یوں تعزیت پہ آکے محبت کی خوبیاں ؟
اے میرے غم گسار ، یہ اچھا نہیں کیا
معلیٰ
اے میرے غم گسار ، یہ اچھا نہیں کیا
اب میسر دھوپ میں ہیں زلف کے سائے کہاں؟ جانے والے سوچ کر جانا کہ بے حد شوخ ہے کیا پتہ ہے ایسے دل کا کس پہ آ جائے کہاں؟ تیرے میرے گھر میں جو دیوار حائل ہوگئی تیشۂ پُرزور کو مشکل ہے کہ ڈھائے کہاں؟ تم انا کے پاسباں تھے، ہم بھی غیرت کے […]
سمندر کیا ہے ؟ آگاہی کناروں سے نہیں ہوتی مری قسمت ہے میرے ہاتھ میں، ہے کون جو بدلے؟ کہ یہ جرات تو خود میرے ستاروں سے نہیں ہوتی کسی اُمت کسی ملت کی اونچائی حقیقت میں معیاروں سے تو ہوتی ہے مِناروں سے نہیں ہوتی مجھے ان اپنے پیاروں سے کوئی شکوہ نہیں کیونکہ […]
باجرے کی جو اک خشک روٹی ملی ، اس میں چڑیوں کا حصہ بھی رکھتے رہے کتنی چھوٹی سی بستی تھی بستی مری ، اور بستی میں کتنے بڑے لوگ تھے اوس موتی نما ، اشک موتی نما ، اور پیشانیوں کا پسینہ گہر شہر کیا تھا جڑاو گُلو بند تھا جس میں موتی کے […]
امکان واپسی کے ، اگر تھے ، نہیں رہے کیا خاک بچ گیا ہے اگر خاک بچ گئی یعنی جو لوگ خاک بسر تھے ، نہیں رہے ہم جذب ہو گئے سو رہے سجدہ گاہ میں سجدے میں اور جتنے بھی سر تھے ، نہیں رہے یوں تو رہا ہجوم چراغوں کے آس پاس جو […]
میرا یہ عقیدہ ہے بلا شائبۂ شک محدود نہیں ذکرِ نبی اہلِ زمیں تک ہے بزمِ ملائک میں سرِ عرش بھی چرچا فرمودۂ ربی ہے ’’ رفعنا لک ذکرک‘‘ توصیف کریں سب اہلِ سخن اجمالی کملی والے کی تکمیلِ ثنا ممکن ہی نہیں اس کالی کملی والے کی نام اونچا کملی والے کا شان عالی […]
ہم بھی تھک ہار کے اب شہرِ فسوں سے نکلے وہ بھی گویا کہ دھواں بن کے فضآء میں بکھرا ہم بھی شعلے کی طرح اپنی حدوں سے نکلے چوٹ پڑتی رہی نقارے پہ اک عمر تلک صرف ہم تھے کہ جو درانہ صفوں سے نکلے ایک پتھر کی طرح گرتے ہوئے یاد آیا جوشِ […]
کہ چاکِ زخمِ جگر کو سیا سیا ، نہ سیا جو کاٹتے تھے مسافت ، مسافتوں میں کٹے سفر کا کیا ہے کسی نے کیا کیا ، نہ کیا فریب عشق ، ترا رقص ہی قیامت ہے فریب حسن کسی نے دیا دیا ، نہ دیا ہر ایک تہمتِ وحشت ، ہمی سے وابستہ ہمارا […]
بات یوں بھی نہیں تھی کہنے کی حاتمِ عشق کی حویلی بھی ، اب کہاں رہ گئی ہے رہنے کی ڈوبنا کون چاہتا ہے مگر؟ اور ہمت نہیں ہے بہنے کی اب بھرم ٹوٹتا ہے ، تو ٹوٹے بے دلی اب نہیں ہے سہنے کی اور پھر ، تیرگی میں ڈوب گئی جھلملاہٹ ، تمہارے […]
ہے اَثاثہ یا ہے اَثاثہ سا تیرا میرا نصیب ہے جیسے ایک پیاسا اور ایک پیاسا سا فون پر خامشی کا لہجہ وہ تھا شناسا یا تھا شناسا سا سانس آنا ہی زندگی کا بس ہے خُلاصہ یا ہے خُلاصہ سا بھیک کے واسطے ضروری نہیں کوئی کاسَہ یا کوئی کاسَہ سا