چلے نہ ایمان اک قدم بھی اگر تیرا ہمسفر نہ ٹھہرے

ترا حوالہ دیا نہ جائے تو زندگی معتبر نہ ٹھہرے تُو سایہء حق پہن کے آیا، ہر اک زمانے پہ تیرا سایہ نظر تری ہر کسی پہ لیکن کسی کی تجھ پر نظر نہ ٹھہرے لبوں پہ اِیاکَ نستعیں ہے اور اس حقیقت پہ بھی یقیں ہے اگر ترے واسطے سے مانگوں کوئی دعا بے […]

حَیَّ علٰی خَیر العَمَل

آنکھیں بچھا پیروں تلے جن پر میرے آقا چلے چل تُو بھی اُن راہوں پہ چل حَیَّ علٰی خَیر العَمَل اپنی طرف تکتا نہیں تُجھ سا کوئی یکتا نہیں جھونکا کسی طوفان کا تجھ کو بجھا سکتا نہیں کر بیعَتِ عشق و وفا بن جا چراغِ مصطفٰے سینے میں جل ہاتھوں پہ جل حَیَّ علٰی […]

نہ میرے سخن کو سخن کہو نہ مری نوا کو نوا کہو

نہ میرے سخن کو سخن کہو نہ مری نوا کو نوا کہو میری جاں کو صحنِ حرم کہو مرے دل کو غارِ حرا کہو میں لکھوں جو مدحِ شہہِ اُمم اور جبرائیل بنیں قلم میں ہوں ایک ذرہء بے درہم مگر آفتابِ ثناء کہو طلبِ شہہِ عربی کروں میں طوافِ حُبِ نبی کروں مگر ایک […]

دفن جو صدیوں تلے ہے وہ خزانہ دے دے

ایک لمحے کو مجھے اپنا زمانہ دے دے چھاپ دے اپنے خدوخال مری آنکھوں پر پھر رہائش کے لئے آئینہ خانہ دے دے اور کچھ تجھ سے نہیں مانگتا میرے آقا نا رسائی کو زیارت کا بہانہ دے دے موت جب آئے مجھے کاش ترے شہر میں آئے خاکِ بطحا سے بھی کہہ دے کہ […]

وَرَفَعنا لَکَ ذِکرَک

تیری خوشبو، میری چادر تیرے تیور، میرا زیور تیرا شیوہ، میرا مسلک وَرَفَعنا لَکَ ذِکرَک میری منزل، تیری آہٹ میرا سدرہ، تیری چوکھٹ تیری گاگر، میرا ساگر تیرا صحرا ، میرا پنگھٹ میں ازل سے ترا پیاسا نہ ہو خالی میرا کاسہ تیرے واری ترا بالک وَرَفَعنا لَکَ ذِکرَک تیری مدحت، میری بولی تُو خزانہ، […]

نبی کے راستے کی خاک لوں گا

میں سب سے قیمتی پوشاک لوں گا محل مینار کیا کرنے ہیں مجھ کو مدینے کے خس و خاشاک لوں گا شاہِ کونین کی فاقہ کشی سے میں اپنی روح کی خوراک لوں گا میری نامہ بری آنسو کریں گے میں ان سے دیدہ نمناک لوں گا میری خواہش اگر پوچھی انہوں نے میں استحکام […]

یا رحمتہ العالمین

الہام جامہ ہے تیرا قرآں عمامہ ہے تیرا منبر تیرا عرشِ بریں یا رحمتہ العالمین آئینہء رحمت بدن سانسیں چراغِ علم و فن قربِ الٰہی تیرا گھر الفقر و فخری تیرا دھن خوشبو تیری جوئے کرم آنکھیں تیری بابِ حرم نُورِ ازل تیری جبیں یا رحمتہ العالمین تیری خموشی بھی اذاں نیندیں بھی تیری رتجگے […]

نبیوں کے نبی، اُمّی لَقَبی کونین کے والی! میں تیرا سوالی

نبیوں کے نبی، اُمّی لَقَبی کونین کے والی میں تیرا سوالی کر مجھ کو عطا، تھوڑی سی ضیا تارے تیرے موتی، چندا تیری تھالی میں تیرا سوالی یہ کس نے کہا سایہ ہی نہ تھا مجھ کو نظر آیا ہر سُو تیرا سایا جو تیرا ہُوا رَبّ اُس کا ہُوا پائی ہے خدائی جس نے […]

جہل کا سر درِ ابلاغ پہ خم تُو نے کیا

ظلمتِ کفر کو خورشیدِ حرم تُو نے کیا جس سے انکار کوئی قوم نہیں کر سکتی آدمیت پہ وہ احساں وہ کرم تُو نے کیا چاند تاروں سے بھی آگے تھی رسائی تیری آسمانوں کو مشرف بہ قدم تُو نے کیا چل پڑیں لوگ بھٹک کر نہ جُدا رستوں پر اس لیے دین میں دنیا […]

میں محمد سے جو منسوب ہوا خوب ہوا

ان کا دیوانہ و مجذوب ہوا خوب ہوا آنسوؤں سے مجھے جنت کی ہوا آتی ہے میرا دل دیدہِ یعقوب ہوا خوب ہوا اس کی آوازِ قدم آئی زمانے لے کر لمحے لمحے نے کہا خوب ہوا خوب ہوا اس نے اللہ کو اللہ نے اس کو چاہا کبھی طالب کبھی مطلوب ہوا خوب ہوا […]