اردوئے معلیٰ

Search

آج معروف شاعر گنیش بہاری طرز لکھنوی کا یومِ پیدائش ہے

(پیدائش: 18 مئی 1928ء – وفات : 2008ء)
——
مختصر سوانح
——
نام : گنیش بہاری سریواستو
تخلص : طرزؔ
ولادت : 18 مئی 1928 ء لکھنؤ ، ( ہائی اسکول سرٹیفیکیٹ میں 1 مارچ 1928 درج ہے )
تعلیم : امین آباد ہائی اسکلو لکھنؤ ۔ آٹھویں کلاس تک
گورنمنٹ جوبلی کالج ، لکھنؤ ۔ ہائی اسکول 1943 ء
لکھنؤ یونیورسٹی ، لکھنؤ ۔ بی اے 1949 ء
شادی : بہرائچ میں کسم سریواستو کے ساتھ ، 30 جون 1959 ء
سروس : اکتوبر 1949 ء سے انسپکٹر اویکوی پراپرٹی لکھنؤ
دسمبر 1956 ء سے اسسٹنٹ کسٹوڈین جوڈیشیل جون پور ۔ فتح پور ، بجنور ، یو پی
مارچ 1960 ء سے اسسٹنٹ سیلس آفیسر ، اویکوی پراپرٹی لکھنؤ
——
یہ بھی پڑھیں : شاعر لکھنوی کا یوم وفات
——
ستمبر 1963 ء سے اسسٹنٹ کنٹرولر آف امپورٹس ایکسپورٹس بمبئی پھر کنٹرولر ، پھر اسسٹنٹ چیف کنٹرولر ، اور پھر ڈپٹی چیف کی حیثیت سے وظیفہ یاب ہوئے ۔
شاعری کا شوق : گریجویشن کے بعد 1949 ء کے آس پاس
——
ایک گمنام شاعر از پروفیسر ممتاز حسین
——
سالِ گزشتہ نومبر کے مہینے میں کچھ دنوں کے لیے میں لکھنؤ میں ٹھہرا ہوا تھا ۔ وہاں ایک روز گنیش بہاری طرز ، صابرؔ دت اور مہاوری ورما تشریف لائے ۔
رمیش مالویا شاہانِ اودھ کی کوئی تاریخ مرتب کر رہے ہیں ان سے کچھ دیر اس پہ بات ہوئی ۔ پھر ہم لوگوں نے طرز کا کلام سنا ۔
تقسیمِ ہند کے بعد کے زمانے میں ہندوستان کی اردو شاعری کا انداز پاکستان کی اردو شاعری سے کچھ کچھ بہ اعتبار زبان و بیان مختلف ہو چلا ہے ۔ یہ فرق نہ صرف ڈکشن میں نظر آتا ہے ، بہ ایں معنی کہ ہندی کے الفاظ ہندوستان کی شاعری میں اس طرح جگہ بنا رہے ہیں جیسے وہ ان کی فطری جگہیں ہوں ۔
یہ بات ہمیں گنیش بہاری طرز کی شاعری میں بھی نظر آئی ، مگر جہاں کہیں بھی انہوں نے ہندی کا ایسا لفظ استعمال کیا جو عام طور سے اردو شاعری میں مستعمل نہیں رہا ، تو وہ ایسا کھپ گیا ہے کہ نامانوس نہیں لگتا ۔ لیکن ایک آدھ نامانوس لفظ بھی مل جاتے ہیں جیسے اس شعر میں سوا بھاوک کا لفظ آیا ہے :
——
موہ سوا بھاوک ہے اس مایا بھرے سنسار میں
پیار جوگی سا مگر کرنا یہاں سنساریو
——
مگر اس ایک لفظ کے علاوہ مجھے ہندی کا کوئی ایسا لفظ جو ان کے کلام میں استعمال ہوا ہے نامانوس نہیں معلوم ہوا ۔
اس دور میں جب کہ رومانیت سے لوگ پیچھا چھڑا رہے ہیں اور حقیقت نگاری کو بھی شاعری میں جگہ دے رہے ہیں شاعری میں ایسے الفاظ کا آنا بالکل فطری ہے جو یومیہ زندگی میں استعمال کیے جانے والے الفاظ ہیں ۔ کیونکہ اس دور میں شاعری غیر معمولی واردات سے نہیں بلکہ آئے دن کے واردات اور یومیہ مشاہدوں سے پیدا کی جاتی ہے ۔
