مرے لبوں پر کسی گھڑی جب ثنائے خیر الانام آئے

زمیں سے پیغام تہنیت کا فلک سے مجھ کو سلام آئے وہ راحتِ جانِ آمنہ جب بہ ارضِ بیت الحرام آئے جھلک ذرا دیکھنے کو ان کی پرائے اپنے تمام آئے بہ شکلِ نوری، بچشمِ میگوں، بہ قلبِ اطہر، بہ خلقِ احسن نبی عالی مقام آئے رسوالِ والا کرام آئے نبی صادق، نبی کامل، نبی […]

میری زباں پہ اس کی ثنائے جمیل ہے

بندوں کو آخری جو خدا کی دلیل ہے سدرہ پہنچ کے شل قدمِ جبرئیل ہے وہ جلوہ گاہِ عرش میں تنہا دخیل ہے اس کے بیانِ حسن کو الفاظ ہی نہیں نا ممکن البیاں ہے وہ اتنا جمیل ہے ہو گی نہ منتہی نہ ہوئی اس کی داستاں تیئیس سال کی ہے پہ اتنی طویل […]

نعتِ پیغمبر لکھوں طاقت کہاں رکھتا ہوں میں

ذکرِ پیغمبر سے خود کو شادماں رکھتا ہوں میں نامِ پاکِ مصطفیٰ وردِ زباں رکھتا ہوں میں ہر نفس یوں مشکبو عنبر فشاں رکھتا ہوں میں دل میں یادِ نازشِ پیغمبراں رکھتا ہوں میں شمع روشن دل میں اک شایانِ شاں رکھتا ہوں میں گرمئ محشر سے سامانِ اماں رکھتا ہوں میں سایۂ دامانِ شاہِ […]

نغمہ طرازِ نعت رہوں میں تھکے بغیر

عمرِ عزیز صرف ہو میری بہ کارِ خیر میں بھی ترا ہی رند ہوں ساقی نہیں میں غیر پیمانہ اک مجھے بھی، ترے میکدہ کی خیر دامن چھٹے نہ ان کا اگر چاہتے ہو خیر اپنی ہی ذات سے کہیں رکھتا ہے کوئی بیر حور و قصور و جامِ طہور اور لحمِ طیر مجھ کو […]

نوائے پر سوز

حضوری میں تری اے ربِ برتر ترا بندہ ہے یہ حاضر نگوں سر زبان و دل ہیں محوِ آہ و زاری دعا سن لے غرض ہے یہ ہماری نہیں تجھ سے نہاں کچھ رازِ عالم مری دنیا ہے اب مثلِ جہنم بہر سو معصیت کی ہیں گھٹائیں ہیں کفر آلودہ دنیا کی فضائیں سکونِ دل […]

نہ ہے اِدّعائے سخن وری نہ ہے مجھ کو نام کی آرزو

میں ثنائے ختم رسل لکھوں کہ ہے ذکر جس کا چہار سو یہ خدا کی دین ہے جس کو دے وہ عطا ہوئی اسے شکل و خو نہ مثال اس کی کہیں ملے نہ مثیل اس کا ہے ہو بہ ہو میں یہ کہہ رہا ہوں بہ قبلہ رُو نہیں اس میں شائبۂ غُلو ہے […]

وہ صورت مرحبا اتنی حسیں معلوم ہوتی ہے

کہ مدھم صورتِ ماہِ مبیں معلوم ہوتی ہے کوئی کیسے کہے ایسی نہیں معلوم ہوتی ہے وہ سیرت عکسِ قرآنِ مبیں معلوم ہوتی ہے حلاوت میں سراسر انگبیں معلوم ہوتی ہے حدیثِ پاک اک اک دل نشین معلوم ہوتی ہے طبیعت کھوئی کھوئی ہم نشیں معلوم ہوتی ہے پڑی تھی فکرِ طیبہ میں وہیں معلوم […]

گرچہ ہر حرفِ سخن لؤ لؤ و مرجاں ہو جائے

محمدت پر وہ کہاں اس کے جو شایاں ہو جائے ملتفت جب نگہِ رحمتِ یزداں ہو جائے دل یہ مصروفِ ثنائے شہِ شاہاں ہو جائے بے نقاب ان کا اگر چہرۂ تاباں ہو جائے حسنِ مہتابِ جہاں تاب یہ پرّاں ہو جائے آدمی کیوں نہ اس انسان پہ حیراں ہو جائے جس کی سیرت بخدا […]

ہماری نعت گوئی ہے نمود اک نورِ ایماں کی

ثنا ممکن نہیں انساں سے اس ممدوحِ یزداں کی میں کس صورت سے دوں تشبیہ ان کے روئے تاباں کی نہ صورت مہر کی ایسی نہ مہتابِ درخشاں کی رسائی مرتبہ تک ان کے کب ہے فہمِ انساں کی اسے تو فی الحقیقت جانتی ہے ذات یزداں کی حبیبِ کبریا ہے وہ بِنا ہے بزمِ […]

ہے اگرچہ کارِ مشکل شہِ دوسرا کی مدحت

مرے قلب و جاں کو لیکن اسی مشغلے میں راحت وہ نبی اُمی ایسا کہ نہیں ہے کوئی اس سا وہ نگینۂ نبوت وہ تتمۂ رسالت وہ ہے حسن کا مرقع وہ ہے خلق کا نمونہ زہے پُر جمال سیرت زہے تابدار سیرت کہوں اس کو ماہِ کامل تو ہے ناقص استعارہ نہیں کوئی شے […]