خاک ہو جائے ترا شوق نمو کانپ اٹھے

ایک ہی وار پہ تو میرے عدو ! کانپ اٹھے میری آنکھوں میں کئی خواب ہوئے قتل ، سو لوگ دیکھ کر اشک کے بدلے میں لہو ، کانپ اٹھے یہ بھی قسمت تھی رہی پیاس ادھوری صاحب ہاتھ آتے ہی محبت کے سبو کانپ اٹھے چوٹ ایسی تھی کہ لرزے تھے دروبام وجود زخم […]

خیریت مرہون ہوکر رہ گئی ہے فون کی

آج کل کوئی کشش ہوتی نہیں ہے خون کی اس کی اپنی منطقیں ہیں اس کے اپنے فلسفے بھاڑ میں جھونکی ہیں اس نے ڈگریاں قانون کی اب جماعت میں مجھے آنا ہے اول کرب کی سب شقیں رٹ لی ہیں میں نے ہجر کے مضمون کی عمر بھر یہ بد گمانی کی گرہیں کھلنی […]

دشت دل میں خواہشوں کی آفرینی ، مر کہیں

تو مرے قابل نہیں شہرت کمینی ،مر کہیں تھوڑے دن تو دے مجھے مہلت سکون قلب کی میری کائر گریہ زاری ہجر بینی ، مر کہیں اے مری ہجرت کشائی چھوڑ دے پاوں مرے خود فریبی ، لامکانی ، بے زمینی ، مر کہیں بحث کرتی دل میں اگتی اک مسلسل ، بے بسی مجھ […]

دل سے یوں دھڑکنیں الجھتی ہیں

جس طرح سوکنیں الجھتی ہیں میں ہوں آسان سا ہدف ان کا روز کچھ الجھنیں الجھتی ہیں نامرادی کے جن ستاتے ہیں ہجر کی ڈائنیں الجھتی ہیں جب انہیں چپ سے باندھ دیتے ہیں خود سے پھر دولہنیں الجھتی ہیں زندگی یوں الجھ گئی جیسے ریشمی کترنیں الجھتی ہیں عشق زنجیر جس میں کومل اب […]