اردوئے معلیٰ

آج اردو کے معروف شاعر حیدر دہلوی کا یوم وفات ہے ۔

حیدر دہلوی
——
(پیدائش: 17 جنوری، 1906ء- وفات: 10 نومبر، 1958ء)
——
ولادت
——
حیدر دہلوی 17 جنوری 1906 ء کو صبح گلی شاہ تارا ، اجمیری گیٹ دلی میں پیدا ہوئے ۔ یہ سنِ ولادت خود حیدر دہلوی نے اپنی مختصر خود نوشت میں تحریر کیا ہے ۔
——
تعلیم
——
حیدر دہلوی نے دلی کی جامع مسجد کے قرب میں آنکھ کھولی ۔ ابتدائی تعلیم اپنے گھر پہ حاصل کی ۔ آپ نے عربی مولوی کرامت اور فارسی مرزا حیرت دہلوی سے پڑھی ۔
والد کی وفات کے بعد گھر کا چولہا جلانے کے لیے آپ نے والدہ کے شانہ بشانہ کام کیا ۔ آپ حد درجہ ذہین اور محنتی تھے ۔ جو کام آپ کے ہاتھ سے ایک بار گزر جاتا ، بھولتا نہیں تھا ۔ اس طرح بچپن میں آپ نے بہت سے ہنر سیکھ لیے تھے ۔
——
کاروبار
——
حیدر دہلوی نے اپنے دور کے بہت سے ہنر سیکھ رکھے تھے ۔ اب آپ جوان تھے اور والدہ کی خواہش کے عین مطابق گھریلو ذمہ داریوں پر عہدہ برآں ہونے لگے تھے۔ ماموں کی سرپرستی میں آپ نے اپنی بڑی بہنوں کی شادیاں کر دی تھیں ۔ اسی دوران آپ نے اپنے بہنوئی علیم اللہ خان کی مدد سے ہیٹ بنانے کا کارخانہ قائم کیا ۔ علیم اللہ خان آپ سے بے حد محبت کرتے تھے ۔ آپ نے پریس مشین کا کاروبار ختم کر کے ٹوپیوں کے کارخانے پر زیادہ توجہ دی اور اسے کامیابی سے چلایا۔
انگریزوں کا دور تھا اور آپ انگریزوں کے لیے ہیٹ بناتے اور پھر یہ ہیٹ دور دور کے شہروں میں بھیجے جاتے ۔
——
یہ بھی پڑھیں : اردو کے معروف شاعر حیدر دہلوی کا یوم وفات
——
کارخانے سے فراغت کے بعد آپ شام کو حافظ ہوٹل میں جا بیٹھتے ۔ چونکہ آپ اکثر حافظ ہوٹل میں بیٹھا کرتے تھے اس لیے آپ کا ڈیرہ حافظ کے ہوٹل پر بہت مشہور ہو گیا۔
یہی ہوٹل تھا جہاں آپ نے بعد میں ادارۂ حیدری قائم کیا ۔ اور اس ادارے کے تحت نہ صرف اشاعتی کام کیا بلکہ یہاں ماہانہ طرحی مشاعروں کی بنیاد بھی ڈالی ۔
ادارۂ حیدری کے زیرِ اہتمام آپ ادبی جرائد بھی شائع کرتے تھے۔
——
شادی
——
حیدر دہلوی کی پہلی شادی آپ کی والدہ نے کروائی مگر ایک بیٹی کی ولادت کے بعد آپ کی بیوی انتقال کر گئی ۔
اور بعد ازاں وہ بچی بھی چل بسی ۔ حیدر دہلوی کو اپنی بیوی سے بہت محبت تھی اور ان کی موت کا صدمہ وہ ساری عمر فراموش نہ کر سکے۔
کچھ عرصہ بعد آپ کی والدہ نے دوبارہ گھر بسانے پہ مجبور کیا ۔ اور یوں آپ نے والدہ کی خواہش پہ دوسری شادی کرلی لیکن وہ بھی کامیاب نہ ہو سکی ۔
