جہان بھر میں نمایاں ہے اِک نظارۂ خیر

وہ عالمین کی رحمت کا استعارۂ خیر بکھر ہی جانا تھا وحشت کے شر سمندر میں نظر میں رہتا ہے میرے مگر کنارۂ خیر مثالِ گنبدِ خضریٰ نہیں بجز اِس کے زمینِ نور پہ رکھا ہے شاہ پارۂ خیر قصورِ قیصر و کسریٰ دہل گئے جس سے عرب کی وادی میں گونجا وہ ایک نعرۂ […]

اے شاہِ امم، سیّدِ ابرار یا نبی

بن جائے کوئی صورتِ دیدار یا نبی اِک لفظِ ناتمام ہے اور وہ بھی زیرِ لب جذبِ دروں کو مہلتِ اظہار یا نبی کیسے مَیں جوڑوں خوابِ شکستہ سے کوئی خواب کیسے رہے وہ کیفِ کرم بار، یا نبی چھایا رہے یہ ابرِ عطا دشتِ شوق پر ٹھہری رہے یہ زُلفِ طرح دار یا نبی […]

خدائے کل کی محبت کا انتخاب حضور

نصابِ عشق کی کامل تریں کتاب حضور ستارے تھے جو خبر دے رہے تھے طلعت کی ہیں ُکہنہ چرخِ نبوت کے آفتاب حضور حضور آپ کے آنے سے معتبر ٹھہری وگرنہ زیست تو جیسے تھی اِک سراب، حضور شہودِ خالقِ مطلق کا سب سے تاباں نشاں وجودِ خلقِ دو عالَم کی آب، تاب حضور الگ […]

حاضری بارِ دگر ہو جائے گی

دیکھنا اُن کی نظر ہو جائے گی وصل کی اجلی سحر ہونے کو ہے ہجر کی شب مختصر ہو جائے گی حالِ دل کہنے سے، یکسر بیشتر میرے آقا کو خبر ہو جائے گی زندگی وہ زندگی ہو گی، کہ بس کوئے جاناں میں بسر ہو جائے گی آپ کا رخ حشر میں ہوگا جدھر […]

دل کی دہلیز پر قدم رکھا

اُس نے کتنا مِرا بھرم رکھا اِک دُعائے شکستہ حرف کو بھی اُس کی بخشش نے محتشم رکھا پاسِ آدابِ دید تھا واللہ آنکھ پتھر تھی، دل کو نم رکھا خود خطاؤں نے آنکھ جھپکا دی اُس نے پیہم مگر کرم رکھا سوچتا ہوں مدینہ بستی میں رب نے کیا کیا نہیں بہم رکھا رُخ […]

چوم آئی ہے ثنا جُھوم کے بابِ توفیق

کس سے ممکن ہے کرے کوئی حسابِ توفیق اذن رہتا ہے تری نعت کا ہر سانس کے ساتھ پڑھتا رہتا ہوں مَیں دن رات نصابِ توفیق پیش منظر میں ہے خوشبوئے مجسم پیہم کھِل اُٹھا ہے مرے آنگن میں گلابِ توفیق اِک تری نعت تری شان کے لائق آقا غارِ ادراک پہ نازل ہو کتابِ […]

حبس کے شہر میں اِک تازہ ہَوا کا جھونکا

بخدا نعت ہے بس اُن کی عطا کا جھونکا صحنِ احساس میں کھِل اُٹھتے ہیں رنگین گلاب دل دریچے سے جو آتا ہے ثنا کا جھونکا درِ ایجاب و کرم کھول گیا ہے یکسر مغفرت تھامے ہوئے اُن کی رضا کا جھونکا تیرگی قریۂ احساس میں در آئی ہے اے خدا بھیج مدینے کی ضیا […]

رحمت کے موسموں کے پیمبر حضور ہیں

بخشش ، کرم ، عطا کے سمندر حضور ہیں دُنیائے ہست و بود تھی امکانِ ہست و بود ایقاں نواز نور کے پیکر حضور ہیں جذبوں نے حرفِ شوق کے سارے سخن لکھے لیکن فصیلِ نعت سے اوپر حضور ہیں آتے رہے چراغ بہ کف منزل آشنا سب رہبروں کے آخری رہبر حضور ہیں جاں […]

اُبھر رہی ہے پسِ حرف روشنی کی نوید

کہ تیری نعت ہے سرکار زندگی کی نوید اُداس لمحوں میں رہتی ہے ساتھ ساتھ مرے ہے بے کلی میں تری یاد اِک خوشی کی نوید حدیثِ قولی ہو، فعلی ہو یا کہ تقریری زمانہ ان سے ہی لیتا ہے آگہی کی نوید نثار شان و شرف پر ترے کہ جن کے سبب غلام جسم […]

جائے تسکین ہے اور شہرِ کرم ہے، پھر بھی

جائے تسکین ہے اور شہرِ کرم ہے ، پھر بھی خلد ، صحرائے مدینہ سے تو کم ہے ، پھر بھی گو گرفتارِ معاصی ہے سرشتِ نادم ظلِ الطاف تو ہر وقت بہم ہے ، پھر بھی عشق پڑھ پڑھ کے ترے چہرۂ دلکش کا نصاب حسن بڑھ بڑھ کے تری زلف کا خَم ہے […]