مومن وہی ہے ان سے جو عہد وفا کرے

جاتی ہے جان جائے محبت کیا کرے ہو جس کے دل میں نُورِ نبوّت کی روشنی کیوں کر نمازِ عشقِ محمد قضا کرے ان کی گلی میں جس کو ہے جانے کی آرزو ہلکوں سے اپنی تنکے بھی جاکر چُنا کرے عرفان و آگہی کے افق اس پہ وا بھی ہوں جو بابِ شہر علم […]

کرم اُن کا مکرّر ہو گیا ہے

اشارہ نعت کہنے کا ہُوا ہے مرے وارث ہیں جبکہ خود محمد نہ ڈر کوئی نہ خوفِ ابتلا ہے ملا کرتا ہے مال و زر سبھی کو مجھے عشقِ نبی ورثہ ملا ہے ازل سے منتظِر جس کا تھا عالم قریشی ہاشمی وہ آ گیا ہے کبھی در سے نہ لوٹا کوئی خالی کرم بے […]

کچھ بھی نہیں تھا سیّدِ ابرار سے پہلے

اللہ کے محبوبِ طرحدار سے پہلے سرکار کی رحمت سے بنے شاہِ زمانہ ڈوبے تھے جہالت میں جو سرکار سے پہلے خوشبو نہ تھی گل میں نہ کوئی حسن چمن میں بے رنگ تھی دنیا شہِ ابرار سے پہلے آدم کو ملی ان کے تصدّق ہی معافی یعنی تھے محمد سبھی ادوار سے پہلے قرآں […]

ہوئی ظلم کی انتہا کملی والے

بچا کملی والے، بچا کملی والے غریبوں کی عزت کھلونا بنی ہے ازل سے امیروں کی گردن تنی ہے کرن کوئی چھوٹی نہیں بے کسوں کو جہاں روشنی ہے وہیں روشنی ہے نئے چاند سورج اُگا کملی والے بچا کملی والے، بچا کملی والے یہی ایک فیصد ہیں گھیرے خدائی اِنھیں کی بدولت ہے ہر […]

یوں شبیہِ مناجات بنتی رہے

حرف ڈھلتے رہیں نعت بنتی رہے میرے آقا کی محفل سلامت رہے رات کٹتی رہے بات بنتی رہے گر نہ جاؤں وہاں نعت کہتا رہوں یہ سبیلِ ملاقات بنتی رہے جاؤں ، لوٹُوں ، چلوں ، آؤں جاؤں وہاں یوں ہی تصویرِ حالات بنتی رہے پڑھ کے قرآن میں سوچے جاؤں انھیں اور تشریحِ آیات […]

آگیا تقدیر سےمیری مدینہ آ گیا

آ گیا تقدیر سے میری مدینہ آ گیا جس سے بام عرش پر پہنچوں وہ زینا آگیا ہر قدم پر موت کا مجھ کو پسینا آگیا عشق میں مرنا تو کیا مر مر کے جینا آگیا مجھ سے عاصی کا ہوا جب ان کی امت میں شمار حشر کے دن شرم سے مجھ کو پسینا […]

اُن کے ٹکڑوں پہ شہنشاہوں کو پلتے دیکھا

تاج والو کو بھی قدموں میں مچلتے دیکھا وہ سخی ایسے کہ قاسم بھی ہیں مختار بھی ہیں بھیک سے ان کی نصیبوں کو بدلتے دیکھا اللہ اللہ وہ بنتا گیا قرآنِ مُبیں دہنِ پاک سے جو لفظ نکلتے دیکھا جھولیاں آکے یہاں بھرتے ہیں لاکھوں منگتا چشمئہ فیض اسی در سے اُبلتے دیکھا اُن […]

اگر کوئی اپنا بھلا چاہتا ہے

اسے چاہے جس کو خدا چاہتا ہے درود ان بھیجو سلام ان پہ بھیجو یہی مومنوں سے خدا چاہتا ہے خدا کی رضا مصطفیٰ چاہتے ہیں خدا مصطفیٰ کی رضا چاہتا ہے فقیروں کے ملجا یہ منگتا تمہارا مدینے میں تھوڑی سی جا چاہتا ہے بنالیں مجھے اپنا مہمان آقا یہ ہر ایک شاہ و […]

اے عشقِ نبی میرے دل میں بھی سما جانا

مجھ کو بھی محمد کا دیوانہ بنا جانا جو رنگ کہ جامی پہ رومی پہ چڑھایا تھا اس رنگ کی کچھ رنگت مجھ پہ بھی چڑھا جانا قدرت کی نگاہیں بھی جس چہرہ کو تکتی ہیں اس چہرہ انور کا دیدار کرا جانا جس خواب میں ہوجائے دیدارِ نبی حاصل اے عشق کبھی مجھ کو […]

اے مطلع ایثار و مساوات کے نیر

اب اٹھ کے ترے در سے کہاں جائے گی دنیا اب کس سے ہو ماحول کے ظلمت کا تدارک اب تیرے سوا کون یہ ناسور بھرے گا پھر دور جہالت کی طرف پلٹی ہے تاریخ ہے پیش نظر آج وہی رنگ فضا کا اب قوم پہ وہ سخت گھڑی آئی ہے مولا جب وقت کے […]