کیونکہ ان کی دوسری بیوی نے حیدر دہلوی کو پراٹھوں میں زہر دینے کی کوشش کی۔
لہٰذا آپ نے اسے طلاق دے دی ۔ اسی دوران آپ کی والدہ کا انتقال ہو گیا ۔ والدہ کی وفات آپ کے لیے بہت بڑا صدمہ تھی ۔ کافی عرصے تک اس غم سے باہر نہ نکل سکے ۔ اس دوران آپ کی بہنوں نے آپ کو بمشکل گھر بسانے پہ راضی کی اور آپ نے تیسری بار نکاح کیا مگر اس بار بھی یہ شادی ایک دن سے زیادہ نہ چل سکی کیونکہ تیسری بیوی پہلے سے کسی اور شخص کی محبت میں گرفتار تھی اور اس کی زبردستی شادی کی گئی تھی ۔
——
یہ بھی پڑھیں :  معروف مترجم اور سوانح نگار عنایت اللہ دہلوی کا یوم وفات
——
اس نے پہلی رات میں حیدر دہلوی کو حقیقت بیان کی اور آپ نے اسے آزاد کر دیا ۔ کافی عرصہ تک حیدر دہلوی تنہا رہے اور انہوں نے کاروبار میں دل لگا لیا۔
اور شاعری میں مشغول رہنے لگے ۔ آپ کی چوتھی شادی شجاع الدین خان کی صاحبزادی امت النبی سے ہوئی ۔ جن کی عمر اس وقت 9 برس تھی۔
حیدر دہلوی نے شادی کے وقت اپنی کم سن بیوی کو دیکھا تو بہت آزردہ ہوئے کیونکہ وہ ابھی بچی تھی ۔ آپ نے اسے اس کے والدین کے پاس بھیج دیا ۔ اس دوران تعداد کے اعتبار سے آپ کی پانچویں شادی آپ کی بھانجی سرور جہاں نے اپنی سہیلی سے کروائی جو حبیب الرحمٰن کی بیٹی تھی ۔
انہی سے آپ کا پہلا بیٹا پیدا ہوا ۔
——
شاعری کی ابتداء
——
ان دنوں جامع مسجد کے آس پاس روز کہیں نہ کہیں مشاعرہ منعقد ہوتا تھا ۔ کوچہ پنڈت میں استاد شاعر امر ناتھ ساحر دہلوی کے ہاں بھی مشاعرے منعقد ہوتے تھے ۔
جو کئی بار حیدی دہلوی اپنے دوستوں کے ساتھ سن چکے تھے ۔ انہی مشاعروں کے ذوق نے ان کے اندر خود بھی شعر کہنے کا شوق پیدا کیا۔
اور وہ شاعری کرنے لگے۔ حیدر دہلوی کی والدہ انہیں شاعری کرنے سے روکتی تھیں ۔ انہیں حیدر صاحب کا دیر سے باہر رہنا پسند نہیں تھا ۔ اور وجہ یہ تھی کہ آپ اکلوتے بیٹے تھے۔ مگر حیدر دہلوی کے ماموں انہیں بے حد پیار کرتے تھے اور وہ ان کا شعری ذوق دیکھ کر انہیں پنڈت امرناتھ ساحر دہلوی کے ڈیرے پہ لے گئے ۔
اس وقت حیدر دہلوی کی عمر 13 برس تھی ۔ پنڈت امرناتھ نے ان سے غزلیں سنیں اور پھر چند مصرعے دئیے کہ ان پہ شعر کہو ۔
حیدر صاحب نے فوراََ ان مصرعوں پہ شعر کہہ دئیے ۔ اس کے بعد پنڈت ساحر نے انہیں کہا کہ آتے جاتے رہا کرو۔ انہوں نے پنڈت جی کے ہاں ہونے والے ماہانہ طرحی مشاعروں علاوہ دیگر ادبی تنظیموں کے مشاعروں میں بھی حصہ لینا شروع کر دیا ۔
