سرد ہوا نفرت کا جہنم ِکھلے پیار کے پھول

وحشی لمحوں کی معزولی سرد ہوا نفرت کا جہنم ِکھلے پیار کے پھول وہ آئے تو وحشی لمحے سب ٹھہرے معزول خیر صفات رُسول وہ جو چلے تو سب نے دیکھا عرش کو حرفِ سلام ان سے پہلے کب کوئی بندہ تھا قوسین مقام اُن کی عظمت کے آگے ہیں سب کی انائیں دُھول خیر […]

سندھ کا باغِ جناں ہیں حضرتِ عبداللطیف

آفتابِ گل فشاں ہیں حضرتِ عبداللطیف اہلِ دل کے واسطے اہل نظر کے واسطے جلوہ گاہِ عارفاں ہیں حضرتِ عبداللطیف کیوں نہ روشن ہو زمینِ سندھ تاروں کی طرح اس زمیں کے آسماں ہیں حضرتِ عبداللطیف ذرّہ ذرّہ بھٹ کا گویا ہے لطافت درکنار لطف کے وہ رازداں ہیں حضرتِ عبداللطیف اس زمیں یہ کیوں […]

شب غم میں سحر بیدار کر دیں

شب غم میں سحر بیدار کر دیں کرم کی اِک نظر سرکار کر دیں رواں ہیں کشتیاں سوئے مدینہ بھنور سے میرا بیڑا پار کر دیں حصارِ جاں نوازی میں ُبلا لیں مقدر سایۂ دیوار کر دیں رہیں میرے افق پر چاند بن کر منوّر عالمِ افکار کر دیں زیاں کے اس مسافر کو بھی […]

فصیل پر ہیں ہوا کی روشن چراغ جس کے

فصیل پر ہیں ہوا کی روشن چراغ جس کے سیاہ راتوں میں جس نے روشن شجر کیے ہیں وہ جس نے موجوں کو تیشہ اندازیاں سکھا کر رقم چٹانوں پہ راز ہائے ہنر کیے ہیں وہ جس کی رحمت نے دشت کے دشت سبزۂ ُگل سے بھر دیے ہیں وہ جس کی مدحت میں حرف و […]

قلم خوشبو کا ہو اور اس سے دل پر روشنی لکھوں

مجھے توفیق دے یارب کہ میں نعت نبی لکھوں لباسِ حرف میں ڈھالوں میں کردارِ َحسیں اُن کا امیں لکھوں ، اَماں لکھوں، غنی لکھوں سخی لکھوں حرا کے سوچتے لمحوں کو زندہ ساعتیں لکھ کر صفا کی گفتگو کو آبشارِ آگہی لکھوں تمنا ہے کہ ہو وہ نامِ نامی آپ کا آقا میں جو […]

لکھوں مدح پاک میں آپ کی مری کیا مجال مرے نبی

نہ مزاجِ حرف کی آگہی نہ ہوں خوش مقال مرے نبی مجھے اپنے رنگ میں رنگ دیں مرے دل کو اپنی اُمنگ دیں ہو عطا وہ لذتِ سوزِ جاں جو ہو لازوال مرے نبی میں نواحِ شب میں بھٹک گیا نئے سُورجوں کی تلاش میں کوئی روشنی کہ بدل سکے مری شب کا حال مرے […]

مرجان نہ یاقوت نہ لعلِ یمنی مانگ

اللہ سے جذبات اویسِ قرنی مانگ محشر کی تمازت سے نجات آج ہی پالے اس گیسوئے رحمت کی ذرا چھاؤں گھنی مانگ اس سے بڑی نعمت نہیں کونین میں کوئی سرکار سے سرکار کی بس ہم وطنی مانگ گم ُسم تھا درِ شہ پہ کہا آکے کسی نے قسمت سے یہ موقع ملا قسمت کے […]

مرے آسمانِ دل پہ کچھ عجب گھٹا سی چھائی

جہاں آہِ سرد کھینچی کہ بہارِ غوث آئی وہ قدم کہاں جمائے، وہ نظر کہاںاُٹھائے جسے راس آگئی ہو تیرے نام کی دھائی بہ نگاہِ غوث دیکھو تو یہ بات مان لو گے جہاں عظمتِ خدا ہے وہیں شانِ مصطفائی کوئی دوسرا نہ دیکھا بہ ہزار جستجو بھی تری ذات غوثِ اعظم ہے عجب حسیں […]

منزل کا رہنما ہے نشاں راستی کا ہے

ہر نقش پا نبی کا دیا رہبری کا ہے وہ شہر علم و فضل وہ معراجِ فکر و فہم محور اسی کی ذات ہر اک آگہی کا ہے انسانیت کا اوج ہے معراجِ مصطفیٰ یہ روشنی کی سمت سفر روشنی کا ہے دل میں بسی ہے کیفِ حضوری کی آرزو مدت سے منتظر یہ گدا […]