جنہیں تیرا نقش قدم ملا، وہ غم جہاں سے نکل گۓ

یہ میرے حضور کا فیض ہے کہ بھٹک کے ہم جو سنبھل گۓ پڑھو صل علی نبینا صل علی محمد پڑھو صل علی شفیعنا صل علی محمد ہو تیرے کرم کا جواب کیا تیری رحمتوں کا حساب کیا تیرے نام نامی سے غم کدوں میں چراغ خوشیوں کے جل گۓ پڑھو صل علی نبینا صل […]

جو ترے در پہ، دوانے سے آئے بیٹھے ہیں

وہ اپنی لو بھی تجھی سے لگائے بیٹھے ہیں فقط حضور کا اُسوہ ہے جن کے پیش نظر جبینیں اپنی ادب سے جھکائے بیٹھے ہیں طلب سے بڑھ کے ملی ان کو ہے پذیرائی ردائیں اوڑھ کے جو منہ چھپائے بیٹھے ہیں زمیں جو زیرِ قدم آئے آسماں ٹھہرے وہ رازِ ربّ دو عالم چھپائے […]

جہاں تیرا نقشِ قدم دیکھتے ہیں

جبین عقیدت کو خم دیکھتے ہیں میں لیتا ہوں نام ان کا گر میکدے میں مجھے کس نظر سے صنم دیکھتے ہیں یہ گلکاریاں کب ہیں آساں قلم کی قلم کا ہوا سر قلم دیکھتے ہیں تری اک نگاہِ کرم ہو تو پھر ہم قیامت کے فتنہ کو کم دیکھتے ہیں جنھیں تو نے دل […]

حشر میں مجھ کو بس اتنا آسرا درکار ہے

التفاتِ شافع روزِ جزا درکار ہے اور اس کو چاہیے کیا اور کیا درکار ہے وہ نبی کا ہو رہے جس کو خدا درکار ہے جو مجھے لے جائے ان کے آستانِ پاک تک وہ تمنا، وہ طلب، وہ مدعا درکار ہے دل تو ہے آباد محبوبِ خدا کی یاد سے میری آنکھوں کو جمالِ […]

خامشی ، غارِ حرا ، دِل میرا

تیرے قدموں کی صدا دِل میرا گنبدِ سبز پہ تاروں کا ہجوم اور سرِ بابِ دُعا دِل میرا صبح کے ساتھ جھکی شاخِ گلاب شاخ کے ساتھ جھکا دِل میرا لوح در لوح ترے نقشِ قدم حرف در حرف لکھا دِل میرا ڈوبتی رات کے سنّاٹے میں اِک کتاب ،ایک دیا دِل میرا روشنی طاقِ […]

خوشبو اُتر رہی ہے مرے جسم وجان میں

کیا لطف آ رہا ہے سحر کی اذان میں مجھ کو ملی امان ہے جس گلستان میں صدقے کروں میں جان اسی آستان میں میں نے وہیں پہ سجدہ الفت ادا کیا جس گھر میں آپ عرش سے آئے جہان میں اللہ اے اوج و مرتبہ میرے حضور کا مہماں ہوئے وہ عرش کے اعلیٰ […]

خیال کیسے بھلا جائے گا جناں کی طرف

نظر ہے شاہِ دوعالم کے آستاں کی طرف تمام نبضِ دو عالم ٹھہر گئی اس دم چلے جو سیّدِ کونین لامکاں کی طرف یہ دھوپ حشر کی جھلسائے گی مجھے کیسے ٹھکانہ میرا ہے جب اُن کے آستاں کی طرف نہ جانے کس گھڑی آ جائے گا پیامِ اجل اے زیست لے کے تُو چل […]

درہم کی طلب ہے نہ ہی دینار کی خواہش

ہے دولتِ نظّارۂِ بیزار کی خواہش جب خاکِ کفِ پائے شہِ دیں ہو نظر میں پھر کون کرے بارشِ انوار کی خواہش مل جائے مجھے گر خس و خاشاکِ مدینہ میں وار دوں اُس پر گل و گلزار کی خواہش ہو دستِ سکوں سینئہ صد چاک پہ آقا اب مجھ کو نہیں مرہمِ زنگار کی […]

دلا خاک رہ کوئے محمد شو محمد شو

زہر سوئے بیا سوئے محمد شو محمد شو بہر دم سجدہ جاں سوئے ابروئے محمد کن بروئے قبلہ ردئے محمد شو محمد شو تجرد پیشہ گیر از قید عالم وارہاں خودار اسیر حلقہ موئے محمد شو محمد شو با خلاق الہی متصف بودن اگر خواہی سراپا سیرت و خوئے محمد شو محمد شو بکن خالی […]

دن گذریں مدینے میں راتیں ہوں مدینے کی

"جینا ہو اگر ایسے کیا بات ہو جینے کی” نظریں ہیں مدینہ پر نظروں میں مدینہ ہے سانسوں میں مدینہ ہے سانسیں ہیں مدینے کی کیا خوب ہے یہ ایقاں؛ میخوارِ مئی عرفاں جاتے ہیں مدینے کو خواہش ہو جو پینے کی آقا پہ بھروسہ ہے آقا کا سہارا ہے کیا ذکر ہے طوفاں کا […]