پنڈت امرناتھ کی محفلوں اور مشاعروں سے حیدر دہلوی کا اعتماد مزید بڑھ گیا ۔ ان کی خود اعتمادی اور مقبولیت اس دور کے کئی اساتذہ کو کَھلتی تھی ۔ حیدر دہلوی کو پنڈت امرناتھ زیادہ پسند نہیں کرتے تھے اور چند ہی غزلوں کی اصلاح کے بعد انہیں کہہ دیا کہ جاؤ میاں تمہیں کسی اصلاح کی ضرورت نہیں ہے ۔
اس کی وجہ یہ تھی کہ حیدر دہلوی کی شاعری میں استعمال ہونے والی زبان پنڈت جی کو پسند نہیں تھی ۔ بلکہ اس دور کے دلی کے تمام اساتذہ دلی کو روایتی زبان میں رکھنا چاہتے تھے ۔ جب کہ حیدر دہلوی کے ہاں ایک نئی زبان اور جدید فکر نمایاں تھی ۔
——
یہ بھی پڑھیں : نامور شاعر، داغ دہلوی کے داماد سائل دہلوی کا یوم وفات
——
حیدر دہلوی خود بھی انقلاب پسند تھے اور وہ کسی کی تقلید کے قائل نہ تھے ۔حیدر دہلوی کی مختصر خود نوشت میں کسی استاد شاعر کا تذکرہ نہیں ملتا۔
جب کہ طالب دہلوی نے اپنی کتاب ” یہ تھی دلی ” میں انہیں پنڈت امرناتھ کا شاگرد قرار دیا ہے ۔
دلی میں اس وقت سائل دہلوی اور بیخود دہلوی کو استاد کا درجہ حاصل تھا لیکن مشاعرہ حیدر دہلوی لوٹ لیتے تھے ۔
 یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا اور پھر وہ دور بھی آیا کہ حیدر دہلوی سائل دہلوی اور بیخود دہلوی کی صف میں آ گئے ۔
اس طرح حیدر دہلوی کم و بیش 43 برس تک دلی میں مقیم رہے ۔ اسی دور میں حیدر صاحب کو ریڈیو دلی کے مشاعروں میں بھی مدعو کیا جانے لگا ۔
——
وفات
——
کراچی میں حیدر دہلوی کی آمدن کا واحد ذریعہ بہاول پور کی زمینوں کی فصلوں سے حاصل ہونے والی رقم تھی ۔ ایک بار وہ بہاولپور گئے تاکہ فصلوں کی رقم لا سکیں ۔ واپسی پہ انہیں گلے کی تکلیف شروع ہوئی ۔ جو حیدر دہلوی کی بیگمات کے بقول کھانے میں کسی کے سیندور ملانے کی وجہ سے تھی ۔ آپ نے اسے معمولی سمجھا اور علاج پر توجہ نہ دی ۔
——
یہ بھی پڑھیں : ممتاز شاعر، تابش دہلوی کا یوم پیدائش
——
مگر جب تکلیف بڑھی تو ڈاکٹروں نے آپریشن کا مشورہ دیا ۔ گلے کے آپریشن کے دوران ہارٹ اٹیک کی وجہ سے آپ اس جہانِ فانی سے کُوچ کر گئے۔
اگلے روز تمام قومی اخبارات میں حیدر دہلوی کی وفات کی خبر شہہ سرخیوں کے ساتھ شائع ہوئی ۔
——
10 نومبر 1958ء کو حیدر دہلوی کراچی میں انتقال کرگئے ۔حیدر دہلوی کا مجموعہ کلام ان کی وفات کے بعد صبح الہام کے نام سے شائع ہوا تھا وہ کراچی میں پی ای سی ایچ سوسائٹی کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔
——
منتخب کلام
——
حیدرؔ یہ بزمِ وقت میں شمعِ ہنر کی قدر
دن بھر جلا کے شب کو بھجایا گیا ہوں میں