——
یہ بھی پڑھیں : سید فخرالدین بلے علیگ : امید و رجا کے صاحبِ طرز شاعر اور دیدہ ور ادیب
——
ہر چند کہ گنیش بہاری طرز کی ایک آدھ نظموں کا انداز وہی پرانا رومانی ہے لیکن ان کی غزلوں کا انداز بالکل نیا ہے ۔ اس میں جانجھ بیتے ہوئے دنوں کی ضرور ملتی ہے لیکن اس کا اظہار ایسا دلنواز ہے کہ دل کی گہرائیوں میں اتر جاتا ہے ۔
گنیش بہاری طرز کی غزلوں میں دردمندی کی ایسی سرخ لکیر ملتی ہے جو ان کے غم کو دنیا کے دوسرے غموں میں بھی تبدیل کر دیتی ہے ۔
——
دوسروں کا غم بھی اپنا لے دلِ نامطمئن
میرا ذمہ زندگی آسان ہوتی جائے گی
——
انہوں نے یہ انسان دوستی تصوف اور بھکتی مارگ کی شاعری سے بھی حاصل کی ہے ۔
ایک ایسے زمانے میں جب کہ شاعروں کی بھرمار ہے میں اسے شگونِ بد نہیں بلکہ نیک شگون تصور کرتا ہوں کہ اگر کسی اور طرح نہیں تو کچھ اشعار کے ہی ذریعے ہمارے کچھ نوجوان اور زندہ دل حضرات سوچتے تو ہیں ۔
طرز لکھنوی ہیں لیکن لکھنوی طرز سے بچ کر انہوں نے اپنے کو میرؔ میں کچھ کچھ پایا ہے ۔ نہ اس حد تک کہ میرؔ میں گم کر دیں بلکہ اس حد تک کہ ان کی شاعری میں جو سوز و گداز ہے وہ ان کے دکھوں کا پروردہ ہے ۔
اکثر شعرا اپنے غم و اندوہ اور دکھ درد یا اپنے تجرباتِ عشق و محبت کو نظم کرتے رہتے ہیں لیکن ان میں سے کم کم کوئی ایک دکھی آواز میں بھی اپنے دکھ درد کو نظم کرتا ہے ۔ میں نے یہ کیفیت طرزؔ کی شاعری میں محسوس کی ہے لیکن قدرے میٹھے طنز کے ساتھ ۔
——
اہلِ کرم نے ترکِ عنایت کے بعد بھی
اتنے ستم کیے کہ ستم گر بھی رو دئیے
——
طرزؔ نے چند غزلیں میرؔ کی زمین میں بھی کہی ہیں ۔ میرؔ کی زمین میں کوئی شعر میرؔ سے بچ کر نکالنا بڑا مشکل کام ہے ۔ لیکن ایک آدھ شعر کی حد تک وہ کامیاب بھی نظر آتے ہیں :
——
اب میں حدودِ ہوش و خرد سے گزر گیا
ٹھکراؤ ، چاہے پیار کرو میں نشے میں ہوں
——
یوں تو ہر شاعر کچھ دور ، دوسرے شاعروں کے ساتھ چلتا ہے لیکن میرؔ کی شاعری سے ناتا جوڑے بغیر شعر بنتا بھی نہیں ہے ۔
لیکن میں نے محسوس کیا ہے کہ جو وارفتگی اور شیفتگی طرز کے کلام میں ہے وہ یا تو کچھ انہیں سے مختص ہے یا پھر فراقؔ سے ہم آواز ہوتی ہے ۔
——
یہ بھی پڑھیں : بسائیں چل کے نگاہوں میں اُس دیار کی ریت
——
ان کی ایک آدھ غزل کے اشعار ملاحظہ ہوں :
——
طرزؔ چلو اب سو بھی جاؤ آس ملن کی ختم ہوئی
