اردوئے معلیٰ

آج معروف شاعرہ اور افسانہ نگار فاطمہ تاج کا یوم پیدائش ہے

فاطمہ تاج(پیدائش: 25 اکتوبر 1948ء- وفات: 19 جنوری 2020ء)
——
فاطمہ تاج حیدرآباد دکن کی ادب خیزسرزمین سے تعلق رکھتی ہیں نظم اور نثر پر انہیں کامل عبور حاصل ہے۔ یہ اُردو ادب کی حرکیاتی اور فعال شخصیت مانی جاتی ہیں۔
ان کے آباء و اجداد مدینہ منورہ سے ہندوستان آ کر آباد ہوئے ان کے والدسیدحسن جمال البل قصیدہ گو شاعر تھے اور والدہ زبیدہ خاتون خطابی پٹھان ذی علم شخصیت تھیں۔
فاطمہ تاج۲۹ ؍اکٹوبر ۱۹۴۸ء ؁ کو پیدا ہوئیں۔ ابتدائی تعلیم مکمل ہونے کے بعد یکم نومبر۱۹۶۲ ء ؁ میں حبیب احمد بالفقیہ سے رشتہ ازدواج میں مسنلک ہو گئیں۔ ان کے خسربھی حبیب حسن بالفقیہ بھی کافی ادبی ذوق رکھتے تھے۔ فاطمہ تاج کے چھ لڑکے اور چار لڑکیاں ہیں۔
فاطمہ تاج کو طفل عمری سے ہی لکھنے کا شوق تھا ۱۹۹۲ء ؁ میں پہلا شاعری کا مجموعہ ’’ اب کے برس ‘‘ کی اشاعت عمل میں آئی اور پھر بہت ہی کم عرصہ میں گیارہ تصانیف شائع ہوئیں اور مقبولیت حاصل ہوئی
دیگر کئی مجموعے زیر طبع ہیں دو ناول ’’جب شام ہو گئی ‘‘ اور ’’نقش آب ‘‘ بھی زیر طبع ہیں۔
فاطمہ تاج کی تصانیف جو منظر عام پر آ چکی ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں۔
——
(۱) اب کے برس (شاعری )
(۲)آس پاس (افسانوں کا مجموعہ )
(۳)امانت (مضامین کا مجموعہ )
(۴)دلاسہ (مزاحیہ مضامین کا مجموعہ )
(۵)’’وہ ‘‘ (ناولٹ)
(۶)خوشبوئے غزل (شاعری )
(۷) حوصلہ
(۸)پھول غزل کے
(۹)یک چراغ اور
(۱۰)من مانی (مزاحیہ مضامین کا مجموعہ )
(۱۱)’’انمول نگینے ‘‘سلطان جسٹں شرف الدین احمد کی شاعری مرتبہ فاطمہ تاج
——
یہ بھی پڑھیں : معروف ناول نگار و افسانہ نگار الطاف فاطمہ کا یوم وفات
——
علاوہ ازیں وہ مختلف تنظیموں سے بھی وابستہ ہیں۔ آل انڈیا ومین اسوسی الشین کی جنرل سکریٹری ہیں۔ ۱۹۹۷ء؁ میں بنائی کئی فلورا ومین سوسائٹی کی فاونڈروپرلسیبڈنٹ ہیں۔ محفل خواتین،حیدرآباد کی معتمد نشر و اشاعت رہی ہیں۔ انجمن خواتین ،بزم خواتین ، تنظیم نسواں تعمیر ملت ، مسلم ایجوکیشن کی ممبر ہیں۔ ہندی کا دمی کلب کی ممبر ہیں۔ اوراسمیتا کی ممبر بھی ہیں۔
