فرمان فتح پوری کا یوم وفات

آج پاکستان کے نامور ماہر ِ لسانیات ، محقق ، ادیب ، نقاد اور شاعر ڈاکٹر فرمان فتح پوری کا یوم وفات ہے ۔

فرمان فتح پوری——
(پیدائش: 26 جنوری، 1926ء- وفات: 3 اگست، 2013ء)
——
فرمان صاحب کا خاندانی نام سید دلدار علی تھا۔ وہ 26جنوری1926 کو فتح پور(سہوہ) کے ایک حنفی سید خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے بچپن میں سہوہ میں ہیضہ پھیلا تو ان کے بڑے بھائی اس مرض میں انتقال کرگئے ان کے والد یہ صدمہ برداشت نہ کرسکے اور اسی غم میں فوت ہوگئے۔
ابتدائی تعلیم نواحی گاؤں کے ایک مدرسے میں حاصل کی جہاں پڑھنے کیلئے سائیکل پر جاتے تو ان کا چچا زاد بھائی فرمان علی ان کے ساتھ ہوتا۔ ایک دن فرمان علی کو بخار نے دبوچ لیا تو سید دلدار علی اکیلے سکول گئے وہیں خبر ملی کہ فرمان علی جن سے انہیں گہری انسیت تھی فوت ہوگئے ہیں۔ ان کی موت کا صدمہ اتنا گہرا تھا کہ دلدار علی نے فرمان کو اپنے نام کا حصہ بنالیا۔ مڈل کے درجے میں ہی انہیں کتابیں پڑھنے کی لگن لگ گئی اور لکھنے کا شوق پیدا ہوگیا تھا چنانچہ انہوں نے اپنا پورا قلمی نام ” سید دلدار علی فرمان فتح پوری“ اختیار کیا جو بعد میں صرف فرمان فتح پوری رہ گیا ۔ گویا اصل نام دفتری کاغذوں میں دفن ہوگیا نسبتی نام زندہ رہا اسی کو قبولِ عام حاصل ہوا۔
فرمان صاحب کے والد نوجوانی میں پولیس میں کانسٹیبل بھرتی ہوئے اور سب انسپکٹر کی حیثیت میں ریٹائر ہوگئے۔ حنفی نے سادات خاندان کا فرد ہونے کی وجہ سے دیانتداری اور فرض شناسی کو ہمیشہ محلوظ خاطر رکھا۔ عام لوگوں کی نظر میں امیر تھے لیکن اپنی متوسط الحالی میں اس بھر کو ٹوٹنے نہ دیا۔ والد کی وفات کے بعد حالات دگرگو ں ہوگئے۔ ماں نے گھر کو خوبصورتی سے سنبھالا اور بچوں کی پرورش اعلیٰ قدروں پر کی۔
فرمان نے لکھا ہے :
——
یہ بھی پڑھیں : جو لب پہ خیر الوریٰ کے آیا وہ لفظ فرمان ہوگیا ہے
——
”لوگ سمجھتے تھے کہ ہمارے والد پولیس میں تھے لہٰذا بہت مال ہوگا۔ لیکن ہمارے پاس کچھ نہیں تھا۔اماں ہمیں سمجھاتی تھیں کہ کسی کو نہ بتایا کہ ہم غریب ہیں۔ لوگ مذاق اڑائیں گے کوئی روپیہ مانگنے آئے تو وہ دے دیتی تھیں ہم کہتے ” اماں ہماری تو خود بری حالت ہے آپ روپیہ کیوں دیتی ہیں“۔ وہ جواب دیتیں نہ دو گے تو لوگوں میں عزت ختم ہوجائے گی بھرم رکھا ہوا تھا “۔
اپنے کنبے کی کفالت کیلئے فرمان صاحب نے میٹرک اوّل درجے میں پاس کرنے کے بعد مسلم ہائی سکول میں ٹیچر کی ملازمت اختیار کرلی۔ اپنے ادبی مزاج کی وجہ سے انہوں نے سکول میں مشاعرے اور تقریری مقابلے کرائے۔ ادبی میگزین جاری کیا اور تحریکِ پاکستان پر نظمیں لکھیں جو دہلی کے اخبارات ” وحدت“ اور ” الامان“ میں چھپتیں اور مسلم لیگ کے جلسوں میں پڑھی جاتی تھیں۔ شاعری کا یہ ذوق عمر بھر ان کے ساتھ رہا لیکن جب تحقیق و تنقید کی طرف آئے تو شاعری پس منظر میں چلی گئی۔
