تیری جدائی میں مرنے والے فنا کے تیروں سے بے خطر ہیں
اجل کی ہم نے ہنسی اُڑائی اُسے بھی مارا تھکا تھکا کر
معلیٰ
اجل کی ہم نے ہنسی اُڑائی اُسے بھی مارا تھکا تھکا کر
کون سی بات کو کس طرح بیاں ہونا ہے
جس کی آنکھوں میں کٹی تھیں صدیاں اس نے صدیوں کی جدائی دی ہے
یہ سرفروش سپاہی کسی کے بیٹے ہیں یہ سرحدوں پہ کھڑے فوجیوں کا ہے احسان کہ ہم سکون سے اپنے گھروں میں لیٹے ہیں
ایک ہی وار پہ تو میرے عدو ! کانپ اٹھے میری آنکھوں میں کئی خواب ہوئے قتل ، سو لوگ دیکھ کر اشک کے بدلے میں لہو ، کانپ اٹھے یہ بھی قسمت تھی رہی پیاس ادھوری صاحب ہاتھ آتے ہی محبت کے سبو کانپ اٹھے چوٹ ایسی تھی کہ لرزے تھے دروبام وجود زخم […]
آج کل کوئی کشش ہوتی نہیں ہے خون کی اس کی اپنی منطقیں ہیں اس کے اپنے فلسفے بھاڑ میں جھونکی ہیں اس نے ڈگریاں قانون کی اب جماعت میں مجھے آنا ہے اول کرب کی سب شقیں رٹ لی ہیں میں نے ہجر کے مضمون کی عمر بھر یہ بد گمانی کی گرہیں کھلنی […]
تو مرے قابل نہیں شہرت کمینی ،مر کہیں تھوڑے دن تو دے مجھے مہلت سکون قلب کی میری کائر گریہ زاری ہجر بینی ، مر کہیں اے مری ہجرت کشائی چھوڑ دے پاوں مرے خود فریبی ، لامکانی ، بے زمینی ، مر کہیں بحث کرتی دل میں اگتی اک مسلسل ، بے بسی مجھ […]
جس طرح سوکنیں الجھتی ہیں میں ہوں آسان سا ہدف ان کا روز کچھ الجھنیں الجھتی ہیں نامرادی کے جن ستاتے ہیں ہجر کی ڈائنیں الجھتی ہیں جب انہیں چپ سے باندھ دیتے ہیں خود سے پھر دولہنیں الجھتی ہیں زندگی یوں الجھ گئی جیسے ریشمی کترنیں الجھتی ہیں عشق زنجیر جس میں کومل اب […]
مگر تم کو نہیں لگتا ؟ جدائی موت ہوتی ہے
آگ لہجوں کی لگائی بھی بری لگتی ہے پھر کتابوں میں کوئی اور نظر آتا ہے عشق ہو جائے پڑھائی بھی بری لگتی ہے