فاطمہ تاج کی ادبی خدمات کوتسلیم کرتے ہوئے آل انڈیا میر اکیڈیمی نے انہیں ’’امیتاز میر‘‘ ایوارڈ سے نوازا۔ ان کی مجموعی خدمات پر اندرا گاندھی انٹرنیشنل دہلی ،اُردو اکیڈیمی آندھرا پردیش، ساہتہ ادب دہلی ایواڈس سے نوازا۔ افسانوی مجموعہ ’’چھاؤں کی چادر دھوپ کی کلیاں ‘‘ پر اُردو اکیڈیمی آندھراپردیش نے ایوارڈسے نوازا۔ اور ۱۹۹۳ء ؁ میں افسانوی مجموعہ ’’آس پاس ‘‘ پر اترپردیش اُردو اکیڈیمی نے ایوارڈ سے نوازا۔
مجموعہ ’’آس پاس ‘‘ میں تیس افسانے شامل ہیں جو حسب ذیل ہیں :
——
(۱) شمع جلتی رہی (۲) قصہ سائے کا (۳) سفیدگھوڑا (۴) ندیم (۵) انتقام (۶) چنگاری (۷)قید اور رہائی (۸)سرگوشیاں (۹)اندھیرے (۱۰)کالی شال (۱۱)عہد وفا کے بعد (۱۲) زخم دل (۱۳) بات اتنی سی تھی (۱۴)شناخت (۱۵)چشم نم (۱۶)بھنور(۱۷)سیلاب آرزو (۱۸)چمپاکلی (۱۹)گڑیا (۲۰) نقش سنگ (۲۱) دھوپ (۲۲) سوال (۲۳) نغمہ (۲۴) کہانی (۲۵) شعلوں کے درمیان (۲۶)لمحوں کا سفر(۲۷)نظارہ بہار(۲۸)اور پھر(۲۹)چراغ (۳۰)تابانیاں
——
فاطمہ تاج کا روانی سے چلنے والد قلم مختلف النوع موضوعات احاطہ کرتے ہوئے زندگی کے ان گنت مسائل پر دعوت فکر دیتا ہے
افسانہ ’’شمع جلتی رہی ‘‘ میں محلوں کی شاہانہ زندگی اور وقت کے ہاتھوں مٹی ہوئی سلطنت کی زوال پذیرداستان الم بیان کی ئی ہے
اس افسانے میں ورشا کو جرات منہ لڑکی میں دکھایا گیا ہے۔ محبت کے آگے رشتے کوئی معنی نہیں رکھتے۔ محبت ہی ان کا مقصد ہے اس افسانے میں پیش کیا گیا ہے۔
افسانہ ’’چشم نم ‘‘ میں تقسیم ہند کے وقت بیوہ اصغری بیگم کی بیٹی شاہ نور(نوشین ) گم ہو جاتی ہے بہت تلاش کرنے کے باوجود ان کی بیٹی نہیں ملتی اصغری بیگم کی بہنیں انہیں پاکستان بلوا لیتی ہیں۔ نونشین ایک لا ولد جوڑے کو میلے میں ملتی ہے انہوں نے اس بچی کو اللہ کا کرم سمجھ کر اپنی بچی جیسی پرورش کیا زیور تعلیم سے آراستہ کیا اور اچھے رئیس گھرانے میں شادی کر دی۔ ایک دن نوشین اپنی سہیلی کے پاس جاتی ہے وہاں پر اپنی ماں کو دیکھ کر زار و قطار روتی ہے اپنے گھر لاتی ہے۔ ڈاکٹر کے پاس لے جاتی ہے اور پسیوں کی فکر نہ کرتے ہوئے بینائی واپس لانے کی ہر ممکن کوشش کرتے کو کہتی ہے۔ ڈاکٹر کہتا ہے بینائی توواپس نہیں لوٹائی جاسکتی لیکن پیوند کاری کر سکتے ہیں۔ نوشین کہتی کہ میری آنکھیں میری ماں کو دیجئے اور آپریشن کامیاب ہوتا ہے اصغری بیگم اپنی بیٹی کو دیکھ سکتی ہیں نوشین کہتی ہے ماں تم مجھے دیکھ رہی ہو۔ بس ماں مجھے اور کیا چاہیے تم مجھے دیکھ سکتی ہو،ماں نے کہا بیٹی تو نے یہ کیا کیا تو نے مجھے اپنی آنکھیں دے دیں نوشین کہتی یہ تمہاری ہی عطا کردہ تھی۔ روتے روتے نوشین کے آنکھوں کے غاروں سے خون بہنے لگتا ہے غم اور خوشی کے ملے بھلے جذبات سے نوشین کی دماغ کی شریانیں پھٹ جاتی ہیں ۔
