پڑا ہوا ہے بہت سے چہروں پہ مستقل جو غبار کیا ہے
ذرا کبھی آئینوں سے پوچھو، نگاہ کا اعتبار کیا ہے یہ زندگانی تو یوں لگے ہے، ہو کھیل کٹھ پتلیوں کا جیسے ہے اور ہاتھوں میں ڈور ہی جب تو پھر مرا اختیار کیا ہے شکستہ دل ہیں بہت سی کلیاں ،بدن دریدہ ہیں پھول سارے ہیں خار زاروں میں قید آنکھیں، کہ جانتی ہیں […]