منزلِ قرب خدا میں وہ وہاں تک پہنچے

فاصلے گھٹ کے جہاں دو ہی کماں تک پہنچے نورِ سرکارِ دو عالم کو پکارا میں نے جب اندھیروں کے قدم وادیٔ جاں تک پہنچے کاسۂ جاں کو اُجالوں سے وہ بھر کر لوٹے جو گدا اُن کے درِ فیض رساں تک پہنچے روشنی گنبدِ خضرا کی ملی ّجنت میں شہر طیبہ ترے انوار کہاں […]

مٹا دل سے غمِ زادِ سفر آہستہ آہستہ

تصوّر میں چلا طیبہ نگر آہستہ آہستہ زباں کو تابِ گویائی نہیں رہتی مدینے میں صدا دیتی ہے لیکن چشمِ تر آہستہ آہستہ اُتاری روح کی بستی میں جلوؤں کی دھنک اس نے شکستِ شب پہ ہو جیسے سحر آہستہ آہستہ جگائے علم کے سورج سکھائی لفظ کی حرمت کیے وا آگہی کے سارے در […]

نظر آتے ہیں پھول سب کے سب

حرفِ نعتِ رسول سب کے سب ان کی تقلید کر کے سیکھے ہیں رہبری کے اُصول سب کے سب آپ کے فلسفے کے بعد حضور فلسفے ہیں فضول سب کے سب اُن کے آنے سے پہلے اہل عرب تھے ظلوم و جہول سب کے سب مہر و ماہ و نجوم و کاہکشاں پائے اقدس کی […]

نظر کے ریگزاروں کو متاعِ نقش پا دے دو

میں ہوں تاریک راہوں میں اُجالوں کا پتا دے دو اس عہد جبر میں ہر سُو محبت کی اذاں گونجے ہمیں ایسی دعا پھر اے حبیب کبریا دے دو جہالت کے اندھیروں کی فصیلیں جس سے گر جائیں مرے ہاتھوں کو ایسا عِلم کا روشن دیا دے دو پھرے ہیں در بدر اے رحمت عالم […]

وصف لکھنا حضورِ انور کا

ہے تقاضہ یہ مرے اندر کا وہ ہیں آئینۂ جمال ایسا عکس ہے جس میں آئینہ گر کا آپ کا جو نہیں، ہمارا نہیں ہے یہ اعلان ربِّ اکبر کا دشمنوں کی زباں تک پہنچا تذکرہ ان کے ُخلقِ اطہر کا جس میں ان کی ثناء کے دیپ جلیں ہیں اُجالے مقدر اس گھر کا […]

کب چھڑایا نہیں ہم کو غم سے کب مصیبت کو ٹالا نہیں ہے

کب کڑی دھوپ میں مصطفیٰ نے سایہ کملی کا ڈالا نہیں ہے ان کی رحمت کا کیا ہے ٹھکانا دیکھ لے سوئے طائف زمانہ موسم سنگ باری میں لب پر کیا دُعا کا اُجالا نہیں ہے لاج رکھی گئی ہر صدا کی دل نوازی ہوئی ہر گدا کی ہے سخی اُن کا دربار ایسا کسی […]

کر رہے ہیں تیری ثناء خوانی

سوچتی دھرتی بولتا پانی توُ ہے آئینہ ازل یاربّ اور میں ہوں اَبد کی حیرانی تیرے جلوؤں کے دم سے لیل و نہار تیرے سورج کی سب درخشانی گونجتا ہے ثناء کے نغموں سے گنبدِ جاں ہے میرا نورانی پار ہوتی نہیں مرے مولا درد کی سرحدیں ہیں طولانی تجھ سے بخشش کا ہے تمنائی […]

کرم کے راز کو علم و خبر میں رکھتے ہیں

جو لوگ گنبدِ خضرا نظر میں رکھتے ہیں جنونِ عشق محمد جو سر میں رکھتے ہیں عجب مقام جہانِ ہنر میں رکھتے ہیں نبی کے نام کی نسبت سے ہم سے عاصی بھی دُعائیں اپنی حدودِ اثر میں رکھتے ہیں خدا شناسی کی منزل میں پیروانِ رسول چراغِ علم و عمل رہگذر میں رکھتے ہیں […]

کس کے دل کی ہیں دُعا حضرتِ سچل سرمست

ہر کوئی کہتا ہے یا حضرتِ سچل سرمست مستیاں میرے مقدر کا ستارا بن جائیں مسکرائیں جو ذرا حضرتِ سچل سرمست ہر سر شوق تو اس در کا سزاوار نہیں میں کجا اور کجا حضرتِ سچل سرمست آپ کے فیض سے سرکار کے در تک پہنچا جس طرف سے بھی چلا حضرتِ سچل سرمست کچھ […]

کوئی مثل مصطفیٰ کا کبھی تھا نہ ہے نہ ہوگا

کسی اور کا یہ رُتبہ کبھی تھا نہ ہے نہ ہوگا انہیں خلق کر کے نازاں ہوا خود ہی دست قدرت کوئی شاہکار ایسا کبھی تھا نہ ہے نہ ہوگا کسی وہم نے صدا دی کوئی آپ کا مماثل تو یقیں پکار اُٹھا کبھی تھا نہ ہے نہ ہوگا مرے طاقِ جاں میں نسبت کے […]