——
یہ بھی پڑھیں : اے خدائے پاک پیارے مصطفےٰ کے واسطے
——
فاطمہ تاج کے ہرافسانے کا اسلوب اور انداز فکر جدا ہے۔ ان کی تحریروں میں خاص نظم و ضبط ہے۔ ان کی حساس طبیعت نظم ہو کہ نثر ماحول کی اثر انگیز ترجمانی ،انسانی د رد و الم کی دل میں کسک اور قلبی احساسات ان کی تحریر میں چار چاند لگا دیتا ہے۔
فاطمہ تاج کادوسرا افسانوی مجموعہ ’’چھاؤں کی چادر دھوپ کی کلیاں ‘‘ ہیں۔ جو جنوری ۲۰۰۲ء ؁ میں شائع ہو کر منظر عام پرآیا۔ اس کا پیش لفظ ڈاکٹر صفیہ نصیرالدین انکولوی نے لکھا ہے۔ اس مجموعے میں مندرجہ ذیل سترہ افسانے شامل ہیں :
——
(۱)آزادی (۲) انتساب (۳) ملبہ (۴) دو ورق (۵) دل کا اعتبار نہیں (۴) شین (۷) جیون دھارا (۷)سفینہ اور ساحل (۹)انتظار(۱۰) ورق ورق زندگی (۱۱)تیسراموڑ(۱۲) آدھا چاند(۱۳)آس کا دیا (۱۴)جیون سے بھری تیری آنکھیں (۱۵)تپش (۱۴)دھواں ہی دھواں (۱۷)دو بدن۔
——
فاطمہ تاج نے اپنے افسانوں میں زندگی کے ارضی پہلوؤں کی عکاسی توکی ہے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنے قاری کو اپنے افسانوں سے اس بات کا اعتماد بھی دلایا ہے کہ ادب کا کام سماج کی نمائندگی بھی ہے۔
افسانے ’’آزادی ’’انتساب ‘‘ ’’شین ‘‘ ’’ورق ورق زندگی ’’دھواں ہی دھواں ‘‘ وغیرہ میں تخیل کی بلندی اپنے عروج ہے۔
افسانہ ’’ آزادی ‘‘ میں فرنگی دنگافسادمچائے ہوئے تھے۔ چودہ سالہ شکیلہ کا گھر لٹ چکا تھا اس کے بابا کو ختم کر دیا گیا۔ کا کی کو شکیلہ کھیت میں منتشر حالت میں پڑی ہوئی ملی۔ کاکی نے شکیلہ کو گھر لے آئی۔ شکیلہ کا اب اس دنیا میں کوئی نہیں تھا۔ وہ اب تنہا تھی۔ کاکی اپنے گھرکے کرایہ دار رکشا راں رشیدسے شکیلہ کا نکاح محلہ کے مولوی صاحب کو بلوا کر کر دیا۔ رکشے کے پہسیے کی طرح رشید کی زندگی کا پہیہ بھی گھوم رہا تھا۔ شکیلہ نے ایک بچے کو جنم دیا۔ گورا،گول مٹول ،سنہرے بال انگریز کی طرح۔ پھر کچھ روز بعد پورے ملک میں انقلاب آ چکا تھا۔ فساداوربڑھ چکا تھا۔ ایک دن رشید نے کاکی سے کہا ’’کا کی میں آزادی لینے جا رہا ہوں ،کا کی نے ٹھہر جا مت جا۔ آزادی کیا بازار میں ملتی۔ شکیلہ درد زہ سے تڑپ رہی تھی۔ ببلو نے کاکی سے کہا ماں کو کیا ہوا کیوں چیخ رہی ہیں کاکی نے کہا،جا باہر جا کر صحن میں کھیل۔ ببلو نے کہا نہیں ڈر لگتا فرنگی اٹھا کرے جائیں گے۔ کاکی نے دل میں کہا فرنگی کا بیٹا ہو کر فرنگی سے ڈرتا ہے۔
شکیلہ نے بچی کو جنم دیا اور شکیلہ کی روح پرواز ہو گئی۔ کاکی نے روتے ہوئے بچی کو گود میں لے لیا۔ کاکی کے گود میں بچی کو دیکھ ببلو نے پوچھا۔ یہ کیا ہے۔ کاکی نے کہا ’یہ آزادی ہے ‘‘
فاطمہ تاج کو زبان و بیان پر قدرت حاصل ہے۔ اسلوب بیاں رواں ،شائسہ اور شگفتہ ہے۔ ماحول اور واقعات کا بہت گہرائی سے مشاہدہ کرتے ہوئے اپنی تخلیقات کو پیش کرتی ہیں۔
——
یہ بھی پڑھیں : معروف ناول نگار , افسانہ نگار الطاف فاطمہ کا یوم پیدائش
——
فاطمہ تاج کا کہنا ہے کہ ان کے قدامت پرست گھرانے نے اعلی تعلیم یافتہ ہونے اور یونیورسٹی کی ڈگریوں کی مہریں لگا نے سے روکے رکھا یہ اعزاز کیا کچھ کم ہے کم عرصہ میں گیا رہ تصانیف کی وہ مالکہ بن گئیں اور کئی تخلیقات بہت جلد منظر عام پر آنے کی توقع ہے۔
فاطمہ تاج کے افسانے ،مضامین ،خاکے ،انشائیے ، غزلیں ، نظمیں اور متفرق تحریریں اخباروں اور رسالوں میں شائع ہو رہی ہیں ان کی تخلیقات آل انڈیا ریڈیو،ٹی وی پر نشر ہوئی۔ ان کے کئی انٹرویو اردو ،ہندی اور انگریزی اخبارات ورسائل میں شائع ہو چکے ہیں۔
تسیم سلطانہ نے حیدرآبادسنٹرل یونیورسٹی گچی باولی سے ۲۰۰۳ء ؁ میں فاطمہ تاج کی ادبی خدمات پر مقالہ قلمبند کیا۔
فاطمہ تاج اپنی پرکشش تحریرسے اپنے احساسات جذبات تجربات و مشاہدات سب کچھ صفحہ قرطاس پر بکھیر دیتی ہیں فاطمہ تاج خلوص کی پیکر ہیں۔ ان کی طبیعت میں سادگی اپنا پن اور دلی تعلق ملتا ہے۔ فخر بالکل نہیں جبکہ فاطمہ تاج کی شخصیت ادبی دنیا کے لئے باعث فخر ہے اور ان کا نام ہمیشہ جگمگاتا رہے گا۔
شہر دکن حیدر آباد سے وابستہ ممتاز افسانہ نگار، شاعرہ و ادبی شخصیت سیدہ فاطمہ المعروف بہ فاطمہ تاجؔ نے 19 جنوری 2020ء بروز اتوار کی اولین ساعتوں میں بہ رضائے الٰہی داعی اجل کو لبیک کہا۔
——
نمونہ کلام
——
تمام عمر تلاشِ سحر میں رہتے ہیں
ہم ایسے لوگ ہمیشہ سفر میں رہتے ہیں
——