فرمان صاحب نے ایف اے کا امتحان پرائیویٹ امیدوار کی حیثیت میں الہ آباد بورڈ سے سیکنڈ ڈویژن میں پاس کرلیا۔ نائب تحصیل داری کے امتحان میں کامیاب ہوگئے لیکن سی آئی ڈی کی خفیہ رپورٹ ان کے خلاف تھی۔ اسلئے یہ ملازمت نہ ملی 1950 میں بی اے کرلیا۔ اس دوران شادی ہوگئی ۔ ایک سال قبل ان کی والدہ کا انتقال ہوگیا تھا۔ فرمان صاحب نے ہندوستان میں مسلمانوں کے حالات دگرگوں دیکھے تو پاکستان آگئے۔ کراچی میں انہیں لوئر گریڈ کلرک کی ملازمت ملی اور نا آسودگی محسوس کی تو اکاؤٹنٹ کا امتحان پاس کرکے اے جی پی آر میں ایک بہتر پوسٹ پر تقرری ہوگئی اس دور کا اہم واقعہ یہ ہے کہ فرمان صاحب نے کراچی میں ایک بڑا مشاعرہ کرایا جس کی صدارت کیلئے نیاز فتح پوری کو مدعو کیا۔ ہندوستان سے جوش ملیح آبادی، فراق گورکھ پوری، نواب جعفر علی اثر اور جگر مراد آبادی نے شرکت کی۔اس مشاعرے نے فرمان صاحب کو ادبی، سماجی اور تہذیبی حلقوں میں متعارف کرادیا اور ان کے اس مضمون کو بھی بہت شہرت ملی جو انہوں نے ”رسالہ نگار“ میں سیداحتشام حسین کے اس مقالے کے جواب میں لکھا تھا جس میں انہوں نے اردو کا رسم الخط تبدیل کرکے دیوناگری رسم الخط اختیار کرنے کی تجویز دی تھی۔ احتشام حسین کی رائے میں ہندوستان میں اردو کو زندہ رکھنے کیلئے دیو نگری رسم الخط قبول کرنا ضروری تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ فرمان صاحب کے جوابی مضمون کی احتشام صاحب نے بھی تعریف کی ۔فرمان صاحب نے ڈاکٹر طاہر مسعود کو ایک انٹرویو میں بتایا۔
” اس مضمون نے مجھے عاملوں کی بڑی محفلوں میں داخل کردیا۔ مجھے اس سے شہرت ملی یوں تنقیدی اور ادبی مضامین لکھنے لکھانے کا سلسلہ چل نکلا“
ان کے یہ مضامین ”نگار“ اور ”ادب لطیف“ میں شائع ہوتے تھے جن کے مدیران نیاز فتح پوری اور مرزا ادیب تھے۔ فرمان فتح پوری نے اپنے ادبی ذوق کی پرورش کا سلسلہ نوجوانی کے دور میں جاری رکھا تو انہوں نے اپنے سماجی ارتقاءکو بھی نظر انداز نہیں کیا۔ کراچی میں ہی انہوں نے قانون کا امتحان پاس کیا لیکن وکالت کے عملی پیشے کی طرف نہیں آئے اور ادب نے ان کی توجہ زیادہ حاصل کی۔ تدریسی سرگرمیوں کے ساتھ ہی انہوںنے اپنے تعلیمی سلسلے کو بھی جاری رکھا اور 1958 میں کراچی یونیورسٹی سے ایم اے اردو کا امتحان اوّل بدرجہ اول پاس کیا۔اس سے قبل انہوں نے ایل ایل بی اور جی ٹی میں بھی پہلی پوزیشن حاصل کی تھی لیکن فرمان صاحب نے کراچی یونیورسٹی میں اسسٹنٹ لیکچرار کی ملازمت کو ترجیح دی اور پھر یہیں سے ” اردو میں منظوم داستانیں“ کے موضوع پر تحقیقی مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری1965ء میں حاصل کی۔ کراچی یونیورسٹی سے ڈی بٹ کی پہلی ڈگری حاصل کرنے کااعزاز بھی انہیں کو حاصل ہے۔ ان کی عالمانہ تحقیقی کتاب کا عنوان تھا ”اردو شعرا کے تذکرے اور تذکرہ نگاری“۔ ڈاکٹر فرمان فتح پوری نے جامعہ کراچی میں تقریباً تیس برس تک خدمات انجام دیں اور شعبہ اردو کے صدر کے عہدے تک پہنچے۔1958 میں انہیں اردو ڈکشنری بورڈ کا چیف ایڈیٹر اور سیکرٹری مقرر کیا گیا جہاں انہوں نے اعلیٰ خدمات انجام دیں۔
