چند لمحے ہی سہی لیکن ملی ہے زندگی
میں چلو فانی ہوا کیا دائمی ہے زندگی اور ہی کچھ مہرباں ہستی ہے دنیا کے لیے یا مرے حصے میں جو آئی وہی ہے زندگی زندگی کو کس قدر حسرت سے تکتا تھا کبھی آج اک حسرت سے جس کو دیکھتی ہے زندگی دیدہ و دل فرشِ راہِ شوق تھے ، مٹی ہوئے اب […]