تعارف

نواحِ شہر کے اُونچے پہاڑوں میں جو خوشیاں چار سُو اُڑتی ہیں اُن کا نام بادل ہے حریم ِ صبح اور میخانۂ شب میں ،جو بے آواز رقصاں ہے وہ خوشبو ہے مہکتی ڈولتی شاخوں پہ رنگ و بُو کے جو چھینٹے نمایاں ہیں اُنہیں ہم پھول کہتے ہیں ،اور اُن پھولوں ، پہاڑیوں ، […]

سر بسر آنسو، مکمل غم ھوں میں

سر بسَر آنسُو، مُکمل غم ھُوں مَیں آپ اپنے حال کا ماتم ھُوں مَیں مُجھ سے بڑھ کے کس نے جانا ھے تُمہیں ؟ اور تُم کہتی ھو نامحرم ھُوں میں ؟ ایسے یکجا ھیں، سمجھ آتی نہیں مُجھ میں ضم ھے تُو کہ تُجھ میں ضم ھُوں مَیں ؟ ٹھوکروں کے نیل ھیں مُجھ […]

نہ پُھول کی نہ کسی نافۂ غزال کی ہے

سُخن کے دشت میں خوشبو ترے خیال کی ہے زمیں سے تا بہ فلک روشنی کمال کی ہے فضا میں آج شباہت ترے جمال کی ہے نہ دیکھ بالکنی سے غُروب کا منظر جمالِ یار ! سنبھل ، یہ گھڑی زوال کی ہے ترا نہ ہونا بھی اب تو ہے تیرے ہونے سا فراق میں […]

کوئی میرے اشک پونچھے ، کوئی بہلائے مجھے

یُوں نہ ہو لوگو! اُداسی راس آ جائے مجھے عشق نے ایسے سُہانے رنگ پہنائے مجھے گُل تو گُل ہیں ، چاند تارے دیکھنے آئے مجھے ربِّ گریہ بخش! تجھ کو آنسوؤں کا واسطہ دیکھ، کافی ہو چکی، اب عشق ہو جائے مجھے کیا خبر اُس کے پلٹنے تک مرا کیا حال ہو اُس سے […]

خُدا نے تول کے گوندھے ہیں ذائقے تم میں

تمہارے جسم میں شہد اور نمک برابر ہے وہ حُسن تُم کو زیادہ دیا ہے فطرت نے جو حُسن پھول سے مہتاب تک برابر ہے ہر ایک صحن میں تو چاندنی چھٹکتی نہیں جمالِ یار پہ کب سب کا حق برابر ہے تمہارا چہرہ مجھے یاد ہو گیا ہے سو اب دکھاؤ یا نہ دکھاؤ […]

درد سوغات تھی اداسی کی

درد سوغات تھی اُداسی کی چاندنی رات تھی اُداسی کی آج چہرہ نہیں تھا پہلے سا کوئی تو بات تھی اُداسی کی آئینہ دیکھ کر کُھلا یارو یہ ملاقات تھی اُداسی کی خواہ مخواہ اشکبار ہو بیٹھے سرسری بات تھی اُداسی کی زین! مصروف ہوگئے اب تو یار کیا بات تھی اُداسی کی

لندن

شام کے وقت خُنک دُھند میں لپٹا ہوا شہر دُور آفاق کی وُسعت میں کہیں مضحمل چاند تھکے ہارے مسافر کی طرح مرحلہ وار تھکن سہتا ہوا ابرِ آوارہ سے کچھ کہتا ہوا شہر والوں کی نگاہوں میں عیاں عظمتِ رفتہ کے گم گشتہ چراغ گلی کوچوں میں اُسی سلطنتِ عہدِ گذشتہ کے نشاں جو […]

گرچہ مہنگا ہے مذہب ، خدا مُفت ہے

اک خریدو گے تو دوسرا مُفت ہے آئینوں کی دکاں میں لکھا تھا کہیں آپ اندھے ہیں تو آئینہ مُفت ہے اُس نے پوچھا کہ پازیب کتنے کی ہے ؟ سارا بازار چِلّا اُٹھا : مُفت ہے آخری سانس کے بعد عقدہ کُھلا میں سمجھتا رہا تھا ہوا مُفت ہے فیصلہ کیجیے ، بھاؤ تاؤ […]

نم دیدہ دعاؤں میں اثر کیوں نہیں آتا ؟

تُو عرشِ تغافل سے اُتر کیوں نہیں آتا؟ میں آپ کے پَیروں میں پڑا سوچ رہا ہوں میں آپ کی آنکھوں کو نظر کیوں نہیں آتا؟ اب شام ہوئی جاتی ہے اور شام بھی گہری اے صبح کے بھولے ہوئے! گھر کیوں نہیں آتا؟