تِرا مفاد بھی ہم کو دکھائی دیتا ہے
وگرنہ کون کسی کو بھلائی دیتا ہے کبھی غریب کو عزت گنوانی پڑتی ہے کبھی لگان میں پوری کمائی دیتا ہے مِری ہی سوچ کی چاندی ہے میرے بالوں میں قلم کو میرا لہو روشنائی دیتا ہے کبھی جھمیلے سے باہر نکل سکے تو سُن وہ غدر جو مِرے اندر سنائی دیتا ہے مِرا ہی […]