رنگِ ہستی آپ کے فیضان سے نکھرا حضور
آپ کی آمد سے پہلے کب تھا یہ نقشہ حضور آپ کا دین حیات آموز جب پھیلا حضور مٹ گئی یکثر تمیز بندہ و آقا حضور دیدۂ خورشید نے دیکھا نہ دیکھے گا حضور آپ سا خلوت گزین و انجمن آرا حضور
معلیٰ
آپ کی آمد سے پہلے کب تھا یہ نقشہ حضور آپ کا دین حیات آموز جب پھیلا حضور مٹ گئی یکثر تمیز بندہ و آقا حضور دیدۂ خورشید نے دیکھا نہ دیکھے گا حضور آپ سا خلوت گزین و انجمن آرا حضور
کبھی اشک بن کے رواں ہوئی ، کبھی درد بن کے دبی رہی شہ دیں کے فکر و نگاہ سے مٹے نسل و رنگ کے فلسفے نہ رہا تفاخرِ منصبی ، نہ رعونتِ نسبی رہی سرِ دشتِ زیست برس گیا ، جو سحابِ رحمتِ مصطفے نہ خرد کی بے ثمری رہی ، نہ جنوں کی […]
دور سر سے میرے بارِ غم ہوگیا میں کہ تھا منتشر جادہ ء زیست پر آپ کی اک نگہ سے بہم ہوگیا وہ تبسم فشاں لب جو یاد آگئے مندمل زخمِ تیغِ الم ہوگیا اسمِ سرکار ہونٹوں پہ آیا مرے آنکھ پرنم ہوئی سر بھی خم ہوگیا سیلِ اشکِ ندامت میں وہ زور تھا دفترِ […]
جگ راج کو تاج تو رے سر سو ہے ، تجھ کو شہ دوسرا جانا البحر علا والمود طغےٰ ، من بیکش و طوفاں ہوشربا منجدھار میں ہوں بگڑی ہے ہوا، موری نیّا پار لگا جانا یا شمس نظرت الیٰ لیلی ، چو بطیبہ رسی عرضے بکنی توری جوت کی جھلمل جگ میں رچی، مری […]
محبوب کی محفل کو محبوب سجا تے ہیں آتے ہیں وہی جن کو سرکار بلاتے ہیں وہ لوگ خدا شاہد قسمت کے سکندر ہیں جو سرور عالم کا میلاد مناتے ہیں جن کا بھری دنیا میں کوئی بھی نہیں والی اس کو بھی میرے آقا سینے سے لگاتے ہیں دامان کریمی کی وسعت تو ذرا […]
مری دُھائی سُنیں، اے مُحمّدِ عَرَبی مَیں پیاسا قتل ھُوا، ھائے میری تشنہ لَبی حضُور ! مَیں نے نہیں کی تھی کوئی بےاَدَبی مری تو چیخیں بھی سب رہ گئیں گلے میں دبی بغیر جُرم اذیّت کے گھاٹ اُتارا گیا حضُورِ والا ! مُجھے بے قصُور مارا گیا حضُور ! میری شریکِ حیات روتی ھے […]
ہر قدم پر تجھے سجدے بھی کئے جاتا ہوں کوئی دنیا میں مرا مونس و غمخوار نہیں تیری رحمت کے سہارے پہ جئیے جاتا ہوں تیرے اوصاف میں اک وصف خطا پوشی ہے اس بھروسے پہ خطائیں بھی کئے جاتا ہوں آزمائش کا محل ہو کے مسرت کا مقام سجدۂ شکر بہرحال کئے جاتا ہوں […]
کہ ہے اپنے پیارے کا پیارا محمد الہی یہ محشر میں ہم کہتے جائیں کہاں ہے کہاں ہے ہمارا محمد وہیں کشتیِ نوح بھی ڈوب جاتی نہ دیتے جو اس کو سہارا محمد ابھی فرش سے عرش مل جائے جھک کر کریں گر طلب کا اشارا محمد یہی بات عاشق نے معشوق سے کی نہیں […]
وجہِ تسکینِ جاں ، سرورِ دو جہاں رفعتِ بیکراں ، ماورائے گماں آپ کا نقشِ پا ، سدرۃ المنتہیٰ راستہ بن گیا ، کہکشاں کہکشاں آپ سے مُشکبُو ہے فضا چار سُو آپ کی جستجو ، گلستاں گلستاں آپ نور الہدیٰ ، آپ خیر الورٰی مرحبا مرحبا ، دلبرِ دلبراں شافَعِ عاصیاں ، والئ بیکساں […]
غبار راہ کو بخشا فروغ وادی سینا نگاہ عشق و مستی میں وہی اول ، وہی آخر وہی قرآں ، وہی فرقاں ، وہی یسیں ، وہی طہ سنائی کے ادب سے میں نے غواصی نہ کی ورنہ ابھی اس بحر میں باقی ہیں لاکھوں لولوئے لالا