جہان بھر میں نمایاں ہے اِک نظارۂ خیر
وہ عالمین کی رحمت کا استعارۂ خیر بکھر ہی جانا تھا وحشت کے شر سمندر میں نظر میں رہتا ہے میرے مگر کنارۂ خیر مثالِ گنبدِ خضریٰ نہیں بجز اِس کے زمینِ نور پہ رکھا ہے شاہ پارۂ خیر قصورِ قیصر و کسریٰ دہل گئے جس سے عرب کی وادی میں گونجا وہ ایک نعرۂ […]