ہر صبح ہے نورِ رُخِ زیبائے محمد

ہر شام ہے گیسوئے دل آرائے محمد جپتی نہیں نظروں میں دو عالم کی تجلّی ہے جب سے تصور میں سراپائے محمد آئینے میں خود آئینہ گر بول رہا ہے جو حکمِ خدا ہے وہی ثنائے محمد انسان کو اگر تربیتِ فکر و نظر ہو پھیلی ہوئی ہر سمت ہے دنیائے محمد کانٹے مرے تلووّں […]

ہم بناوٹ سے نہیں کہتے کہ ہم تیرے ہیں​

ہم ترے در کی اٹھاتے ہیں قسم ، تیرے ہیں​​ چوم کر جن کو ملے کیف و سرور و مستی​ کیسے تاثیر رسا نقشِ قدم تیرے ہیں​​ غم دنیا کبھی پہلے ، نہ اب ہوگا کبھی​ شکرِ ایزاد! کہ مرے سینے میں غم تیرے ہیں​​ ہوں ابوبکرؓ و عمرؓ ، یا کہ ہوں عثمانؓ و […]

ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے

آپ جیسے ہیں ویسی عطا چایئے کیوں کہیں یہ عطا وہ عطا چایئے آپ کو علم ہے ہم کو کیا چایئے اک قدم بھی نہ ہم چل سکیں گے حضور ہر قدم پہ کرم آپ کا چایئے آستانِ حبیب خدا چایئے اور کیا ہم کو اس کے سوا چایئے آپ اپنی غلامی کی دے دیں […]

ہمیشہ قریۂ اُمّی لقب میں رہتے ہیں

جہاں کہیں بھی ہوں حدِ ادب میں رہتے ہیں ازل کے دن سے ہیں تیرے غلام ابنِ غلام غرورِ نسبت و فخرِ نسب میں رہتے ہیں سوادِ روح میں صلِ علیٰ کی خوشبو ہے ثنا کے حرف جو دامانِ لب میں رہتے ہیں گدازِ نعت، بشر دوستی سکھاتا ہے ہر ایک شخص سے ملتے ہیں […]

ہے تشنئہ تکمیل مدینے کی تمنا

اے موت ابھی اور ہے جینے کی تمنا بس اکِ تمنا ہے قرینے کی تمنا وہ صرف تمنا ہے مدینے کی تمنا اللہ غنی رفعتِ ایوانِ محمد ہے عرشِ الہیٰ کو بھی زینے کی تمنا دو بوند ملے ساغر ماَزاع سے ساقی بس اور نہیں کچھ مجھے پینے کی تمنا قسمت سے ملا آمنہ کا […]

یہ آرزو ہے جب بھی کُھلے اور جہاں کُھلے

یہ آرزو ہے جب بھی کُھلے اور جہاں کُھلے بس مدحتِ حضور میں میری زباں کُھلے یادِ رسولِ پاک میں آنکھیں برس پڑیں دنیا کے سامنے جو میری داستان کُھلے کُھل جائے ایک بار درِ رحمت تمام مطلق یہ آرزو نہیں قصرِ جناں کُھلے میرے نصیب کا بھی ستارہ ہو اوج پر میرے لیے حضور […]

یہاں پر نہیں ہے مرا دل وہاں ہے

یہاں پر نہیں ہے مرا دل وہاں ہے "جہاں روضئہ ُپاکِ خیرالورٰی ہے” عطا جس کو معراج رب نے کیا ہے وہی مصطفی ہے رسول خدا ہے یہ خاکِ مدینہ یہ عنبر سے اعلا یہاں پہ نبی کا پڑا نقش پا ہے محمد محبت کا نورِ مجسم سراپا محمد کا سب سے جدا ہے چلو […]

ان کی مدحت کو قلم تحریر کر سکتا نہیں

حرفِ موجِ نور کو زنجیر کر سکتا نہیں جس کا مسلک پیرویٔ اسوۂ سرکار ہے کوئی اس انسان کو تسخیر کر سکتا نہیں ذہن و دل کا مرکز و محور نہ ہو جب تک وہ ذات کوئی اپنی ذات کی تعمیر کر سکتا نہیں لا سے الا اللہ تک گر مصطفی رہبر نہ ہوں منزلوں […]

اُس ایک ذات کی توقیر کیا بیاں کیجے

وہی ہے نکتۂ ایماں اگر گماں کیجے نظر کو خیرہ کرے چاندنی میں اک تارا جو روبرو کبھی تصویرِ آسماں کیجے اُسی کو دیکھیے بزمِ ولا میں صدر نشیں اُسی کے اسمِ مبارک کو حرزِ جاں کیجے اُسی سے کہیے کہ ہے سر پہ دُھوپ محشر کی اُسی کی ذاتِ گرامی کو سائباں کیجے وہ […]

بندگی کا وہ کسی کو جو صِلا دیتے ہیں

ذرّہ خاک سے خورشید بنا دیتے ہیں جو ہو ان کے غلاموں کے غلاموں کا غلام مرتبہ اس کا زمانے میں بڑھا دیتے ہیں مجھ کو اس وقت دو عالم کا سکوں ملتا ہے دھڑکنیں جب وہ مرے دل کی جگا دیتے ہیں جس کے اشکوں پر نگہہِ لطف وکرم پڑ جائے اس کو پھر […]