پھر رہ نعت میں قدم رکھا
پھر دم تیغ پر قلم رکھا شافع عاصیاں کی بات چلی سر عصیاں ادب سے خم رکھا صانع کن کی غایت مقصود جس کی خاطر یہ کیف و کم رکھا باعث آفرنیش افلاک خاک کو جس نے محترم رکھا آستاں پر اسی کے ،جھکنے کو اسماں کی کمر میں خم رکھا مدحت شان مصطفی کے […]