رہ خیر الوری میں روشنی ہے

یہاں ہر ایک گاہ میں روشنی ہے کوئی بھی راستہ دھندلا نہیں ہے وہ انکے نقش پا میں روشنی ہے خدا کا گھر بھی دیکھو جگمگایا عجب بدرالدجٰی میں روشنی ہے ہر اک ہے گوشہ گوشہ تاباں تاباں رہ شمس الفجٰی میں روشنی ہے ہوئے روشن مکاں و لا مکاں ہیں وہ روئے والضحی میں […]

قرب انوار مدینہ سے چمکتا ہُوا دِل

چاند تاروں سے سوا خود کو سمجھتا ہُوا دِل آج چہکا ہے مدینے کے کبوتر کی طرح گنبدِ سبز کے اطراف میں اُڑتا ہُوا دِل اپنی قسمت پہ بہت ناز کِیا کرتا ہے حرمِ پاک کےاِک طاق میں رکھا ہُوا دِل مجھ سے پہلے درِ احمد سے لپٹنا ہے اسے میرے قابو میں کہاں ہے […]

قسیم ِ نور و تجلی کی ذات روشن ہے

قسیمِ نور و تجلی کی ذات روشن ہے سراپا حاملِ حسنِ صفات روشن ہے حریمِ جاں میں ہے عشقِ شہِ امم کا چراغ سو میرے دل کی ابھی کائنات روشن ہے رخِ نبی سے منور ہوئی ہے صبحِ ازل گھنیری زلف کے سائے میں رات روشن ہے اٹھی جو روشنی غارِ حرا سے حکمت کی […]

مدینے جو چلنے کا وقت آرہا ہے

گناہوں کے دُھلنے کا وقت آرہا ہے طلا ہوں محمد کے روضے کی جانب کہ قسمت چمکنے کا وقت آرہا ہے قدم بہ قدم دل مچلتا ہے میرا مدینے میں بسنے کا وقت آرہا ہے وہ چھائیں گھٹائیں، گھٹا ٹوپ سر پر کہ رحمت برسنے کا وقت آرہا ہے شفا مجھ کو خاک مدینہ سے […]

منزلِ راہِ عشق کا ہم کو پتہ دیا کہ یوں

آقا نے اپنے لطف سے رستہ دکھا دیا کہ یوں سربستہ جو نکات تھے اُن سب کی شرح ہو گئی پردہ ہر ایک راز سے یکسر اُٹھا دیا کہ یوں حیراں تھے سب بلندی و پستی ہوں ساتھ کس طرح شاہ و گدا کو آپ نے ساتھ میں لا دیا کہ یوں محکم ہے ربط […]

میں منیا نال یقین دے ، میں ویکھیا اکھاں نال

اوہدے ہتھ کھنڈی یسن دی ، اوہدے گھنگر والے بال اوہدے چارے پاسے نور ہے ، اوہدا ہرجا عین ظہور ہے اساں پیراں تے سر سٹیا، اساں چھذے سب جنجال اوہدی گھر گھر نوبت وجدی ، اے ازلی گل نہ اج دی او میم دی بکل مار کے گل کردا ساڈے نال اوہنوں ملنا سوکھی […]

نہ دولت نہ جاہ وحشم چاہتا ہوں

محمد کی خاکِ قدم چاہتا ہوں مجھے کام کیا التفاتِ جہاں سے میں ان کی نگاہِ کرم چاہتا ہوں بسے ہیں نگاہوں میں گیسو نبی کے تجھے اس لئے شامِ غم چاہتا ہوں سجاتا ہوں یوں ان کے جلوؤں سے دل کو مدینہ قریبِ حرم چاہتا ہوں ہوئے تھے جو طائف میں میرے نبی پر […]

وجہ فروغِ چہرہ خوباں تمہی تو ہو

آپ و ہوائے فصل بہاراں تمہی تو ہو تازہ ہے جس سے روئے نگاراں تمہی تو ہو پُرخم ہے جس سے زلفِ عروساں تمہی تو ہو صحرا ہیں جس سے رشکِ گلستان تمہی تو ہو ذرّے ہیں جس سے خلد بداماں تمہی تو ہو روشن سبھی چراغ تمہارے چراغ سے کہتے ہیں جس کو بوذر […]