عشق میں نے لکھ ڈالا قومیت کے خانے میں

اور تیرا دل لکھا شہریت کے خانے میں مجھ کو تجربوں نے ہی باپ بن کے پالا ہے سوچتا ہوں کیا لکھوں ولدیت کے خانے میں میرا ساتھ دیتی ہے میرے ساتھ رہتی ہے میں نے لکھا تنہائی زوجیت کے خانے میں دوستوں سے جا کر جب مشورہ کیا تو پھر میں نے کچھ نہیں […]

میں جم سے آ رہا ہوں آستیں چڑھی ہوئی ہے

ضرور اس کی نظر مجھ پہ ہی گڑی ہوئی ہے میں جم سے آ رہا ہوں آستیں چڑھی ہوئی ہے مجھے ذرا سا برا کہہ دیا تو اس سے کیا وہ اتنی بات پہ ماں باپ سے لڑی ہوئی ہے اسے ضرورت پردہ ذرا زیادہ ہے یہ وہ بھی جانتی ہے جب سے وہ بڑی […]

وہی بالوں میں دو چُٹیاں، وہی اک ہاتھ میں اِملی

تُو اتنے سال میں ویسے ذرا سی بھی نہیں بدلی جھپکتی ہی نہیں تُو دیکھ کے مجھ کو پلک اب تک تری آنکھوں میں دِکھتی ہے محبت کی جھلک اب تک تو اب بھی دور ہے مجھ سے، مجھے ہے یہ قلق اب تک کبھی تھا مجھ پہ جو تیرا، نہ بدلا ہے وہ حق […]

کہیں عید ،ہولی ،دِوالی ،محبت

جہاں ہم نے پائی منا لی محبت جواں کر کے ہاتھوں سے رخصت کیا تھا یہ دن دیکھنے کو تھی پالی محبت؟ محبت کی مہریں کرو ثبت اتنی پتہ ناں چلے کہ ہے جعلی محبت نہیں میں نے کرنی، لو میں باز آئی وہ کرنے کو کہتا ہے خالی محبت کچھ اُس نے بھی رُکنا […]

کوئی دیکھتا ہے تو دیکھ لے، مجھے عید مِل

ارے عید ہے، مُجھے باقیوں سے شدید مِل یہ جو عید ہے کوئی ایک پٙل کی خوشی نہیں فقط ایک بار ہی مجھ سے کیوں، تُو مزید مِل جہاں لمبے عرصے کے بعد ملنا بھی خوب ہو وہاں روز روز کا میل بھی ہے مفید، مِل ترے ساتھ لی تھیں جو سیلفیاں کہیں کھو گئیں […]

اسی کے ہاتھ میں اب فیصلہ تھا،ہمارے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں تھا

اسی کے ہاتھ میں اب فیصلہ تھا، ہمارے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں تھا جب اس نے ہاتھ میں خنجر اُٹھایا ، ہمارے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں تھا ہمارے ذہن میں تھاتیرا چہرہ، ہماری آنکھ میں تھے تیرے آنسو ہمارے دل میں تھی تیری تمنا، ہمارے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں تھا عدو کے […]

تِری ہی شکل کے بُت ہیں کئی تراشے ہوئے

نہ پُوچھ کعبہِ دِل میں بھی کیا تماشے ہوئے ہماری لاش کو میدانِ عشق میں پہچان بجھی ہوئی سی ہیں آنکھیں تو دلخراشے ہوئے بوقتِ وصل کوئی بات بھی نہ کی ہم نے زباں تھی سُوکھی ہوئی، ہونٹ اِرتعاشے ہوئے وہ کیسے بات کو تولیں گے، اور بولیں گے؟ جو پٙل میں تولے ہوئے اور […]

پناہ کیسی؟ فقیروں کی جس کو آہ ملے

ہٹاو شاہ کہ درویش کو بھی راہ ملے نظر چرا کے محبت سے آج یوں نکلا کہ قرض دار کو رستے میں قرض خواہ ملے وہ پیار پیار میں جھگڑے بھی تو خدا کی پناہ پھر اس کے بعد ملے بھی تو، بے پناہ ملے اور اب تو شہر سخن کا بھی یہ ہوا معیار […]