صبح کا تارا ڈوب چلا ہے رات کی چُونر ڈھلکی بھی
——
ایک اور غزل کا مطلع ملاحظہ ہو :
——
اب ڈھل چکی ہے رات غزل کہہ رہا ہوں میں
آ ، شاہدِ حیات غزل کہہ رہا ہوں میں
——
اور پھر یہ اشعار ملاحظہ ہوں :
——
اے طرزؔ آج عالمِ وجدان ہے عجیب
رقصاں ہے کائنات ، غزل کہہ رہا ہوں میں
——
گنیش بہاری طرز کی غزلوں کے سرسری مطالعے سے جو تاثرات مجھ پہ مرتب ہوئے ہیں انہیں میں نے بغیر اس امتیاز کے کہ وہ کوئی معروف شاعر نہیں ہیں کہ نہیں بیان کر دئیے ہیں ۔
ابھی ان کی عمر کچھ ایسی نہیں گئی ہے کہ ان سے مزید توقعات وابستہ نہ کی جا سکیں ۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر انہوں نے اپنی مشق و ریاض کو قائم رکھا تو اس سے کہیں زیادہ قابل قدر کارنامہ شاعری کی دنیا میں انجام دے سکتے ہیں ۔
کل ہی انہوں نے ایک غزل سنائی جس کا مقطع ہے :
——
وقت ہے شاید ملن کا طرز ، پھر صدیوں کے بعد
مجھ سے کچھ کہنے لگی خامشی زنجیر کی
——
اس میں جو فلسفیانہ تعمق ہے وہ انہیں کا خاصہ ہے ۔
——
حوالہ جات
——
گنیش بہاری طرز ، فن اور شخصیت از پروفیسر گوپی چند نارنگ
شائع شدہ : 1989 ء ، صفحہ نمبر 78 تا 81
——
جناب گنیش بہاری طرز لکھنؤ کے شاعر ہیں لہٰذا صاحبِ طرز ۔ آرزوؔ لکھنوی اور جگر مراد آبادی کا رنگ مجھے ان کے کلام میں دکھائی دیا :
——
کیسی حیات ، کیسی مسرت ، کہاں کا غم
اک کھیل تھا جو کھیلا کیے دھوپ چھاؤں میں
——
پیار سے جیتا ہے دشمن کو تم کہتے ہو
اس کی عداوت ابھی نہیں کم دیکھ کے چلنا
——
دیکھ مت ایسی لگاوٹ کی نظر سے مجھ کو
میں مسافر ہوں مجھے چین سے گھر جانے دے
——
دوستی اپنی جگہ اور دشمنی اپنی جگہ
فرض کے انجام دینے کی خوشی اپنی جگہ
——
جیسے اچھے اچھے شعر کہنے والا شاعر نسبتاََ غیر معروف اس لیے رہا کہ اسے پبلسٹی کا شوق نہیں ہے ۔
——
قراۃ العین حیدر از حنا بن گئی غزل
——
طرزؔ کی شاعری کی پہلی خصوصیت یہ ٹھہری کہ وہ اپنے دل کی بات پیدائشی آواز میں کہنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ یہ ضروری نہیں کہ بات ہمیشہ نئی ہو ۔ محبت نئی نہیں مگر ہر آدمی کی اپنی محبت نئی ہوتی ہے ۔ اور بات کا نیا پن کوئی شعری تقاضا بھی نہیں ہے کیونکہ اقبالؔ ، غالبؔ یا فیضؔ کے پاس اپنی گرہ کا کیا ہے ؟ ۔ یہ سب مالِ غنیمت کے شاعر ہیں
——
یہ بھی پڑھیں : شاعر لکھنوی کا یوم پیدائش
——
ڈاکٹر راہی معصوم رضا از حنا بن گئی غزل
——
