مسلسل ذہن میں ہوئی غارت گری کیا ہے

سخنور گر یہی فن ہے تو پھر دیوانگی کیا ہے جنون و کرب میں اوہام کو الہام کہتا ہوں فقط خفقان کا عالم ہے ورنہ شاعری کیا ہے سخن کیا ہے؟ مہذب نام ہے بکواس کرنے کا معزز طرزِ دریوزہ گری ہے، زندگی کیا ہے تخیل ہے کہ عریاں عالمِ وحشت میں پھرتا ہے اگر […]

دامان تار تار ، گریباں پھٹے ہوئے

لوٹے ہیں گردِ راہ ِ وفا سے اٹے ہوئے تم نے چھوا تو ٹوٹ کے ریزے بکھر گئے ہم اپنی خواہشوں میں کھڑے تھے بٹے ہوئے ہم صرف اک تخیلِ آوارہ گرد ہیں مدت ہوئی ہے ذہنِ رساء سے کٹے ہوئے دل سے ترے خیال کی تصویر بھی گئی دیوار کا نصیب فقط چوکھٹے ہوئے […]

ڈھونڈ کر لائے تھے کل دشتِ جنوں کا راستہ

اب جنونِ عشق کا مرہم تلاشہ جائے گا آئیگا وہ وقت جس کی آس تک موہوم ہے جائے گا یہ درد جو ہے بے تحاشہ ، جائے گا پھر ترے کوچے کی رونق ہیں فدایانِ جنوں جس طرف جائے تماشہ گر، تماشہ جائے گا کب تلک مالِ غنیمت میں جواہر آئیں گے معرکہ گاہوں سے […]

جو خود سپردگی تھی جنوں کی اساس میں

اب ممکنات میں نہ قرین قیاس میں اعصاب مرتعش تو سماعت میں شور ہے لایا گیا ہوں کھینچ کے ہوش و حواس میں عریاں ہوئے نہ عیب بہرحال شکر ہے پیوند بے شمار ہیں چاہے لباس میں کس کس کے بوکھلا کے گلے سے نہیں لگا کتنے ہی ہاتھ تھام کے دیکھے ہراس میں کاسے […]

پایا گیا ہے اور نہ کھویا گیا مجھے

میرا ہی ہاتھ تھام کے رویا گیا مجھے میں سخت جان جھیل گیا طنزیہ ہنسی سو میرے آنسووں میں ڈبویا گیا مجھے کہنے کو چشم نم سے بہایا گیا ہوں میں لیکن پلک پلک میں پرویا گیا مجھے آخر کو میں سفید لبادے ہہ داغ تھا مل مل کے اضطراب میں دھویا گیا مجھے پھوٹوں […]

آرزو موجزن ہے نس نس میں

اور کچھ بھی نہیں مرے بس میں ضبط میں پھول پھل رہا ہے جنوں تم نے شعلہ دبا دیا خس میں میں نبھانے چلا تھا رسموں کو میں نبھاتا ہی رہ گیا رسمیں کاٹ کھانے کو دوڑتی ہیں مجھے میں نے کھائی تھیں جس قدر قسمیں تم بھی حق دار ہو برابر کے بانٹ لیتے […]

مجھے منظر سے پس منظر بنانے کے سفر میں

تمہارے حسن کو ہلکان ہونا پڑ گیا ہے نبھانی پڑ گئیں اس طور کم آمیزیاں تیری دل کم بخت کو ویران ہونا پڑ گیا ہے بدل دینی پڑی ہے سمت مجبوراً مسافت کی مجھے موجود سے امکان ہونا پڑ گیا ہے اگر دالان بے رونق دکھائی دے تو یہ سمجھو مجھے دہلیز پر قربان ہونا […]

ہم اپنے اعمال پہ اپنے اندر ڈوب کے مر جاتے ہیں

جیسے سورج روز افق میں جا کر ڈوب کے مر جاتے ہیں اس کوٹھی میں رہنے والے جانے ایسا کیا کرتے ہیں۔ کوئی پوچھے تواس گھر کے نوکر ڈوب کے مر جاتے ہیں ”میری تیراکی کے آگے دریا بھی پانی بھرتا ہے” ایسا دعویٰ کرنے والے اکثر ڈوب کے مر جاتے ہیں ساحل کا احسان […]

گناہ کیا ہے؟ حرام کیا ہے؟ حلال کیا ہے؟ سوال یہ ہے

مجھے محبت سے کوئی روکے مجال کیا ہے؟ سوال یہ ہے وفا بھی میری،ادا بھی میری، دغا بھی میری، جفا بھی میری تو پھر محبت میں یار تیرا کمال کیا ہے؟ سوال یہ ہے ہیں بال بکھرے، ہے چال بہکی، یہ کون ہے آئینے میں میرے؟ اور اس سے بڑھ کر کہ اس کے گالوں […]

وہ میرے پاس آ کے حال جب معلوم کرتے ہیں

گزرتی ہے جو مجھ پر لوگ سب معلوم کرتے ہیں رقیب اس کو بناتے ہیں جو ہو اونچے گھرانے سے محبت میں بھی ہم نام و نسب معلوم کرتے ہیں جب آنکھیں بھیگ جاتی ہیں تری ، تو یار یاروں کے گریباں ہاتھ میں لے کر سبب معلوم کرتے ہیں ہم آدابِ محبت کی حدوں […]