تمام شب جو مسافر کے ساتھ چلتے ہیں
ہمیں بھی پائیں گے اک دن وہ ان ستاروں میں
——
سنا ہے ہوش میں اب آ گئے ہیں دیوانے
امیرِ شہر کی کب جانے کیا خبر آئے
——
اک ربطِ خاص اب بھی ہے صحنِ چمن سے تاجؔ
گو آشیاں نہیں ہے ، غمِ آشیاں تو ہے
——
جس کو منزل سمجھ رہے ہیں سبھی
وہ بھی تیرا ہی نقشِ پا ہو گا
——
وہ کسی وقت بھی موسم کے طرفدار نہ تھے
خار ، پھولوں سے تو ہر حال میں بہتر نکلے
——
نشتر زنی کے دور کو کیسے بھلائیں ہم
گو مندمل ہیں زخم مگر اک نشاں تو ہے
——
ہم تو زمانے بھر کو یہ سمجھا کے رہ گئے
وہ شخص غم شناس تھا ، مجرم مگر نہ تھا
——
زمانہ اب ہے کہاں اہلِ فن کا قدر شناس
جو اوج پر ہیں وہی تو نظر میں رہتے ہیں
——
سب سے نظر بچا کے وہ ہم سے ملی مگر
چہرے پہ زندگی کے وہ نورِ سحر نہ تھا
——
کیا کرتے سارے اہلِ ہُنر لَوٹ آئے تاجؔ
اُس بزمِ خوش نظر میں کوئی دیدہ ور نہ تھا
——
کسے ہے دوست یہاں فرصت مسیحائی
جہاں کے زخم تو اپنے جگر میں رہتے ہیں
——
زندگی دیدۂ پرنم کے سوا کچھ بھی نہیں
پاس اب میرے، تیرے غم کے سوا کچھ بھی نہیں
ٹوٹ جائے گا ، ذرا اس کی حفاظت کیجئے !
دل تو اک جنبش پیہم کے سوا کچھ بھی نہیں
——
میں نے تو یہ سمجھا تھا تبسم کی عطا پر
پلکوں پہ ستاروں کی قطاریں نہیں ہوں گی
سب اہلِ سفر ترکِ سفر کرنے لگیں گے
ہمراہ اگر تاجؔ کی یادیں نہیں ہوں گی
——
مری حیات ابھی جس کے انتظار میں ہے
وہ لمحہ کس کے خدا جانے اختیار میں ہے
یہ پھول کانٹے بہت ہی عزیز ہیں ہم کو
ہمارے ماضی کی خوشبو اسی بہار میں ہے
کرے گا کیسے کوئی منزلوں کا اندازہ
ابھی تو کارواں خود پردۂ غبار میں ہے
نہ جانے کب یہ قفس زندگی کا ٹوٹے گا
ابھی حیات مری درد کے حصار میں ہے
زمانہ ٹوکتا جاتا ہے اس طرح مجھ کو
کہ جیسے ترک وفا میرے اختیار میں ہے
عجیب تاجؔ یہاں نظم زندگانی ہے
ہے گلستاں میں کوئی کوئی لالہ زار میں ہے
——
یہ بھی پڑھیں : ترا لطف تیری عطا فاطمہ
——
کیوں فرق کئے بیٹھے ہو اس کا ہے سبب کیا
ہیں اصل میں سب ایک عجم کیا ہے عرب کیا
ممکن ہو اگر تم سے تو کردار سنوارو
کام آتا ہے محشر میں کوئی نام و نسب کیا
تو نے نظر انداز کیا ہم کو ہمیشہ
ہم نے تری محفل کو جو چھوڑا تو عجب کیا
یہ موسم گل مانا کہ تسکیں کا سبب ہے
ڈھاتا تمہیں موسم یہی اس دل پہ غضب کیا
احساس تمنا ہی مرے دل سے مٹا دو
