مسند و منبر و اکرام خدا حافظ اب

تہمت و طعنہ و دشنام خدا حافظ اب الوداع ، تجربہ گاہانِ جہاں ، جاتا ہوں عمر پھر ہو گئی ناکام خدا حافظ اب دل ترے کھیل تماشے سے بھرا جاتا ہے ائے مرے عشق کے ہنگام خدا حافظ اب کرہِ ارض پہ مدفون ہوا چاہتا ہوں میرے افلاک کے اجرام خدا حافظ اب میری […]

المیہ (اختتام)

مر گیا ہے وہ خداوند کہ جس کے پیرو اس کو لافانی سمجھتے ہوئے پوجا کرتے بے زباں ہو کے پڑا ہے وہی یکتائے سخن جس کے قدموں پہ کڑے حرف بھی ماتھا دھرتے اور وہ رشکِ سخن ، نازِ سخن آرائی اس خموشی سے مرا ہے کہ خبر بھی نہ ہوئی شاعری بال بکھیرے […]

خود سے نفرت ہے مجھے اور بہت ہی نفرت

دن بدن اور بڑھی جاتی ہے جس کی شدت میری خواہش ہے تواتر سے حوادث ٹوٹیں سانس لینے کی بھی اس بار نہ پاؤں مہلت ہر بنِ مُو سے لپکتے ہوئے شعلے نکلیں غم کی آتش کو عطا ہو کبھی ایسی شدت کوئی بھی مڑ کے نہ دیکھے نہ کوئی کان دھرے شدتِ کرب سے […]

رنج یہ ہے کہ ترے کھیل تماشے کے لیے

ہم کہ ناقابلِ تسخیر تھے ، تسخیر ہوئے ہم خداوندِ سخن، نازِ سخن آرائی جب ترے ہاتھ لگے خآک پہ تحریر ہوئے ناز تھا خواب کی صنعت پہ ہمیں سو نہ رہا صرف شرمندہ ہوئے خواب جو تعبیر ہوئے کس قدر زعم تھا جب کھول رہے تھے بانہیں پھر ہوا یوں کہ حوادث ہی بغل […]

اب مجھے درد کا احساس بھی کم ہوتا ہے

اب مرا ضبط بہت دور مجھے لے آیا عشق کب تھا کہ جھلسنے کی ہوس تھی مجھ کو یہ مرا شوق سرِ طور مجھے لے آیا موت کا رقص بھلا کون دکھا سکتا تھا ہجر جب ہو گیا مجبور مجھے لے آیا تو نے ہر بار کواڑوں کو مقفل رکھا اور یہ دل کہ بدستور […]

جو جا چکا وہ گیت ، وہی سُر تھا ، ساز تھا

ہم صرف نے نواز تھے بس اور کچھ نہ تھے جو کھل گیا وہ تیرا بھرم تھا ستم ظریف اپنے تو چند راز تھے بس اور کچھ نہ تھے یہ محض اتفاق ہے کہ عمر کم پڑی کارِ جنوں دراز تھے بس اور کچھ نہ تھے تیری اناء نے روند کے کیا پا لیا بھلا […]

اب کہاں دستِ حنائی ہے کہ جو رنگ بھرے

میں اگر خواب کی تصویر بنا بھی لوں تو کب سرِ شاخِ سخن طائر معنی اترے میں کہ اک عمر ہوئی قافیہ پیما ہوں تو اک ترا نام فراموش نہ ہونے پایا مدتیں بیت گئیں عہدِ جنوں پہ یوں تو جانے کیا چیز رگ و پے میں رواں ہے ورنہ منجمد ہو بھی چکا خوف […]

وقت جیسے کٹ رہا ہو جسم سے کٹ کر مرے

کوئی مرتا جا رہا ہے جس طرح اندر مرے اب مری وحشت تماشہ ہے تو ایسے ہی سہی اب تماشائی ہی بن کے آ ، تماشہ گر مرے روکتا ہی رہ گیا کہ عشق کو مت چھیڑنا یہ بلا بیدار ہو کر آن پہنچی سر مرے پھونک دی نہ روح آخر تم نے اندیشوں میں […]

تھک ہار کے دم توڑ دیا راہ گذر نے

کیا روپ نکالا ہے جواں ہو کے سفر نے میں زخم کی تشہیر نہیں چاہتا ورنہ شہکار تراشہ ہے ترے دستِ ہنر نے میں کون سی تاویل گھڑوں اپنی بقاء کی تم کو چلو روک لیا موت کے ڈر نے پھر شہر رہا ، یا نہ رہا روئے زمیں پر دیکھا نہ پلٹ کر بھی […]

اب اُس کی آرزو میں نہ رہیئے تمام عمر

یعنی کہ یہ عذاب نہ سہیئے تمام عمر آخر اُتر پڑے تھے پہاڑوں سے کس لیئے اب دشتِ بے امان میں بہیئے تمام عمر وہ سرسری سی بات اداء جب نہیں ہوئی ایسی غزل ہوئی ہے کہ کہیئے تمام عمر وہ جا چکا ہے جس کو نہ جانا تھا عمر بھر اب آپ اپنے زعم […]