بیماریِ ہوائے تو تن را ضعیف کرد
گر نبضِ اُو نمی نگری بنگر آبِ چشم تیری خواہش و آرزو کی بیماری نے جسم کو ضعیف و لاغر کر دیا اگر تُو (ہاتھ پکڑ کر اُس کی ڈوبتی ہوئی) نبض نہیں دیکھتا تو آنکھوں میں آنسو ہی دیکھ لے
معلیٰ
گر نبضِ اُو نمی نگری بنگر آبِ چشم تیری خواہش و آرزو کی بیماری نے جسم کو ضعیف و لاغر کر دیا اگر تُو (ہاتھ پکڑ کر اُس کی ڈوبتی ہوئی) نبض نہیں دیکھتا تو آنکھوں میں آنسو ہی دیکھ لے
پرساں پرساں ز خلقِ عالم خبرش آساں آساں اگر نیابم وصلش بوساں بوساں لبِ من و خاکِ درش ڈرتے ڈرتے اُس کی کھوج میں چلا جاتا ہوں اور خلقِ عالم سے اُس کی خبر پوچھتا پھرتا ہوں اُس کا وصل اگر مجھے آسانی سے نہیں ملتا تو اُس کے در کی خاک پر اپنے ہونٹوں […]
گر بہ موج افتد گمانِ چینِ پیشانی مرا اگر دریا کی لہریں دیکھ کر میرے دل میں یہ شبہ بھی گزر جائے کہ دریا نے مجھے دیکھ کر پیشانی پر بل ڈال لیے ہیں تو میری غیرت کا یہ عالم ہے کہ پیاسا ساحل پر جان دے دوں گا مگر حلق تر نہ کروں گا
عمر آں بہتر کہ در پائے نگار آخر شود (کسی عاشق کے لیے) افسوس کا مقام ہے کہ وہ وفا کرنے میں مہندی کے رنگ سے بھی کم تر ہو،کیونکہ عمر وہی بہتر ہے کہ جو محبوب کے قدموں میں تمام ہو جائے، (جیسے مہندی کا رنگ وہیں قدموں میں لگے لگے ہی ختم ہو […]
خارِ خشک از منتِ ابرِ بہار آسودہ است جس دل میں کوئی آرزو نہ ہو وہ دل رنجِ یار سے فارغ اور آسودہ ہوتا ہے، جیسے کہ خشک کانٹا بہار کے بادل کے احسانوں سے بے نیاز ہوتا ہے
خارے کہ بوَد بر جگرِ مرد چہ دانند تمام لوگوں کی حاسد نظریں صرف وصل کے پُھول پر لگی ہوتی ہیں، لیکن وہ کانٹا کہ جو عاشقوں کے جگر میں ہوتا ہے اُس کے بارے میں وہ کیا جانیں
گر صبح ہست خاطرِ من شاد، شام نیست میں ہمیشہ اور ہر وقت ہی اس خیال میں ہوتا ہوں کہ جمالِ یار کا نظارہ کروں، اگر صبح کے وقت میرا دل شاد ہوتا ہے (نظارہ ہو جاتا ہے) تو افسوس شام کو نہیں ہوتا
بادہ گر خام بوَد، پختہ کند شیشۂ ما ہمارے دل میں غمِ دُنیا بھی غمِ محبوب بن جاتا ہے، شراب اگر کچی ہو (غمِ دنیا) تو ہمارا شیشۂ دل اُسے پختہ شراب (غمِ محبوب) بنا دیتا ہے
گفتا کہ چارہ عشق را صبر است یا آوارگی میں نے ایک صاحبِ دل سے پوچھا کہ دردِ عاشقی کا درمان کیا ہے؟ اُس نے کہا کہ عشق کا چارہ صبر ہے (اور اگر یہ نہ ہو سکے) تو پھر بس آوارگی
ہم خود بگو کہ چوں نکشم آہِ درد ناک دل خون ہو چکا ہے، جان تار تار ہے جگر گھائل ہے اور سینہ چاک،تُو خود ہی کہہ کہ میں کیسے دردناک آہیں نہ بھروں