اب ترکِ آرزو ہی مناسب ، کہ آرزو
اس عہدِ ناشناس میں شرمندگی ہوئی سمجھے گئے فنون ، ہوس کی حکائیتیں رسوائیوں کا رزق مری شاعری ہوئی تیری ذہانتوں نے بچا لی ہے لاج ، اور عریاں بیان ہو کے مری سادگی ہوئی مٹی میں مل گئی ہے بصد عجز آخرش وہ جو جبین تھی ترے در پر دھری ہوئی خواہش عجیب تھی […]