کروٹ بدل بدل کے تو پہلو ہوئے ہیں شل

ائے غم کبھی تو شام کے سورج کے ساتھ ڈھل اب جو بھی مانگ لے وہی قیمت قبول ہے ائے عشقِ بدگمان بھلے جان لے کے ٹل اتنی کہاں حیات کہ جتنا ہے فاصلہ ائے کاروانِ درد ذرا اور تیز چل ائے دل ابھی سحر کی سپیدی کہیں نہیں سو شمع دانِ ضبط میں کچھ […]

یوں بھی تو شب کدے کا دریچہ نہ وا ہوا

میں لوٹ کر جو آ نہیں پایا تو کیا ہوا خوابوں کی سرزمین سے پھوٹا تھا میں کبھی اور خواب دیکھتے ہوئے آخر فنا ہوا لے تھام میری آخری سانسیں بھی اور بتا ائے عشق تیرا قرض کہاں تک ادا ہوا جلوہ فروز ہے وہ جھروکے میں یاد کے میں آج بھی ہوں سر کو […]

جو ایک باس گھنے جنگلوں میں آتی ہے

وہی مہک سی تری گیسوؤں میں آتی ہے یہ المیہ ہے کہ میں جس پہ خوب ہنستا ہوں کہ اس کو نیند مرے بازوؤں میں آتی ہے گزر گئی ہے پھر اک اور رات سوچتا ہوں جو روشنی سی کبھی روزنوں میں آتی ہے شکست، کرب، ندامت، خجالتیں، وحشت یہ ایک جان بڑی مشکلوں میں […]

دریدگی بھی حقیقت ہے چاک واقعہ ہے

میں مشتِ خاک سہی ، پر یہ خاک واقعہ ہے وجود گرچہ سلامت ہے اور میں زندہ یقیں کی موت مگر کربناک واقعہ ہے نہ گفتگو، نہ وضاحت نہ راہ و رسم کوئی یہ واپسی بھی عجب بے تپاک واقعہ ہے میں خود کشی بھی نہیں کر سکا ترے غم میں مری حیات ہی اندوہناک […]

ہو گئے شاہِ سخن خاک نشیں بیٹھ رہے

پیار سے ہم کو بلاتی تھی زمیں بیٹھ رہے تم بھی تھک ہار گئے درد کا درماں کرتے ہم بھی لاچار پسِ مرگِ یقیں بیٹھ رہے تو بہت دور، بہت دور ، بہت دور ہوا ہم تری کھوج میں یونہی تو نہیں بیٹھ رہے ان کا کیا ہے کہ فراموش ہوئے یا نہ ہوئے راہ […]

مری شکست ہی کم سانحہ نہ تھی اس پہ

غرورِ عشق کا ماتم ، الگ قیامت ہے لہو لہو سہی سینہ مگر مبارک ہو میں چھو کے دیکھ چکا ہوں کہ دل سلامت ہے بلندیاں چلو نیزے کی ہی سہی لیکن تمہارا سوختہ سر اب بھی سرو قامت ہے مرے ہی گھر میں جو رہتی ہے ایک مدت سے مری ہی شکل و شباہت […]

بازی گران و شعبدہ بازو، نوید ہو

ہم اپنے معجزات کے ہاتھوں فنا ہوئے ہم بے مثال لوگ تھے کیا مارتا کوئی ہم لوگ اپنی ذات کے ہاتھوں فنا ہوئے چھوٹی سی ایک بات رہی تجھ کو اور ہم چھوٹی سی ایک بات کے ہاتھوں فنا ہوئے حیراں کھڑی ہوئی ہے سرہانے پہ موت بھی ہم ہیں کہ جو حیات کے ہاتھوں […]

نا قابلِ شکست بھلا کون رہ سکا

ہم تھے ، ہمارے خواب تھے، پیمان تھے ترے ابھرا ہے نقشِ مرگ سرِ پردہِ شہود اب کون مانتا ہے کہ امکان تھے ترے ہے اک دفعہ کا ذکر کہ ہوتا تھا ایک دل اور اس کے اختیار میں ارمان تھے ترے ہارے رفو گران بصد عجز آخرش اتنے قبائےعشق پہ احسان تھے ترے تو […]

اس قدر سادہ مزاجی بھی مصیبت ہے جہاں

لوگ طنزاً بھی جو ہنستے ہیں ، بھلے لگتے ہیں سجدہ گاہانِ محبت کی زیارت کیسی ہم تو پاپوشِ محبت کے تلے لگتے ہیں جانے کس پشت کا رشتہ ہے کہ پا کر ہم کو درد بے ساختہ بڑھتے ہیں گلے لگتے ہیں آؤ اس لمحہِ کمیاب میں ڈھونڈو ہم کو غم کے آثار سرِ […]