طرز صاحب کی شاعری سہلِ ممتنع کی ایک خوبصورت مثال ہے ۔ انہوں نے اپنی غزل میں تشبیہہ ، استعارہ اور علامت کا حسن براہِ راست اندازِ بیان میں سمو دیا ہے اور اس طرح سے براہِ راست اندازِ بیان کو اپنا کھویا ہوا وقار واپس دلایا ہے ۔ یہ اندازِ بیان عقل اور عشق دونوں کی تجلی سے جگمگا رہا ہے ۔
——
پروفیسر جگن ناتھ آزادؔ از حنا بن گئی غزل
——
منتخب کلام
——
جن قاعدوں کو توڑ کے مجرم بنے تھے ہم
وہ قاعدے ہی ملک کا دستور ہو گئے
——
دنیا کو اعتراض محبت پہ ہے تو ہو
ہم طرزؔ خامشی کے سوا کیا جواب دیں
——
وسعتِ کون و مکاں سے اک ذرا واپس تو آ
کیا عجب بھٹکا مسافر , اپنے ہی گھر میں ملے
——
رنگ ساتوں ایک ہی شیشے میں ہیں پنہاں مگر
دیکھنے کا زاویہ کیا جانیے کس کو ملے
——
اُسی حُسنِ کُل کا یہ نور ہے جو بکھر گیا ہے ادھر اُدھر
وہی لو ہے تجھ میں بھی شعلہ زن تو الگ نہیں ہے تمام سے
——
تیاگ ، چاہت ، پیار ، نفرت کہہ رہے ہیں آج بھی
ہم سبھی ہیں صورتیں بدلی ہوئی زنجیر کی
——
دوسروں کو دیکھ کر اُس نے یوں دیکھا مجھے
میں بھری محفل میں بھی اے طرزؔ تنہا ہو گیا
——
ہاں چلا اے ساقیا جادو بھری نظروں کے تیر
ہم بھی دیکھیں کس قدر ذی ہوش ہیں یاروں کے بیچ
——
زندہ دلانِ شوق کی زندہ دلی نہ پوچھ
نظریں اِدھر ملیں ، اُدھر ڈوبنے لگے
——
پیاسے تو ہم ضرور تھے اے رحمتِ تمام
ایسا بھی کیا ، نگر کا نگر ڈوبنے لگا
——
ہم تو سرگرمِ سفر ہیں اور رہیں گے عمر بھر
منزلیں اپنی جگہ ، آوارگی اپنی جگہ
——
دنیا بنی تو حمد و ثنا بن گئی غزل
اُترا جو نور نورِ خدا بن گئی غزل
گونجا جو ناد بَرمہہ بنی رقصِ مہر و ماہ
ذرے جو تھرتھرائے صدا بن گئی غزل
چمکی کہیں جو برق تو احساس بن گئی
چھائی کہیں گھٹا تو ادا بن گئی غزل
آندھی چلی تو قہر کے سانچے میں ڈھل گئی
بادِ صبا چلی تو نشا بن گئی غزل
حیواں بنے تو بھوک بنی ، بے بسی بنی
انساں بنے تو جذبِ وفا بن گئی غزل
اُٹھا جو دردِ عشق تو اشکوں میں ڈھل گئی
بے چینیاں بڑھیں تو دعا بن گئی غزل
جاگی ہوس تو بن کے اٹھی شعلۂ شراب
ٹوٹا جو صبر لغزشِ پا بن گئی غزل
زاہد نے پی تو جامِ فنا بن کے رہ گئی
رندوں نے پی تو جامِ بقا بن گئی غزل
ارضِ دکن میں جان تو دلی میں دل بنی
اور شہرِ لکھنؤ میں حنا بن گئی غزل
دوہے ، رباعی ، نظم سبھی طرزؔ تھے مگر
اصنافِ شاعری کی خدا بن گئی غزل
——
عشق کی مار بڑی دردیلی عشق میں جی نہ پھنسانا جی
سب کچھ کرنا، عشق نہ کرنا، عشق سے جان بچانا جی
وقت نہ دیکھیں، عُمر نہ دیکھیں، جب چاہے مجبُور کریں
موت اور عشق کے آگے لوگو چلے نہ کوئی بہانہ جی
مرنا وہ بھی عشق میں مرنا کام بڑی جی داری کا
