نقش و نمود و نام کو اللہ پہ چھوڑ دے
بس شعر کہہ، دوام کو اللہ پہ چھوڑ دے ایسے نحیف شخص کی طاقت سے خوف کھا جو اپنے انتقام کو اللہ پہ چھوڑ دے
معلیٰ
بس شعر کہہ، دوام کو اللہ پہ چھوڑ دے ایسے نحیف شخص کی طاقت سے خوف کھا جو اپنے انتقام کو اللہ پہ چھوڑ دے
اور تیرا دل لکھا شہریت کے خانے میں مجھ کو تجربوں نے ہی باپ بن کے پالا ہے سوچتا ہوں کیا لکھوں ولدیت کے خانے میں میرا ساتھ دیتی ہے میرے ساتھ رہتی ہے میں نے لکھا تنہائی زوجیت کے خانے میں دوستوں سے جا کر جب مشورہ کیا تو پھر میں نے کچھ نہیں […]
ضرور اس کی نظر مجھ پہ ہی گڑی ہوئی ہے میں جم سے آ رہا ہوں آستیں چڑھی ہوئی ہے مجھے ذرا سا برا کہہ دیا تو اس سے کیا وہ اتنی بات پہ ماں باپ سے لڑی ہوئی ہے اسے ضرورت پردہ ذرا زیادہ ہے یہ وہ بھی جانتی ہے جب سے وہ بڑی […]
تُو اتنے سال میں ویسے ذرا سی بھی نہیں بدلی جھپکتی ہی نہیں تُو دیکھ کے مجھ کو پلک اب تک تری آنکھوں میں دِکھتی ہے محبت کی جھلک اب تک تو اب بھی دور ہے مجھ سے، مجھے ہے یہ قلق اب تک کبھی تھا مجھ پہ جو تیرا، نہ بدلا ہے وہ حق […]
جہاں ہم نے پائی منا لی محبت جواں کر کے ہاتھوں سے رخصت کیا تھا یہ دن دیکھنے کو تھی پالی محبت؟ محبت کی مہریں کرو ثبت اتنی پتہ ناں چلے کہ ہے جعلی محبت نہیں میں نے کرنی، لو میں باز آئی وہ کرنے کو کہتا ہے خالی محبت کچھ اُس نے بھی رُکنا […]
ارے عید ہے، مُجھے باقیوں سے شدید مِل یہ جو عید ہے کوئی ایک پٙل کی خوشی نہیں فقط ایک بار ہی مجھ سے کیوں، تُو مزید مِل جہاں لمبے عرصے کے بعد ملنا بھی خوب ہو وہاں روز روز کا میل بھی ہے مفید، مِل ترے ساتھ لی تھیں جو سیلفیاں کہیں کھو گئیں […]
اسی کے ہاتھ میں اب فیصلہ تھا، ہمارے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں تھا جب اس نے ہاتھ میں خنجر اُٹھایا ، ہمارے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں تھا ہمارے ذہن میں تھاتیرا چہرہ، ہماری آنکھ میں تھے تیرے آنسو ہمارے دل میں تھی تیری تمنا، ہمارے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں تھا عدو کے […]
نہ پُوچھ کعبہِ دِل میں بھی کیا تماشے ہوئے ہماری لاش کو میدانِ عشق میں پہچان بجھی ہوئی سی ہیں آنکھیں تو دلخراشے ہوئے بوقتِ وصل کوئی بات بھی نہ کی ہم نے زباں تھی سُوکھی ہوئی، ہونٹ اِرتعاشے ہوئے وہ کیسے بات کو تولیں گے، اور بولیں گے؟ جو پٙل میں تولے ہوئے اور […]
ہٹاو شاہ کہ درویش کو بھی راہ ملے نظر چرا کے محبت سے آج یوں نکلا کہ قرض دار کو رستے میں قرض خواہ ملے وہ پیار پیار میں جھگڑے بھی تو خدا کی پناہ پھر اس کے بعد ملے بھی تو، بے پناہ ملے اور اب تو شہر سخن کا بھی یہ ہوا معیار […]
سرِ صحرا کہیں تھوڑی سی چھاں ہوتی تو اچھا تھا غم وآلام سے ڈر کے مرا دل مجھ سے کہتا ہے کہ ایسے میں دعا دینے کو ماں ہوتی تو اچھا تھا