ترساں ترساں ہمی روم بر اثرش

پرساں پرساں ز خلقِ عالم خبرش آساں آساں اگر نیابم وصلش بوساں بوساں لبِ من و خاکِ درش ڈرتے ڈرتے اُس کی کھوج میں چلا جاتا ہوں اور خلقِ عالم سے اُس کی خبر پوچھتا پھرتا ہوں اُس کا وصل اگر مجھے آسانی سے نہیں ملتا تو اُس کے در کی خاک پر اپنے ہونٹوں […]

تشنہ لب بر ساحلِ دریا ز غیرت جاں دہم

گر بہ موج افتد گمانِ چینِ پیشانی مرا اگر دریا کی لہریں دیکھ کر میرے دل میں یہ شبہ بھی گزر جائے کہ دریا نے مجھے دیکھ کر پیشانی پر بل ڈال لیے ہیں تو میری غیرت کا یہ عالم ہے کہ پیاسا ساحل پر جان دے دوں گا مگر حلق تر نہ کروں گا

حیف باشد در وفا کم بُودن از رنگِ حنا

عمر آں بہتر کہ در پائے نگار آخر شود (کسی عاشق کے لیے) افسوس کا مقام ہے کہ وہ وفا کرنے میں مہندی کے رنگ سے بھی کم تر ہو،کیونکہ عمر وہی بہتر ہے کہ جو محبوب کے قدموں میں تمام ہو جائے، (جیسے مہندی کا رنگ وہیں قدموں میں لگے لگے ہی ختم ہو […]

دائم دریں خیال کہ بینم جمالِ یار

گر صبح ہست خاطرِ من شاد، شام نیست میں ہمیشہ اور ہر وقت ہی اس خیال میں ہوتا ہوں کہ جمالِ یار کا نظارہ کروں، اگر صبح کے وقت میرا دل شاد ہوتا ہے (نظارہ ہو جاتا ہے) تو افسوس شام کو نہیں ہوتا

درمانِ دردِ عاشقی پرسیدم از صاحبدلے

گفتا کہ چارہ عشق را صبر است یا آوارگی میں نے ایک صاحبِ دل سے پوچھا کہ دردِ عاشقی کا درمان کیا ہے؟ اُس نے کہا کہ عشق کا چارہ صبر ہے (اور اگر یہ نہ ہو سکے) تو پھر بس آوارگی