اردوئے معلیٰ

Search

آج ممتاز عالم دین، مفسر، مورخ اور ماہر تعلیم ڈاکٹرغلام مصطفیٰ قاسمی کا یومِ پیدائش ہے ۔

غلام مصطفیٰ قاسمی(پیدائش: 24 جون 1924ء – وفات:8 دسمبر 2003ء)
——
غلام مصطفیٰ قاسمی پاکستان کے ممتاز عالم دین، مفسر، مورخ اور ماہر تعلیم تھے۔
ڈاکٹرعلامہ غلام مصطفیٰ قاسمی 24 جون 1924ء کو گوٹھ رئیس بھنبھو خان چانڈیو تعلقہ میرو خان ضلع لاڑکانہ، پاکستان میں پیدا ہوئے تھے۔
انہوں نے ابتدائی تعلیم فتح محمد سیرانی اور خوشی محمد میرو خانی سے حاصل کی۔ درس نظامی مکمل کرنے کے بعد وہ دارالعلوم دیوبند چلے گئے جہاں انہیں عبیداللہ سندھی اور حسین احمد مدنی سے اکتساب علم کا موقع ملا۔ وہ حسین احمد مدنی کے ہاتھ پر بیعت بھی تھے۔
دارالعلوم دیوبند سے فارغ التحصیل ہونے کے بعدانہوں نے سندھ مسلم کالج، کراچی، سندھ یونیورسٹی اورمدرسہ مظہر العلوم ،کراچی میں تدریس کے فرائض انجام دیے۔ وہ شاہ ولی اللہ اکیڈمی، حیدرآباد کے ڈائریکٹر اور سندھی ادبی بورڈ جامشورو کے چیئرمین رہے۔ 1977ء سے 1989ء تک وہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین بھی رہے۔
انہیں عربی، فارسی، اردو اور سندھی پر عبور حاصل تھا اور انہوں نے ان زبانوں میں چالیس سے زائد کتابیں لکھیں۔ انہوں نے سندھ کے دینی پس منظر پر بڑی تحقیق کی اور سندھ کے پرانے مذہبی علما خاص طور پر مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی، مخدوم محمد ابراہیم ٹھٹوی،مخدوم محمد جعفر بوبکائی اور قاضی محمد اکرم کی سندھی اور فارسی تحریروں کو اردو میں ترجمہ کیا اور ان کی اشاعت کا بندوبست کیا۔ اس کے علاوہ مخدوم نوح ہالائی کے فارسی ترجمہ قرآن کو مفید حواشی کے ساتھ مدون کیا تھا۔ ان کی تحقیقی و علمی تصانیف کی فہرست طویل ہے۔ انہوں نے شاہ عبداللطیف بھٹائی کے کلام کی شرح بھی کتابی شکل میں لکھی۔
فلسفے میں وہ مولانا عبیداللہ سندھی کے پیروکار تھے اور مولاناعبیداللہ سندھی اور شاہ ولی اللہ کی تعلیمات کو پھیلانے کے لیے کوشاں رہے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے شاہ ولی اللہ اکیڈمی قائم کی جس کے زیر اہتمام کئی مذہبی کتابیں شائع کی گئیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے قرآن شریف کی تفسیر سندھی زبان میں لکھی۔
آپ عرصے تک سندھ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کرنے والے اسکالرز کے نگران بھی رہے اور ان کی زیر نگرانی سندھ کی کئی نامور شخصیات نے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی، جن میں مشہور ماہر لسانیات و مورخ ڈاکٹر غلام علی الانا بھی شامل ہیں۔
——
یہ بھی پڑھیں : ولی دکنی ، سوانح اور حالاتِ زندگی
——
غلام مصطفیٰ قاسمی شاہ ولی اللہ اکیڈمی، حیدرآباد کے تحقیقی مجلہ الرحیم کے مدیر بھی رہے۔
حکومت پاکستان نے ڈاکٹرغلام مصطفی قاسمی کو 1987ء میں ستارۂ امتیاز سے نوازا۔
9 دسمبر 2003ء کو نامور عالم دین، محقق، مصنف، شیخ الحدیث علامہ ڈاکٹر غلام مصطفیٰ قاسمی حیدرآباد، سندھ، پاکستان میں وفات پاگئے۔ آپ حیدرآباد، سندھ میں غلام نبی کلہوڑو کے مزار کے احاطے میں آسودۂ خاک ہیں۔
——
استاذ الاساتذہ حضرت مولانا ڈاکٹر غلام مصطفی قاسمیؒ از وسیم اعجاز
——