——
یہ بھی پڑھیں : نامور شاعر جمیل الدین عالی کا یومِ وفات
——
علمی،ادبی،تحقیقی،تنقیدی،تدریسی اور تعلیمی سرگرمیوں کے علاوہ ڈاکٹر فرمان فتح پوری کا ایک اور کارنامہ برصغیر کے ممتاز ادبی جریدہ ”نگار“ کی ادارت ہے جو ان کے زمانہ ¿ وفات تک کسی نہ کسی صورت میں جاری رہی۔ رسالہ ”نگار“ نیاز فتح پوری نے آگرہ سے 1922 میں جاری کیا تھا تھا۔ روشن خیالی اور فرد افروزی کی تحریک کا نقیب یہ رسالہ پورے ملک میں بڑی دلچسپی سے پڑھاجاتاتھا۔ 1927 سے 1962 تک اس کی اشاعت لکھنو سے ہوتی رہی۔1950 میں نیاز فتح پوری نے ہندوستان میں اردو رسم الخط کی بحث پر فرمان فتح پوری کا ایک مضمون شائع کیا تو یہ دونوں کا پہلا رابطہ تھا جسے سرور ایّام کے ساتھ ترقی ملتی گئی۔ حتیٰ کہ فرمان صاحب نے ”نگار“ کراچی سے شائع کرنے کی اجازت چاہی تو نیاز صاحب نے اس تجویز کو بخوشی قبول کرلیا۔ کراچی سے ”نگار“ نام کا ایک فلمی رسالہ پہلے بھی شائع ہوتا تھا۔قانونی ضابطے کے مطابق ایک ہی نام کے دو پرچے جاری کیے جاسکتے تھے۔اس لئے فرمان صاحب نے ”پاکستان“ کا سابقہ” نگار“ کے ساتھ منسلک کردیا۔ ”نگار پاکستان“ کا پہلا پرچہ کراچی سے جنوری 1962 میں چھپا اور یہ نگار لکھنو کا چربہ تھا۔ یعنی لکھنو سے نیاز صاحب ” نگار“ کی کاپیاں بھجوا دیتے تھے اور یہ پاکستان میں فرمان صاحب چھاپ کر شائع کردیتے تھے۔1964 میں نیاز صاحب کراچی آگئے تو نگار لکھنو بند ہوگیا۔ نیاز فتح پوری1966 میں انتقال کرگئے تو اپنے وصیت نامے میں ”نگار“ کے علاوہ اپنے تمام معاملات کا ذمہ دار فرمان صاحب کو بنا گئے۔ انہوں نے لکھا:
” مجھے اس وصیت نامے کا علم ہوا تو میں بہت رویا…. کیسے عجیب لوگ تھے کہ اپنی زندگی میں انہوں نےاپنی بے پناہ محبت کا ذرہ بھر احساس نہیں ہونے دیا تھا….مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ یہ بڈھا مجھ سے اتنی محبت کرتا ہے…. میں نے ان کی وصیت کے بعد ان کے بچو ں کی تعلیم و تربیت سے لیکر شادی بیاہ تک کے تمام معاملات خود ہی طے کرائے۔ ان کے بچے بھی نہایت لائق ثابت ہوئے اورآج وہ نہایت اعلیٰ مقام پر ہیں“۔
ڈاکٹر فرمان فتح پوری کی علمی،ادبی اور تصنیفی فتوحال کا دائرہ وسیع ہے۔ ان کی کتابیں اب ایم اے،ایم فل اور پی ایچ ڈی کے طلبا کیلئے مستند حوالے کا کام دیتی ہیں چند مشہور کتابوں کے نام حسب ذیل ہیں:
”اردو کی منظوم داستانیں“…. ”اردو شعرا کے تذکرے اور تذکرہ نگاری“…. ”اقبال سب کیلئے“ ….” رباعی کا فنی اور تاریخی ارتقائ“…. ”اردو کی نعتیہ شاعری“….” ہندو مسلم متنازعہ، ہندو مسلم سیاست کی روشنی میں“….”میر انیس۔ حیات و شاعری“….” غالب شاعر امروز رزدا“….” اردو افسانہ اور افسانہ نگار“….” نیا پرانا ادب“…. ”نیاز فتح پوری دیدہ دشنیدہ“….”فن تاریخ گوئی اور اس کی روایت“….” قمر زمانی بیگم“…. ”نواب مرزا شوقی کی مثنوہاں“….”تحقیق ،تنقید“ ….”زبان اور اردو زبان“….” اردو املا اور رسم الخط“….”تاویل و تعمیر“….ارمغان لوکل پرشاد وغیرہ۔
