اویسیوں میں بیٹھ جا ، بلالیوں میں بیٹھ جا

طلب ہے کچھ تو بے طلب سوالیوں میں بیٹھ جا یہ معرفت کے راستے ہیں اہلِ دل کے واسطے جنیدیوں سے جا کے مل، غِزالیوں میں بیٹھ جا صحابیوں سے پھول ، تابعین سے چراغ لے حضور چاہئیں تو اِن موالیوں میں بیٹھ جا درود پڑھ ، نماز پڑھ، عبادتوں کے راز پڑھ صفیں تو […]

جو عرش کا چراغ تھا میں اس قدم کی دھول ہوں

گواہ رہنا زندگی میں عاشقِ رسول ہوں مری شگفتگی پہ پت جھڑوں کا کچھ اثر نہ ہو کِھلا ہی جو ہے مصطفٰے کے نام پر وہ پھول ہوں مری دعاؤں کا ہے رابطہ درِ حضور سے اسی لیے خدا کی بارگاہ میں قبول ہوں بڑھا دیا ہے حاضری نے اور شوقِ حاضری مسرتیں سمیٹ کر […]

خود میرے نبی نے بات یہ بتا دی ، لانبی بعدی

ہر زمانہ سن لے یہ نوائے ہادی ، لانبی بعدی لمحہ لمحہ اُن کا طاق میں ہوا جگمگانے والا آخری شریعت کوئی آنے والی اور نہ لانے والا لہجہء خدا میں آپ نے صدا دی، لانبی بعدی تھے اصول جتنے اُن کے ہر سخن میں نظم ہو گئے ہیں دیں کے سارے رستے آپ تک […]

تصور سے بھی آگے تک درو دیوار کُھل جائیں

میری آنکھوں پہ بھی یا رب تیرے اسرار کُھل جائیں میں تیری رحمتوں کے ہاتھ خود کو بیچنے لگوں مری تنہائیوں میں عشق کے بازار کُھل جائیں جوارِ عرشِ اعظم اس قدر مجھ کو عطا کردے مرے اندر کے غاروں پر ترے انوار کُھل جائیں اتاروں معرفت کی ناؤ جب تیرے سمندر میں تو مجھ […]

مرا پیمبر عظیم تر ہے

کمالِ خلاق ذات اُس کی جمالِ ہستی حیات اُس کی بشر نہیں عظمتِ بشر ہے مرا پیمبر عظیم تر ہے وہ شرحِ احکام حق تعالیٰ وہ خود ہی قانون خود حوالہ وہ خود ہی قرآن خود ہی قاری وہ آپ مہتاب آپ ہالہ وہ عکس بھی اور آئینہ بھی وہ نقطہ بھی خط بھی دائرہ […]

علم محمد ، عدل محمد، پیار محمد

ساری اعلیٰ قدروں کا شہکار محمد ہم اِجمالی کیا جائیں تفصیل میں اُن کی کیا دنیا کیا عُقبیٰ سب تحویل میں اُن کی وقت کے بیچ محمد ، وقت کے پار محمد ساری اعلیٰ قدروں کا شہکار محمد سورج چاند ستارے اُن کے زیرِ سایہ جو اُن تک پہنچا وہ روشنیاں لے آیا بانٹیں کیا […]

اسی انسان سے مجھے بوئے وفا آتی ہے

خوش جسے طاعت محبوب خدا آتی ہے دوستو جشن تعیش میں نہ لے جاؤ مجھے مجھ کو فکر شہ والا سے حیا آتی ہے سفر راہ شریعت نہیں آساں اس میں منزل جان شکن کرب وبلا آتی ہے نگہت و رنگ امڈ پڑتے ہیں صحن دل میں جب مدینے سے کوئی موج صبا آتی ہے […]

ان کا خیال ہے مری دنیا کہیں جسے

ان کا جمال ہے مرا کعبہ کہیں جسے ان کے بغیر کون ہے اس کائنات میں مجھ سے فقیر مالک و مولا کہیں جسے در ہے انہی کا جس کو سمجھئے خدا کا در ان کی گلی ہے عرش معلیٰ کہیں جسے پیش از طلب ہی دیتے ہیں بیش از طلب حضور کیا آئے لب […]

تاحشر مجھے ان کی غلامی میں رکھا جائے

ممکن ہے مرا نام بھی تاریخ میں آ جائے کاش ایسا قصیدہ بھی کسی روز لکھا جائے جا کر جسے خود روضہ آقا پہ پڑھا جائے اے کاش کہ لگ جائیں کبوتر کے مجھے پر اے کاش مدینے کی فضاؤں میں اڑا جائے مرقوم ہو جس دل پہ ترے نام کا کتبہ اس کتبے کی […]

شوق و نیاز عجز کے سانچے میں ڈھل کے آ

یہ کوچۂ حبیب ہے پلکوں سے چل کے آ امت کے اولیا بھی ادب سے ہیں دم بخود یہ بارگاہِ سرور دیں ہے سنبھل کے آ آتا ہے تو جو شہر رسالت مآب میں حرص و ہوا کے دام سے باہر نکل کے آ ماہِ عرب کے آگے تری بات کیا بنے اے ماہتاب روپ […]