امامِ انقلاب حضرت مولانا عبید اللہ سندھی ؒ کے شاگردوں میں سے ایک بڑا نمایاں نام حضرت مولانا غلام مصطفیٰ قاسمی کا بھی ہے۔ ان کی ولادت 24 جون 1924ءکو گوٹھ بھنبھو خان، چانڈیو، ضلع لاڑکانہ، سندھ میں حافظ محمود چانڈیو کے ہاں ہوئی۔ ان کی کنیت ”ابوسعید“ تھی۔ دینِ اسلام کی ابتدائی تعلیم حضرت شیخ الہند مولانا محمودحسنؒ کے شاگرد مولانا غلام رسول ناڑی والوں کے شاگرد مولانا خوش محمد میر خانیؒ سے حاصل کی۔ درسِ نظامی ”دارالفیض“ تحصیل قمبر سے کیا۔ اس کے بعد دارالعلوم دیوبند تشریف لے گئے، جہاں ان کی ملاقات مولانا سیّد حسین احمد مدنیؒ اور مولانا عبید اللہ سندھی ؒ سے ہوئی۔ حضرت مدنیؒ کے ہاتھ پر بیعت ہوئے۔ 1939ءمیں پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ”مولوی فاضل“ کا امتحان پاس کیا۔ کچھ عرصہ دہلی میں قیام کے دوران حکیم اجمل خانؒ کے استاد حکیم جمیل الدینؒ سے” طبیب ِفاضل“ کا امتحان بھی پاس کیا۔ دارالعلوم دیوبند میں قیام کے دوران ”جمعیة الطلباءسندھ“ بھی قائم کی، جس کا مقصد سندھی طلبا کے مسائل کو حل کرنا تھا۔
1939ءمیں جب امامِ انقلاب مولانا عبید اللہ سندھیؒ وطن واپس تشریف لائے تو مولانا موصوفؒ اپنے تمام کام چھوڑ کر ”دارالرشاد“ گوٹھ پیر جھنڈو میں حضرت سندھیؒ سے امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے افکار و نظریات مکمل تحقیق کے ساتھ پڑھنے اور ان میں مہارت حاصل کرنے میں مصروف ہوگئے۔ 1941ءمیں مدرسہ ”دارالسعادت“ گورو پہور، تحصیل شکار پور میں ”شیخ الحدیث“ اور ”صدر مدرّس“ کے منصب پر فائز ہوئے۔ تعلیم سے فراغت کے بعد مولاناؒ کا سیاسی تعلق جمعیت علمائے ہند کے ساتھ قائم ہوگیا۔ 1943ءمیں تحصیل قمبر ضلع لاڑکانہ کی کانگریس پارٹی کے وائس پریذیڈنٹ اور 1944ءمیں ضلع لاڑکانہ کے پریذیڈنٹ مقرر ہوئے۔ گوٹھ میرو خان لاڑکانہ میں انگریزی کے استاد کے طور پر بھی مقرر ہوئے۔
——
یہ بھی پڑھیں : آغا سلیم کا یوم پیدائش
——
1944ءمیں مولانا قاسمیؒ اور عزیز اللہ جرواؒر کی انتھک کوششوں سے ضلع لاڑکانہ میں محمد قاسم ولی اللہ تھیالوجیکل کالج کا قیام عمل میں آیا۔ 1947ءمیں گھوٹکی ضلع سکھر میں ایک مدرسے ”قاسم العلوم“ میں شیخ الحدیث رہنے کے بعد 1948ءمیں کراچی تشریف لے آئے۔ 1951ءتک مسلسل ولی اللّٰہی تحریک کے ایک اہم مرکز مدرسہ مظہر العلوم کھڈہ مارکیٹ اور 1958ءمیں سندھ مسلم کالج میں عربی زبان کی درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ رہے۔ 1963ءمیں شاہ ولی اللہ اکیڈمی حیدر آباد سندھ کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے اور تادمِ آخر اس ذمہ داری کو بڑے احسن طریقے سے نبھایا۔ دہلی کے مشہور ”اورینٹل کالج “ میں بھی تدریسی ذمہ داریاں نبھائیں۔ اس دوران دہلی ہی میں مفتی کے عہدے پر بھی فائز رہے۔
مولانا قاسمیؒ کو انگریزی، عربی، فارسی، اُردو اور سندھی زبانوں پر عبور حاصل تھا۔ انھوں نے حضرت الامام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی کتابوں کی تدوین کا کام کرنے کے ساتھ ساتھ شاہ صاحبؒ کے فکرو فلسفے کو سمجھانے کے لیے کثیر تعداد میں مضامین اور مقالات تحریر کیے۔ شاہ ولی اللہ اکیڈمی کی جانب سے ”الرحیم“، ”الولی“ اور Al-Samka کے نام سے رسائل کا اجرا بھی کیا۔ سندھ یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کی کلاسز کے لیے وزٹنگ پروفیسر کی حیثیت سے بھی کام کرتے رہے۔ امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے ترجمہ قرآن کے اصولوں کی روشنی میں قرآنِ حکیم کا سندھی زبان میں ترجمہ بھی کیا۔ 1977ءسے لے کر 1989ءتک پاکستان کی مرکزی رویت ِہلال کمیٹی کے چیئرمین رہے۔
