تم نہ عریاں ہوئے غنیمت ہے

اس قدر روشنی کا کیا کرتا زندگی آخرش بسر کر دی اور اس زندگی کا کیا کرتا تنگ آیا ہوا ہو جو خود سے کوئی اس آدمی کا کیا کرتا جو مرے شعر سن کے آیا تھا وہ مری خامشی کا کیا کرتا منزلِ عشق مہرباں ہی سہی ذوقِ آوارگی کا کیا کرتا بے بسی […]

یہ یک رخی تو نہ تھی ، چو مکھی لڑائی تھی

میں ہارتا کبھی خود سے تو جیتتا تم کو عروج عشق کا پرچم تھا اور بقاء خوبی زوال مجھ کو مبارک ہو انتہا تم کو بہا ہی چاہتا ہوں وقت کے سمندر میں سلام وحشتِ کامل کو اور دعا تم کو

پھر ایک اور تماشہ گہِ محبت میں

جنون چلنے لگا چال اک قیامت کی مٹا سکے نہ غرورِ مسافرت اب تک نہ حادثے نہ کوئی مشکلیں مسافت کی نہ جانے کتنے مہ و سال کھو گئے ہوںگے یہ داستانِ مسافت ہے ایک مدت کی عجیب رنگِ سفر تھا کہ جس طرف بھی گئے دریچے کھولتی آئی ہوا محبت کی جو ٹھیک ٹھیک […]

مل چکی شکل یا نہ مل پائی

کوزہ گر ہم تو چاک سے اترے ہم بگولوں پہ شہسوار ہوئے خاک ہو کر ہی خاک سے اترے عکس اپنے پروں کا چمکا تو پانیوں پر چھپاک سے اترے جسم پگھلے ہوس کی دہشت سے پیرہن اس کی دھاک سے اترے پھر ہوا یوں کہ حافظے سے ترے ہم بہت انہماک سے اترے دل […]

وضاحت

تمہیں کیا خبر ہے محبت کی دیوی کہ جب شہرِ وحشت کی وسطی گلی میں تمہاری مسافت کا بِیڑا اٹھا کر تجسس پہ زینیں کسی جا رہی تھیں تو کچھ لوگ ایسے تھے جو برہنہ پاء مسافت کے آگاز کے منتظر تھے اگرچہ بدن پر جو پوشاک تھی ، وہ بدن کی طوالت سے کم […]

خانہ بدوش

مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میں خانہ بدوشوں کی پرانی گرد میں ڈوبی ہوئی میراث کا شاید کسی صورت میں وارث ہوں کوئی بھی اجنبی رستہ نگاہوں سے گزر جائے تو وہ میری نگاہوں میں اچانک گھر بنا لیتا ہے اور میرے قدم اس راستے کی گرد سے ملنے کو بانہیں کھول دیتے ہیں کوئی […]

بلندیوں کے نتائج سے ڈر چکا ہوں میں

سو اپنی سوچ کے پر ہی کتر چکا ہوں میں تجھے گنوا کے بھی جینا ، کمال کرنا تھا سو یہ کمال مری جان کر چکا ہوں میں یہ زیر و بم مرے سینے کا صرف دھوکا ہے میں سچ کہوں تو حقیقت میں مر چکا ہوں میں میں ایک شخص نہ تھا ، عشق […]

موت سے گفتگو

سیاہ ریشم کا بے شکن ملبوس ، سنگِ مرمر سی دودھیا رنگت سرو کے پیڑ کی طرح قامت ، آنکھ میں جھلملاہٹیں روشن موت اک سوگوار دوشیزہ اپنی آفاقیت بھری آنکھیں میرے چہرے پہ مرتکز کر کے اپنے سرگوشیوں سے لہجے میں مجھ سے یوں ہمکلام ہوتی ہے ” ائے کہ شاعر حسین لفظوں کے […]

ائے تو ، کہ جسے آج بھی خوابوں پہ یقیں ہے

خوابوں کا خدا کون ہوا؟ کوئی نہیں ہے یہ شعر بھلا کس کے ہوئے تجربے آخر کیا میرے علاوہ بھی مری ذات کہیں ہے وہ جو کہ خداوندِ سخن تھا ، سو کہاں ہے اس شکل کا یہ کون ہے جو خاک نشیں ہے جائیں تو کہاں جائیں ، گئے عہد کے کم رُو اس […]

خیرات

وقت کے ہاتھ پھیلے رہے دیر تک ہم بھی خیرات میں عمر دیتے رہے وقت ، کہ ایک ایسا گداگر ہوا جس کا کشکول جادو کا کشکول ہے جس میں سکہ گرا تو فنا ہو گیا اک دھوئیں کی طرح سے ہوا ہو گیا وقت ، کہ ایک ایسا گداگر ہوا جو کہ اندھا بھی […]