چند لمحے ہی سہی لیکن ملی ہے زندگی

میں چلو فانی ہوا کیا دائمی ہے زندگی اور ہی کچھ مہرباں ہستی ہے دنیا کے لیے یا مرے حصے میں جو آئی وہی ہے زندگی زندگی کو کس قدر حسرت سے تکتا تھا کبھی آج اک حسرت سے جس کو دیکھتی ہے زندگی دیدہ و دل فرشِ راہِ شوق تھے ، مٹی ہوئے اب […]

وہم و گمان رہ گئے ، وجدان رہ گیا

نازل ہوئے شکوک تو ایمان رہ گیا تیری ریاضتوں نے فرشتہ کیا شکار مجھ میں مرے لیے مرا شیطان رہ گیا عہدِ شکست میں مری پہچان رہ گئی عہدِ شکست ہی مری پہچان رہ گیا تو مانگتا ہے میرا حوالہ ثبوت سے میں ہوں کہ اپنے آُپ کا امکان رہ گیا ہارا ادھیڑ بن سے […]

مانا کہ ہے سفر کا تقاضہ سبک روی

پر تیز رو جنون ، تھکا جا رہا ہوں میں اب کون سوچنے کی مشقت کرے بھلا جاؤ مرے فنون ، تھکا جا رہا ہوں میں کاندھوں پہ جو بنامِ محبت دھرا گیا بھاری ہے وہ ستون ، تھکا جا رہا ہوں میں اک عمر ہو چلی ہے کہ زخموں پہ ہاتھ ہے رکتا نہیں […]

عجب تقسیم کر ڈالا ہے تم نے

میں آدھا گر کے بھی آدھا کھڑا ہوں میں آدھا مر چکا ہوں حادثے میں حضورِ زندگی آدھا کھڑا ہوں مرا آدھا بدن تیرے مخالف میں تیرے ساتھ بھی آدھا کھڑا ہوں بنامِ ضبط آدھا ڈھے گیا تھا بحالِ بے بسی آدھا کھڑا ہوں مجھے مسمار آدھا کر گئے تھے پلٹ آؤ ابھی آدھا کھڑا […]

غم کو شکست دیں کہ شکستوں کا غم کریں

ہم بندگانِ عشق عجب مخمصے میں ہیں آزاد کب ہوئے ہیں غلامانِ کم سخن جو طوق تھے گلے میں سو اب بھی گلے میں ہیں تم مل چکے ہو اہلِ ہوس کو، مگر یہ ہم مصروف آج تک بھی تمہیں ڈھونڈنے میں ہیں اک نقشِ آرزو کہ جھلکتا نہیں کہیں یوں تو ہزار عکس ابھی […]

مجھ کو ملے شکست کے احساس سے نجات

ائے کاش دستِ غم مرے پرزے اڑا سکے دل کو سگانِ شہرِ ہوس نوچتے رہے سادہ دلانِ عشق فقط مسکرا سکے ائے کاش کہ فصیل بنے کربِ مرگِ دل تو بھی مرے قریب جو آئے نہ آ سکے جادو گرانِ شوق نے کر لی ہے خودکشی کم بخت عمر بھر میں یہ کرتب دکھا سکے […]

آخر غبارِ دشتِ ہزیمت میں ڈھے گئے

عشاقِ کم نصیب تری جستجو میں تھے اب ان کا زکر بھی نہ رہا داستان میں کل جو محاوروں کی طرح گفتگو میں تھے خواہش کے ساتھ ساتھ فراموش ہو گئے جو خوش گمان لوگ تری آرزو میں تھے اک برف سی رواں ہے رگ و پے میں آجکل رقصاں کبھی جنون کے شعلے لہو […]

ترا ساتھ ہو میسر تو یہ زندگی کنارا

نہ نصیب ہو معیّت تو یہ جیسے بیچ دھارا میں غریقِ بحرِ غم تھا ترے عشق نے پکارا یہ اِدھر رہا کنارا یہ ادھر رہا کنارا نہ ٹھہر سکا تبسم نہ ہی قہقہہ ہمارا کہ بہت ہی تیز رو ہے غمِ زندگی کا دھارا تری دوستی نے پرکھا مرا امتحان لے کر کبھی خنجر آزمایا […]

اب کیا بیاں دراز کریں واقعات کا

بس عہد ساز عہد رہا مشکلات کا اب منحصر حیات تنفس پہ رہ گئی باعث نہیں رہا کوئی ورنہ حیات کا عادی ہوا جو دل تری نفرت کا اب اسے دھڑکا لگا ہوا ہے ترے التفات کا امکان زندگی کے بظاہر نہیں رہے میں زکر کر رہا ہوں مگر ممکنات کا جو زندگی کی دوڑ […]

دل پہ اُف عاشقی میں کیا گزرا

حادثہ روز اک نیا گزرا کچھ برا گزرا، کچھ بھلا گزرا یونہی دنیا کا سلسلہ گزرا وہ ستم گر، نہ اس میں خوئے ستم پھر یہ کیوں شک سا بارہا گزرا پھر ہرے ہو گئے جراحتِ دل پھر کوئی سانحہ نیا گزرا ہو کوئی حال اہلِ محفل کا آج میں حالِ دل سنا گزرا تاب […]