ہوگی کب خدمت سرکار میں میری طلبی
یا نبی میرے نبی ! میرے نبی! میرے نبی کب رسائی مجھے دریائے کرم تک ہو گی دشت در دشت بھکٹتی ہے مری تشنہ لبی سبقت جو دو کرم نے مجھے مہلت ہی نا دی رہ گئی میری گزارش مرے کونٹوں میں دبی در گہ عدل میں یکساں ہیں شہنشاہ و فقیر نہ یہاں فرق […]