کی لوکاں تے تھپنی مرضی
آگے عشق دی اپنی مرضی
معلیٰ
آگے عشق دی اپنی مرضی
کیسے آوٗں میں تیری بانہوں میں عشق شامل نہ کر گناہوں میں خواب سوتے ہیں اب بھی چپکے سے میری آنکھوں کی خواب گاہوں میں ساتھ چلنے کا عہد کر تو چلوں چھوڑ جاتے ہیں لوگ راہوں میں جن میں دیکھا تھا بارہا خود کو اجنبیت تھی ان نگاہوں میں مت حقارت سے دیکھ دست-طلب […]
بھول جانے دیجئے بس بھول جانے دیجئے
وہ میرے حصے کا وقت یاروں میں بانٹ دے گا
آج کل نیند بھی اذیت ہے وقت بے وقت آنکھ کھلتی ہے پھر یونہی رات کے گذرنے کا اک تماشہ سا دیکھتی ہوں میں وقت تصویر کر گیا ہے مجھے اب نہ آواز ہے نہ بینائی کتنی خاموش بے بسی ہوں میں ٹوٹ کر چاہنے کی خواہش میں ٹوٹ کر چور ہو گئی ہوں میں […]
چہرے پہ کچھ ملال ہے اور دل اسیر رنج اپنے پروں کا کس قدر مجھ کو غرور تھا میری اڑان آسماں کی وسعتوں میں تھی چاروں طرف بساط سے بڑھ کر تھی سرخوشی لیکن کسی کو راس کب آتی ہے زندگی جتنی طلب ہو ، پاس کب آتی ہے زندگی پوروں پہ جتنے درد ہیں […]
آپ دستار اُٹھاو تو کوئی فیصلہ ہـو لوگ کہتے ہیں کہ سر ہوتے ہیں دستاروں میں
آپ میری ذات کا جتنا تماشہ کیجئے کب تلک روئیں گے میت رکھ کے اپنے سامنے بس سپرد خاک ان خوابوں کا لاشہ کیجئے آپ کی اس بے حسی نے مار ڈالا ہے مجھے بیٹھ کر اب میرے جیسے بت تراشا کیجئے فرق پڑنا ہی نہیں ہے آپ کی فطرت سے اب پل میں تولہ […]
اتنا نہ اٹھا سر کہیں خطرے میں نہ پڑ جائے یعنی میرا مطلب ہے یہ دستار وغیرہ
اتنی نفرت میں کروں تجھ سے کہ تو کانپ اٹھے