اب ترکِ آرزو ہی مناسب ، کہ آرزو

اس عہدِ ناشناس میں شرمندگی ہوئی سمجھے گئے فنون ، ہوس کی حکائیتیں رسوائیوں کا رزق مری شاعری ہوئی تیری ذہانتوں نے بچا لی ہے لاج ، اور عریاں بیان ہو کے مری سادگی ہوئی مٹی میں مل گئی ہے بصد عجز آخرش وہ جو جبین تھی ترے در پر دھری ہوئی خواہش عجیب تھی […]

میں اپنی ذات سے ہجرت کا سانحہ سہہ لوں

تمہارے ہجر کی افتاد کوئی چیز نہیں میں چاہتا ہوں بتاؤں مگر بتاؤں کیا یقین کر کہ مجھے یاد کوئی چیز نہیں ہر ایک شب یہی مشکل کہ اب کہاں جاؤں بنامِ خانہِ برباد کوئی چیز نہیں وہ حال ہے کہ سرِ نامہِ کمال و ہنر سوائے عزتِ اجداد کوئی چیز نہیں مرے فنون کی […]

جب تلک باقی رہے آنکھوں میں بینائی دکھا

جو دکھانا چاہتا ہے ، عہدِ رسوائی دکھا لے ترے قدموں میں لا ڈالا ہے اپنی لاش کو اب اگر اعجاز رکھتا ہے ، مسیحائی دکھا خون سے لکھے ہوئے اشعار کی تشہیر پر جو ترے حصے میں آئی وہ پذیرائی دکھا تیری ہئیت ہی سراپا تذکرہ ہے دشت کا کیا ضرورت ہے کہ اس […]

رات کٹتی ہے مگر تارِ تنفس ہو کر

اور تو خوابِ سحر ہے سو تجھے کیا دیکھیں ایک اک کر کے سبھی خواب بکھرتے جائیں اور ہم دور کھڑے ہو کے تماشہ دیکھیں تیرے حصے میں خیانت نہیں کرنی آئی ہم اگر خواب بھی دیکھیں تو وہ آدھا دیکھیں کانچ ٹھہرے تو ترا عکس ہی صیقل کر لیں آئینہ ہو کے تجھے خود […]

حسابِ سود و زیاں بعد میں بتاتا ہوں

غبارِ خانہِ برباد بیٹھ تو جائے خموش جھیل پہ ساکت ہے زرد چاند جہاں وہیں پہ سر کو جھکائے کھڑے ہیں دو سائے بس ایک بار تعین تو منزلوں کا کرے مجھے جنون بھلے راہ بھی نہ دکھلائے ہوائے ہجر کثافت میں ریت ہو جیسے میں چاہتا ہوں مجھے سانس بھی نہیں آئے مرے خیال […]

کر کے دیکھا ہے بہت غَور ، نہیں سوجھتا ہے

حادثہ ہے کہ کوئی دَور ، نہیں سوجھتا ہے عہدِ موجود و گزشتہ کے جو مابین ہے ، وہ عمر ہے یا کہ ہے کچھ اَور ، نہیں سوجھتا ہے بات کیا خاک بناؤں کہ مقابل تم ہو کچھ بہانہ بھی تو فی الفَور ، نہیں سوجھتا ہے چھیڑ بیٹھا ہوں پھر اک بار اسی […]

واقف جہانِ غم سے نہ ہو ، اپنے غم سے ہو

ہونا ہے پائمال تو اپنے قدم سے ہو اب بھی اجل رسید جنوں منتظر ہیں ہم جیسے کہ لوٹنا ترا ممکن عدم سے ہو شوقِ تماش بین ، کوئی اور نام چُن شاید کہ اب کی بار تماشہ نہ ہم سے ہو آنا ہے روبرو تو کئی مرحلوں میں آ سورج کا سامنا ہے کہاں […]

یوں بھی تری خوشی کو تماشہ کیا گیا

بعد از شکستِ خوابِ محبت جیا گیا بیٹھے رفو گرانِ جنوں ہار کر کہاں لب سی لیے ہیں زخم نہیں جب سیا گیا بہلا ہوا ہے آج دلِ خآم کار یوں جیسے جو گمشدہ ہے اسے پا لیا گیا کم بخت ظرف روٹھ بھی سکتا نہیں کہ اب ہم کو بڑے خلوص سے دھوکہ دیا […]

اس قدر رنگ چھپائے تو نہیں جا سکتے

ہم پسِ مرگ بھلائے تو نہیں جا سکتے تم ہو سورج تو ذرا آؤ سوا نیزے پر صرف اک دھوپ سے سائے تو نہیں جا سکتے کچھ مقدر کی عنایات ہیں لازم ورنہ اس قدر درد کمائے تو نہیں جا سکتے کس کو معلوم کہ اس شخص پہ کیا بیت گئی بے سبب پھول جلائے […]

لہو کا رنگ مرا ترجمان ہو تو ہو

زبانِ حال سے قصہ بیان ہو تو ہو میں چاہتا ہوں ملاقات ہو سکے خود سے مگر گمان کبھی مہربان ہو تو ہو افق کے پاس جو معدوم ہو گیا ہے ابھی وہی غبار مرا کاروان ہو تو ہو پہنچ چکے ہیں مرے پر ،زمین پر پہلے مرے وجود کی باقی اڑان ہو تو ہو […]