جب غم نہیں مطلوب تو خوشیوں کی طلب کیا
پھر ہم سے کوئی تاجؔ یہی پوچھ رہا ہے
بربادیٔ گلشن میں ہے پوشیدہ سبب کیا
——
دانستہ کر کے ترک سفر رو پڑے ہیں ہم
کس کو ہمارے غم کی خبر رو پڑے ہیں ہم
سمجھے تھے اہل بزم کہ ہم مسکرائیں گے
یہ بھی ہے اک فریب نظر رو پڑے ہیں ہم
ذکر غم حیات پھر اک بار چھڑ گیا
محفل میں تیری بار دگر رو پڑے ہیں ہم
آنکھوں کے سامنے وہی منزل ہے دار کی
یاد آئی تیری راہ گزر رو پڑے ہیں ہم
فصل بہار آئی تو یہ بھی ستم ہوا
ہنسنے لگے ہیں زخم جگر رو پڑے ہیں ہم
کیا کیا امیدیں لے کے گزاری تھی شام غم
دیکھا مگر جو رنگ سحر رو پڑے ہیں ہم
اب تاجؔ مل گیا ہے ہمیں منصب حیات
ہے انتہا خوشی کی مگر رو پڑے ہیں ہم
——
عروج درد تمنا ہے اب تو آ جاؤ
ہمارا دل یہی کہتا ہے اب تو آ جاؤ
نہیں ہے صحن گلستاں میں کوئی ہنگامہ
ہجوم شوق تمنا ہے اب تو آ جاؤ
کھلے ہیں پھول کئی آرزو کے گلشن میں
بس انتظار تمہارا ہے اب تو آ جاؤ
کبھی کبھی تو حسیں چاندنی بھی چبھتی ہے
کرن کرن میں اندھیرا ہے اب تو آ جاؤ
نہ جانے عمر کہاں یہ تمام ہو جائے
ابھی حیات کا لمحہ ہے اب تو آ جاؤ
ہم اپنے دل کے اندھیروں سے خود پریشاں تھے
چراغ شوق جلایا ہے اب تو آ جاؤ
نہ ساتھ دے گی تمہارا بھی تاجؔ تنہائی
ہمارے ساتھ یہ دنیا ہے اب تو آ جاؤ
——
یہی سوچتے ہیں اکثر کہاں آ گئے خوشی میں
کہ یہ دن گزر رہے ہیں جو حصار بے خودی میں
یہ سفر ہے آرزو کا یہاں دھوپ‌ چھاؤں بھی ہے
کبھی دل میں روشنی ہے کبھی دل ہے روشنی میں
وہی دیں گے اب اجالا ترے قلب بے خبر کو
جو چراغ جل اٹھے ہیں مری شام زندگی میں
مجھے اعتبار الفت تمہیں ہے یقین میرا
کوئی مل سکا نہ تم سا مجھے ساری زندگی میں
ترے ساتھ ہے کچھ ایسا مری جرأتوں کا عالم
کوئی ڈر ہے زندگی میں نہ ہے خوف کوئی جی میں
ترا نام پڑھ رہی ہوں ترا نام لکھ رہی ہوں
میں تجھے سمو رہی ہوں مرے ذوق شاعری میں
مری ذات کو سجانے کوئی آئنہ نہ دینا
مرا حسن جلوہ گر ہے ابھی تاجؔ سادگی میں
——
حوصلہ
نکل گئی ہوں زمیں کی حد سے
فلک کی جانب رواں ہوئی ہوں
میں مثل شعلہ ہوئی ہوں پھر بھی
زمانہ سمجھا دھواں ہوئی ہوں
چراغ خانہ چراغ محفل
ہر اک جگہ میں عیاں ہوئی ہوں
فنا کے کتبے بہت ہیں لیکن
تری بقا کا نشاں ہوئی ہوں
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات