منزلِ قرب خدا میں وہ وہاں تک پہنچے
فاصلے گھٹ کے جہاں دو ہی کماں تک پہنچے نورِ سرکارِ دو عالم کو پکارا میں نے جب اندھیروں کے قدم وادیٔ جاں تک پہنچے کاسۂ جاں کو اُجالوں سے وہ بھر کر لوٹے جو گدا اُن کے درِ فیض رساں تک پہنچے روشنی گنبدِ خضرا کی ملی ّجنت میں شہر طیبہ ترے انوار کہاں […]