خوش خصال و خوش خیال و خوش خبر، خیرالبشر

خوش خصال و خوش خیال و خوش خبر، خیرالبشر​ خوش نژاد و خوش نہاد و خوش نظر، خیرالبشر​ ​ دل نواز و دل پذیر و دل نشین و دل کشا​ چارہ ساز و چارہ کار و چارہ گر، خیرالبشر​ ​ سر بہ سر مہر و مروت، سر بہ سر صدق و صفا​ سر بہ سر […]

دل میں ہو یاد تیری گوشہ تنہائی ہو

پھر تو خلوت میں عجب انجمن آرائی ہو آج جو عیب کسی پر نہیں کھلنے دیتے کب وہ چاہیں گے میری حشر میں رسوائی ہو آستانہ پہ ترے سر ہو اجل آئی ہو اور اے جان جہاں تو بھی تماشائی ہو اک جھلک دیکھنے کی تاب نہیں عالم کو وہ اگر جلوہ کریں کون تماشائی […]

دلوں کا شوق ، روحوں کا تقاضا گنبدِ خضرا

زمانے کی نگاہوں کا اجالا گنبدِ خضرا جو رنگ و بو کی دنیا سرزمینِ شہرِ طیبہ ہے تو خلدِ چشم و فردوسِ تمنا گنبدِ خضرا حبیبِ کبریا سائے میں اس کے محوِ راحت ہیں دو عالم میں اسی باعث ہے یکتا گنبدِ خضرا خدا کا شکر تائب کی نگاہوں نے بھی دیکھا ہے وہ ہر […]

دلوں کی تہہ میں پوشیدہ محبت دیکھنے والا

وہ محبوبِ خدا ! جذبوں کی وسعت دیکھنے والا جہاں میں سننے والا ان کہے الفاظ چاہت کے وہی ہے اَن لکھے حرفِ ارادت دیکھنے والا مکان و لامکاں کی شوکتیں زیر قدم اس کے وہ موجود و عدم کی ہر ولائت دیکھنے والا نہ جھپکی آنکھ جس کی روبرئے جلوہء باری سرِ قوسین ذاتِ […]

زیست کی روحِ رواں ہے مرے خواجہ کی نظر

شاملِ حالِ جہاں ہے مرے خواجہ کی نظر مونسِ غم زدگاں ہے مرے خواجہ کی نظر ہر گھڑی فیض رساں ہے مرے خواجہ کی نظر بصرِ بے بصراں ہے مرے خواجہ کی نظر ہنرِ بے ہنراں ہے مرے خواجہ کی نظر ​ وجہِ تخلیقِ جہاں ہے مرے مولا کا وجود مژدہ امن و اماں ہے […]

سو بسو تذکرے اے میرِ امم تیرے ہیں​

اوجِ قوسین پہ ضَو ریز عَلَم تیرے ہیں​ ​ وقت اور فاصلے کو بھی تری رحمت ہے محیط​ سب زمانے ترے، موجود و عدم تیرے ہیں​ ​ جیسے تارے ہوں سرِ کاہکشاں جلوہ فشاں​ عرصۂ زیست میں یوں نقشِ قدم تیرے ہیں​ ​ اہلِ فتنہ کا تعلّق نہیں تجھ سے کوئی​ قافلے خیر کے اے […]

غریبوں کی جو ثروت ہیں ، ضعیفوں کی جو قوت ہیں

انہیں عالم کے ہر دکھ کی دوا کہنا ہی پڑتا ہے انہیں فرماں روائے انس و جاں کہتے ہی بنتی ہے انہیں محبوبِ ربِ دوسرا کہنا ہی پڑتا ہے زہے تاثیر ، ان کا نام نامی جب لیا جائے لبوں کو لازما صلِ علی کہنا ہی پڑتا ہے جہاں بھر کو کیا سیراب جن کے […]

معجزہ ہے آیہء والنجم کی تفسیر کا ​

​ معجزہ ہے آیہء والنجم کی تفسیر کا ​ ایک ایک نقطہ ستارہ ہے مری تحریر کا ​ ​ آپ کی نسبت ہے مجھ کو باعثِ عزّو شرف​ آپ کی مدحت وسیلہ ہے مری توقیر کا ​ ​ کس طرح گزریں گے یہ دوری کے روز و شب حضور​ صبح کرنا شام کا لانا ہے […]

مہر ھدی ہے چہرہ گلگوں حضور کا

اک سرو نور ہے قد موزوں حضور کا جس کے لیے شفاعت امت کا تاج ہے لاریب ہے وہ فرقِ ہمایوں حضور کا ذکر آپ کا بلند کیا کردگار نے چرچا ہے کائنات میں افزوں حضور کا شیدائے حسن خلق ہیں اپنے بھی غیر بھی عالم تمام طالب و مفتوں حضور کا جانے خدا ہی […]