ان کتابوں کے علاوہ ان کے بہت سے مقالات مختلف ادبی رسائل و جرائد میں پڑے ہیں۔ ڈاکٹر فرمان فتح پوری کی علمی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انہیں ” ستارہ¿ امتیاز“ عطا کیا۔ ان کے شاگردوں کا دائرہ بہت وسیع تھا اور حد یہ ہے کہ ان کے پڑھائے ہوئے اب خود کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ادب کے اساتذہ ہیں۔ ان کی بڑی خوبی یہ تھی کہ یونیورسٹی میں نئی کلاس آئی توذہین طلباءکو چھانٹ لیتے اور پھر ان کی ادبی تربی میں خصوصی دلچسپی لینے لگتے اور ان کے باطن سے حقیقی ادیب ہی برآمد نہ کرتے بلکہ انہیں ادب کا معلم بننے کی تربیت بھی دیتے۔ اس لحاط سے ان کا فیض عام ان کی وفات تک جاری رہا اور ایم فل اور پی ایچ ڈی کے طلبا ان سے استفادہ کرتے رہے۔ انہیں شکوہ تھا کہ آبادی بے تحاشا بڑھ رہی ہے لیکن سنجیدہ ادب پڑھنے والوں کی تعداد نسبتاً کم ہوتی جارہی ہے اور تفریحی سرگرمیوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ان کی رائے میں ” تعلیم حکومت کی ذمہ داری ہے، حکومت کیلئے تعلیم اور صحت دو شعبے ایسے ہیں جو صنعت بخش نہیں لیکن قوم کے شعور کو روشن کرتے اور صحت مندبناتے ہیں لیکن حکومت تعلیم اور صحت کے شعبوں کو ہی نظرانداز کر رہی ہے نتیجہ یہ ہے کہ تنگ نظری میں اضافہ ہورہا ہے اور قوم ذہنی طورپر بیمار ہوتی جارہی ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ ایم فل اورپی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کرنے والوں سے مطمئن نہیںتھے اور کہتے تھے کہ ”ایم اے کی تعداد محدود ہونی چاہئے دنیا کے کسی ملک میں اعلیٰ تعلیم ضروری نہیں ہوتی۔ اعلیٰ تعلیم صرف اعلیٰ ذہنوں کو دینی چاہئے لیکن اب ڈگریاں تعلقات اور دباؤ کے تحت دے دی جاتی ہے “ اس سب کا نتیجہ یہ ہے کہ ڈگری یافتہ لوگوں کی تعداد بڑھ رہی ہے لیکن علم و ادب اور تحقیق و تنقید کا صحیح ذوق رکھنے والوںکی تعداد کم ہورہی ہے۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ ہمہ گیریت کی روایت کو زندہ رکھنے والے فرمان فتح پوری 3 اگست کو اس دنیا سے اٹھ گئے
——
یہ بھی پڑھیں : شاعر، نقاد، مترجم اور افسانہ نگار نیاز فتح پوری کا یوم پیدائش
——
منتخب کلام
——
نعت رسولِ مقبول
——
میں حرم کا مسافر ہوں میرا سفر کیوں نہ ہو وجہ تسکین قلب و نظر
میرے آقا ادھر، میرے مولا اُدھر، میرے مطلوب و مقصود کا گھر اُدھر
ورد سجنک ہر نفس، ہر قدم، لا شریک لک اور طواف حرم
پھر صفا اور مروہ کا گشت بہم سعی کے نام سے رحمتوں کا سفر
بہر سجدہ جبیں مضطرب اس طرف، بہر نظارہ مضطر نگہہ اس طرف