اپنے ہی اشکوں پہ تیل چھڑک کر من کو پڑے جلانا جی
عشق کی ٹھوکر موت کی ہِچکی دونوں کا ہے ایک اثر
ایک کرے گھر گھر رُسوائی، ایک کرے افسانہ جی
عشق کی نِعمت پِھر بھی یارو! ہر نِعمت پر بھاری ہے
عشق کی ٹِیسیں دَین خُدا کی، عشق سے کیا شرمانا جی
عشق کی نظروں میں یکساں، کعبہ کیا، بُت خانہ کیا
عشق میں دُنیا عُقبیٰ کیا ہے، کیا اپنا بیگانہ جی
راہ کٹھن ہے پی کے نگر کی، آگ پہ چل کر جانا ہے
عشق ہے سیڑھی پی کے ملن کی ہو جائے تو نبھانا جی
طرزؔ! بہت دن جَھیل چکے تم دُنیا کی زنجیروں کو
توڑ کے پنجرہ اب تو تمہیں ہے دیس پِیا کے جانا جی
——
سامنے آنکھوں کے گھر کا گھر بنے اور ٹوٹ جائے
کیا کرے وہ جس کا دل پتھر بنے اور ٹوٹ جائے
ہائے رے ان کے فریبِ وعدۂ فردا کا حال
دیکھتے ہی دیکھتے اک در بنے اور ٹوٹ جائے
حادثوں کی ٹھوکروں سے چُور ہونا ہے تو پھر
کیوں نہ خاموشی سے دل ساغر بنے اور ٹوٹ جائے
ہم بھی لے لیں لطفِ تیرِ نیم کش گر وہ نظر
آتے آتے قلب تک خنجر بنے اور ٹوٹ جائے
ان کے دامن کی ہوا بھی کس کو ہوتی ہے نصیب
آج ہر آنسو مرا گوہر بنے اور ٹوٹ جائے
یوں بکھرتا ہی رہا اے طرزؔ ہر سپنا مرا
صبح جیسے خواب کا منظر بنے اور ٹوٹ جائے
——
اہلِ دل کے واسطے پیغام ہو کر رہ گئی
زندگی مجبوریوں کا نام ہو کر رہ گئی
ہو گئے برباد تیری آرزو سے پیشتر
زیست نذرِ گردشِ ایام ہو کر رہ گئی
توبہ توبہ اس نگاہِ مست کی سرشاریاں
دیر پا توبہ بھی غرقِ جام ہو کر رہ گئی
اُس نگاہِ ناز کو تو کوئی کچھ کہتا نہیں
اور محبت کی نظر بدنام ہو کر رہ گئی
ہر خوشی تبدیل غم میں ہو گئی تیرے بغیر
صبح مجھ تک آئی بھی تو شام ہو کر رہ گئی
روبرو ان کے کہاں تھی فرصتِ اظہارِ غم
لب کو اک جُنبش برائے نام ہو کر رہ گئی
اُن کے جلووں کی سحر تو طرزؔ دنیا لے گئی
گیسووں کی شام اپنے نام ہو کر رہ گئی
——
بے نیازِ سحر ہو گئی
شامِ غم معتبر ہو گئی
اک نظر کیا اُدھر ہو گئی
اجنبی ہر نظر ہو گئی
میری دیوانگی ناصحا
آخرش راہبر ہو گئی
زندگی کیا ہے اور موت کیا
شب ہوئی اور سحر ہو گئی
ان کی آنکھوں میں اشک آ گئے
داستاں مختصر ہو گئی
چار تنکے ہی رکھ پائے تھے
بجلیوں کو خبر ہو گئی
ان کی محفل سے اٹھ کر چلے
روشنی ہم سفر ہو گئی
چھڑ گئی کس کے دامن کی بات
خود بہ خود آنکھ تر ہو گئی
طرزؔ جب سے چُھٹا کارواں
زیست گردِ سفر ہو گئی
——
شعری انتخاب از حنا بن گئی غزل از گنیش بہاری طرز
شائع شدہ : 2003 ، متفرق صفحات
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