مولانا قاسمیؒ 1979ءمیں سندھی ادبی بورڈ کے چیئرمین مقرر ہوئے اور 11 سال تک اس میں اپنی ذمہ داریاں انجام دیں۔ اس کے علاوہ سندھ کے بیشتر علمی و ادبی اداروں کے ممبر کے طور پر ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔ مولاناؒ کے لکھے ہوئے مقالات، تحریروں اور کتب کی فہرست بہت طویل ہے۔ حکومت ِپاکستان نے 1987ءکو ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انھیں ”ستارہ امتیاز“ سے بھی نوازا۔
مولانا قاسمیؒ نے امامِ انقلاب مولانا عبید اللہ سندھی ؒ سے حاصل کیے گئے اسباق کو بھی مختلف عنوانات کے تحت شاہ ولی اللہ اکیڈمی کے مجلات میں شائع کیا۔ امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے افکار و نظریات پر پاکستان میں کام کرنے والی واحد تنظیم‘ تنظیم فکر ولی اللّٰہی پاکستان کے بانی امامِ عزیمت حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوریؒ کے ساتھ ان کا عقیدت اور محبت کا تعلق تھا۔ ایک موقع پر مولانا قاسمیؒ نے حضرت رائے پوریؒ کو بتایا کہ ہم نے امامِ انقلاب مولانا عبید اللہ سندھیؒ سے ان کے افکار پر تنظیم سازی اور عملی کام کی خواہش کا اظہار کیا تو حضرت سندھی ؒ نے فرمایا کہ: ”امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے ان افکار پر کوئی خانقاہی آدمی ہی کام کر سکتا ہے۔“ اس کے بعد مولانا قاسمیؒ نے حضرت رائے پوری ؒ سے کہا کہ: ” مجھے یقین ہے کہ وہ خانقاہی آدمی آپ ہی ہیں۔“
——
یہ بھی پڑھیں : منصورہ احمد ، نظم کی خوبصورت شاعرہ
——
مولانا قاسمیؒ نے 40سال تک امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی کتابیں شاہ ولی اللہ اکیڈمی میں پوری تحقیق کے ساتھ پڑھائیں۔ اس عرصے میں ہزاروں تشنگانِ علم نے ان سے فیض حاصل کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ سندھ کی مشہور شخصیت مخدوم نوح ہالائیؒ کے ترجمہ قرآن پر حواشی، شاہ عبدالطیف بھٹائیؒ پر تحقیقی مقالات، مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھویؒ اور مخدوم محمدمعین ٹھٹھویؒ کی متعدد کتب کی تدوین کا کام بھی احسن طریقے سے نبھایا۔ وادی سندھ کے دینی پسِ منظر کو اُجاگر کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ دیگر علمائے سندھ کی کتب کی تلاش اور حصول کے لیے سعودی عرب، روس اور فلسطین وغیرہ کے اسفار بھی کیے۔ سندھ یونیورسٹی جام شورو میں1600 کے قریب ایسے قلمی نسخے موجود ہیں، جو محض مولانا موصوفؒ کی کاوشوں کا نتیجہ ہیں۔
مولاناؒ کا وصال 9 دسمبر 2003ءکو حیدرآباد میں ہوا۔ نماز ِجنازہ مولانا عبد الصمد ہالیجی والوں نے پڑھائی۔ تدفین مقبرہ غلام شاہ کلہوڑو حیدر آباد میں عمل میں لائی گئی۔ اللہ تعالیٰ ان صاحب ِنسبت و استقامت بزرگوں کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