بے خبر مخبرِ صادق کی خبر رکھتے ہیں
وہ اندھیرے کو بھی، صد رشک قمر رکھتے ہیں نور ذات احدیت کا سراپا، لیکن بشریت کا بھی رخ، خیرِ بشر رکھتے ہیں سر، کہاں ہوگا! گمانوں کا گماں، ناممکن آپ تو پاؤں بھی، تا عرشِ گزر رکھتے ہیں جلوہ صاحب معراج سے، روشن یہ ہوا جلوہ ذات بھی ، اندازِ بشر رکھتے ہیں ہم […]