پھر عطا ہو جائے آقا روشنی کا پیرہن
تیرہ تیرہ ہوگیا ہے زندگی کا پیرہن جھکنے لگتی ہیں جبیں پھر آپ کی دہلیز پر جب پہن لیتا ہے انساں آگہی کا پیرہن روزِ محشر سامنا کیسے کریں گے آپ کا فخر کرتے ہیں پہن کر جو بدی کا پیرہن آپ کے آتے ہی سب گردِ کدورت دھل گئی ہو گیا شفاف روحِ آدمی […]