سنگ اسود ادھر، سبز گنبداُدھر، اب میں ایسے میں جاوں تو جاوں کدھر
گاہے رکن یمانی کو بوسہ دیا گاہے اسود کے کونے سے لپٹا ہوا
دونوں ہاتھوں سے پردے کو تھامے ہوئے گڑگڑایا کیا رکھ کے چوکھٹ پہ سر
پڑھ کے نفلیں جو بعد طواف حرم میں چلا جانب شہر خیرالامم
آنکھیں موتی پرونے لگیں دمبدم، دل کی دھڑکن ہوئی تیز سے تیز تر
باب جبریل سے جوں ہی داخل ہوا، مجھ کو روضے کی جالی نے تڑپا دیا
فرط جذبات سے دل امڈنے لگا، ایک رقت سی طاری ہوئی جان پر
سجدہ شکر کیسے میں لاؤں بجا، اس قدر اوج پر اور مقدر مرا
ان کا منبر جہاں، ان کا حجرہ جہاں اور ان کا در ہے وہیں میرا سر
مجھ کو چوری چھپے جب بھی موقع ملا، جالیاں چھو کے ہاتھوں کو چوما کیا
دوستو مجھ کو جو چاہو دے لو سزا، میں خطا وار ہوں یہ خطا ہے اگر
ان کی بندہ نوازی پہ تن من فدا، مجھ گنہگار کا اورر یہ مرتبہ
پاس بلوا لیا اور دکھلا دیا، اپنے دربار دربار کا کروفر
کیا بیاں ہو اس اکرام و احسان کا، سر نہ اٹھے گا سجدے سے فرمان کا
کھل گیا ایک اک غنچہ ارمان کا، ایک اک آرزو ہوگئی بارور
——
نہ میں شکوہ سنج قسمت نہ میں شاکی زمانہ
مجھے غم کے پاس لایا مرا شوق والہانہ
وہی اک جزب صادق وہی اک عزم کامل
جو قفس کی تیلیوں سے بھی بنا لے آشیانہ
——
چاہت کے پرندے دل ویراں میں آۓ
صیاد کسی صید کے ارماں میں آۓ
وہ چاند ہے سچ مچ کا تو پھر اس سے کہو نا
اترے میرے گھر میں کبھی دالان میں آۓ
سورج ہے تو کچھ اپنی تمازت کی رکھے لاج
پگھلاۓ مجھے برف کی دکاں میں آۓ
سایہ ہے تو گزرے کسی دیوار کو چھو کر
ہے دھوپ تو اونچان سے ڈھلوان میں آۓ
نغمہ ہے تو پھوٹے کبھی ساز رنگ جاں سے
آواز کوئی ہے تو مرے کان میں آۓ
ہے جسم تو بن جاۓ مری روح کا مسکن
ہے جان تو پھر اس تن بے جان میں آۓ
ساحل ہے تو نظارہ کی دعوت بھی نظر کو
ہے موج بلاخیز تو طوفان میں آۓ
شعلہ ہے تو پگھلاۓ میرے شیشہء جان کو
ہے بادہء کون ناب تو مژگاں میں آۓ
امرت ہے تو چمکے لب لعلیں سے سے کسی کے
ہے زہر تو بازار سے سامان میں آۓ
ہے درد تو سیلاب بنے پار لگاۓ
درماں ہے تو بن کر دوا افنجان میں آۓ
غنچہ ہے تو کھل جاۓ مرے دل کی صدا پر
خوشبو ہے تو زخموں کے گلستان میں آۓ
کہتی ہے تو احساس کی کلیوں سے بھی کھیلے
ہے پھول تو تخیل کے گل دان میں آۓ
فرمانؔ وہ جس آن میں جس رنگ میں چاہے
آۓ مگر اتنا ہو کہ پہچان میں آۓ
——
ایک در
میرے احساس کی کچی سوندھی سی دالان میں
بے صدا،بے ہوا،بے طلب،بے سبب
خواب میں وا ہوا
ایک قوس قزح،یاد کی پیار کی
شانہء و رخ پہ ہستی کے لہرا گئی
رنگ اڑنے لگا
پھول کی پتیاں جاگ اٹھیں خواب سے
تتلیاں بن کے اڑنے لگیں
کتنی معصوم کلیاں،بصد دلبری
پھول بننے کو پہلو بدلنے لگیں
اور گلوں کا یہ عالم کہ
رنگوں کے جھرمٹ میں دولہا بنے
بنت مہتاب سے
چھیڑ کرنے لگے
مصحف و آرسی کا سماں بن گیا
یہ سماں چاندنی سے نہ دیکھا گیا
شب کے پردے میں ناگن بنی ڈس لیا
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