آپ طیبہ میں حضور ہے مرے […]

ان کا نہیں ہے ثانی نہ ماضی نہ حال میں

میرے نبی ہیں یکتا جمال و کمال میں آئے ہیں جب بھی وہ حسنِ خیال میں نکھرے تمام رنگِ سخن اک جمال میں ظلمت کو دور کر کے وہ لائے ہیں روشنی چمکا ہے نور جہل کے ذہن و خیال میں لائے وہ پنج وقتہ نمازوں کے سلسلے تحفہ ملا تھا عرش پہ رب سے […]

چراغِ عقیدت کو دل میں جلا کر

ہمیشہ زباں سے نبی کی ثنا کر مجھے ہجرِ طیبہ سے مولا رہا کر حضوری مدینے کی مجھ کو عطا کر اگر چاہیے ہے عنایت خدا کی جیو دل میں عشقِ محمد بسا کر مقدر حلیمہ کا اس وقت چمکا چلیں گود میں جب نبی کو اٹھا کر تمنا زیارت کی ہے دل میں آقا […]

انداز زندگانی کے سارے بدل کے آ

’’یہ کوچۂ حبیب ہے پلکوں سے چل کے آ‘​‘​ اس در پہ آ غرور کو دل سے نکال کر آتے یہاں ہیں کام عمل کب؟ سنبھل کے آ کانِ کرم ہے شہرِ مدینہ کی سرزمیں خاک اس کی واپسی پہ تو چہرے پہ مل کے آ گر چاہیے تجھے بھی غلامی کی عظمتیں اپنی انا […]

جب مقدر میں مرے اذنِ مدینہ آیا

’’خودبخود زیرِ قدم اوج کا زینہ آیا‘​‘​ جس گھڑی آپ کی مدحت کا قرینہ آیا مرے ہاتھوں میں بھی بخشش کا خزینہ آیا جب مصیبت میں لیا نام نبی کا میں نے تو بھنور سے مرا ساحل پہ سفینہ آیا مہرباں ہو کے خدا نے دیے سب کو بیٹے جس گھڑی ان کی ولادت کا […]

رحمتیں اپنی کر عطا مولا

اپنے گھر میں مجھے بلا مولا آس تجھ سے لگی ہے بس میری گرمیٔ حشر سے بچا مولا موت آئے مجھے مدینے میں ہو یہ پوری مری دعا مولا صدقۂ شافعِ اُمم مجھ کو راہ توبہ کی کر عطا مولا ایک مدت سے آرزو ہے مری روضۂ مصطفیٰ دکھا مولا نعت کے صدقے زاہدؔؔ عاصی […]

عیسوی سال کا جب پانچ سو ستّر اُترا

رات کے پچھلے پہر نور کا پیکر اُترا میں اُسے ڈھونڈ رہا تھا کسی جانب، لیکن وہ مری روح میں ڈھل کر مرے اندر اُترا وہ عجب نام ہے جب بھی اسے جپنا چاہا وہ محمد ہے مرے لب پہ مکرّر اُترا کاسۂ دل میں تری یاد کی شبنم مہکی اُفقِ دید پہ حیرت زدہ […]

کمالِ عجز سے ہے، عجزِ باکمال سے ہے

یہ نعت ہے، یہ عقیدت کے خدو خال سے ہے مجھے بھی ناجی سفینہ میں رکھ مرے مولا مری بھی نسبتِ نوکر انہی کی آل سے ہے سخی پہ ہے وہ جسے، جیسے، جب، عطا کر دے عطا کا واسطہ عرضی سے ہے نہ حال سے ہے بہار کو ترے کوچے سے ہے وہی نسبت […]