پھر رہ نعت میں قدم رکھا

پھر دم تیغ پر قلم رکھا شافع عاصیاں کی بات چلی سر عصیاں ادب سے خم رکھا صانع کن کی غایت مقصود جس کی خاطر یہ کیف و کم رکھا باعث آفرنیش افلاک خاک کو جس نے محترم رکھا آستاں پر اسی کے ،جھکنے کو اسماں کی کمر میں خم رکھا مدحت شان مصطفی کے […]

قلم ہاتھ میں میرے آیا اگر ہے

ثنا مصطفےٰ کی ہی پیشِ نظر ہے ثنا مصطفےٰ کی جو پیشِ نظر ہے قلم میں سیاہی نہیں آبِ زر ہے اُسی کا ہے پرتو ، جہاں میں ، جدھر ہے نہیں جانِ رحمت سے نُوری کوئی بھی حبیبِ خُدا سا نہ کوئی بشر ہے کیا ہر زمانے نے تسلیم اس کو کہ بعد از […]

ہوں تو گناہگار پہ قسمت عجیب ہے

خوابوں میں پارسائی کی دولت عجیب ہے کیا دیجیے مثال کہ ملتی نہیں مثال ذکر رسول پاک کی لذت عجیب ہے اب بھی اسی جہان اذیت میں ہوں مگر جو دل پہ چھا رہی ہے وہ راحت عجیب ہے مجھ پر بھی ایک پل نگہ خاص التفات اے شاہ دو جہاں مری حالت عجیب ہے […]

آرام گہِ سید سادات یہ گنبد

یہ فخر زمیں، تاج سماوات، یہ گنبد ہے اس کی عطا قبلہ نمائی مرے دل کی آئینہ حق، زد طلسمات، یہ گنبد تابندہ ہیں اس پر تو سر سبز سے راہیں ہے بڑھ کے مہ و مہر سے دن رات یہ گنبد کھلتے ہیں یہاں آن کے امکاں دل و جاں کے تریاق سم دہر […]

رحم کُن بر حالِ من اے سیّدِ خیرُالاَنَام !

رحم کُن بر حالِ من اے سیّدِ خیرُالاَنَام من غلام ابنِ غلام ابنِ غلام ابنِ غلام آپ کی رحمت کو ممکن ہی نہیں ہرگز زوال رحمَتَ الِّلعَالَمِیں ! ہے آپ کی رحمت مدام آپ ہی لاریب ہیں بعد از خدا ذی مرتبہ تھا کوئی پہلے ، نہ ہوگا ، آپ سا عالی مقام نُورِ اوّل […]

پادشاہا! ترے دروازے پہ آیا ہے فقیر

چند آنسو ہیں کہ سوغات میں لایا ہے فقیر دیکھی دیکھی ہوئی لگتی ہے مدینے کی فضا اس سے پہلے بھی یہاں خواب میں آیا ہے فقیر اہل منصب کو نہیں بار یہاں پر لیکن میرے سلطان کو بھایا ہے فقیر اب کوئی تازہ جہاں خود اسے ارزانی کر کہ جہان دگراں سے نکل آیا […]

ہے وہی کنجِ قفس اوروہی بے بال وپری

ہے وہی کنجِ قفس اور وہی بے بال وپری وہی مَیں اور تمنّا کی وہی بے اثری لب ملے ہیں سو شب و روز ہیں فریاد کناں آنکھ پائی ہے سو ہے وقفِ پریشاں نظری کس سے کیجیے خلشِ سوزشِ پنہاں کا بیاں کون سنتا ہے یہاں قصۂِ شوریدہ سری السّلام اے شہِ جنّ و […]

چھیڑوں جو ذکر شاہِ زماں جھوم جھوم کر

چومیں ملائکہ یہ زباں جھوم جھوم کر اللہ الہ زارِ مدینے کی نزہتیں قربان ہے بہارِ جناں جھوم جھوم کر ذکرِ جناں پہ طیبہ نگاہوں میں پھر گیا پہنچی نظر کہاں سے کہاں جھوم جھوم کر جلوے جو ان کی نعلِ مقدس کے عام ہوں سوئے زمیں فلک ہو رواں جھوم جھوم کر چٹکی جو […]

یہ پیغامِ حبیبِ کبریا ہے

فقط اللہ کو سجدہ روا ہے تُو واحد ہے ، احد ہے ، تُو صمد ہے ترے جیسا نہ کوئی دوسرا ہے نہیں اس میں ذرا سا بھی کوئی شک کہ راہِ مصطفےٰ ، راہِ خدا ہے نہیں اوجھل جہاں میں کچھ بھی تجھ سے تجھے ہر شے کے بارے میں پتا ہے !عطا کر […]

کس منہ سے شکر کیجیے پروردگار کا

عاصی بھی ہوں تو شافع روزِ شمار کا گیسو کا ذکر ہے تو کبھی روئے یار کا یہ مشغلہ ہے اب مرا لیل و نہار کا چلنے لگی نسیمِ سحر خلد میں ادھر دامن اِدھر بلا جو شہِ ذی وقار کا دامن پکڑ کے رحمتِ حق کا مچل گیا اللہ رے حوصلہ دل عصیاں شعار […]