نظر نظر کی محبت ادا ادا تھی شفیق
کہاں تھی تیرے یہاں اونچ نیچ کی تفریق چراغ جادۂ ہستی ترا پیام بنا ترے درود سے نوعِ بشر کا کام بنا ہوا نہ ہوگا کوئی تجھ سا خلق یارو خلیق کہاں تھی تیرے یہاں اونچ نیچ کی تفریق تری نظر میں ہے جو ہورہا ہے آج یہاں بنام نور ہے ظلمت کے سر پہ […]