——
یہ کیا دستِ اجل کو کام سونپا ہے مشیت نے
چمن سے توڑنا پھول اور ویرانے میں رکھ دینا
——
اب سے نہیں اول سے ہوں مشتاقِ نظارہ
آنکھوں سے نہیں نیند مقدر سے اُڑی ہے
——
تنقید سے خفا نہ ستائش پسند ہوں
یہ دونوں پستیاں ہیں میں ان سے بلند ہوں
——
وہ دن گئے کہ صرف گریباں پہ زور تھا
اب ہاتھ میں ہوں دامنِ صحرا لیے ہوئے
——
لب واقفِ ثنائے امارت نہ ہو سکے
حیدرؔ فقیر گوشہ نشیں تھا ، غیور تھا
——
ذرا گھر سے نکل گھر میں ذریعے ڈھونڈنے والے
ذریعہ خود نکل آتا ہے منزل تک رسائی کا
——
خاک ہی آپ کے قدموں کو میسر نہ ہوئی
ورنہ دیوانے کی مٹھی میں بیاباں ہوتا
——
تمہاری راہ میں مٹ تو رہے ہیں
ثبوتِ زندگی دیں اور ہم کیا؟
——
جا تجھے مژدۂ وصال دیا
ہائے کیا بات کہہ کے ٹال دیا
——
یہ بھی پڑھیں : مترجم اور سوانح نگار عنایت اللہ دہلوی کا یوم پیدائش
——
چمن والوں سے مجھ صحرا نشیں کی بودو باش اچھی
بہار آ کر چلی جاتی ہے ویرانی نہیں جاتی
——
اب سے نہیں اول سے ہوں مشتاق نظارہ
آنکھوں سے نہیں نیند مقدر سے اڑی ہے
——
عشق کی چوٹ تو پڑتی ہے دلوں پر یکسر
ظرف کے فرق سے آواز بدل جاتی ہے
——
آفت رسیدہ زیست پہ حیدرؔ یہ اوجِ فکر
قسمت زمیں ملی ہے مزاج آسماں مجھے
——
یہ کیا دستِ اجل کو کام سونپا ہے مشیت نے
چمن سے توڑنا پھول اور ویرانے میں رکھ دینا
تمام اسرارِ الفت کا بیاں بھی جرم ہے حیدر
کچھ اپنے دل میں رکھ لینا کچھ افسانے میں رکھ دینا
——
رند ایک ، بادہ ایک ، نہ پیمانہ ایک ہے
بالاتفاق ساقیٔ میخانہ ایک ہے
——
چھٹکارا غمِ داغ سے ہو گا کیونکر
منہ دیکھیں گے اب مرگ و لحد کا کیونکر
پیری میں سکت بھی نہیں دنداں بھی نہیں
کاٹیں گے ہم اب عمر کا رشتہ کیونکر
——
اے شیخ تجھے پاسِ زباں ہے کہ نہیں
تو واقفِ اسرارِ جہاں ہے کہ نہیں
ہر حق کہ زیاں جرم ہے اور سود حرام
جائز بھی کوئی چیز یہاں ہے کہ نہیں
——
جذباتِ نو پر جوانی تھی ، وہ ہے
مرقوم جو اعجاز بیانی تھی ، وہ ہے
اظہارِ کمالات زبانی نہ سہی
پہلے جو طبیعت میں روانی تھی ، وہ ہے
——
ہمیں سے جستجوئے دوست کی ٹھانی نہیں جاتی
تن آسانی بری شے ہے ، تن آسانی نہیں جاتی
ہمیشہ دامن اشکِ خوں سے لالہ زار رہتا ہے
یہ فطرت کے تبسم کی گل افشانی نہیں جاتی
نظامِ دہر اگر میرے لیے بدلا تو کیا بدلا
کسی گھر سے بھی شامِ غم بآسانی نہیں جاتی
جنوں میں ہوش کیا جاں بھی بسا اوقات جاتی ہے
نہیں جاتی تو طرزِ چاک دامانی نہیں جاتی
سنا ہے شوخ جلوے بھی تحیر خیز ہوتے ہیں
گزر جاتی ہے ساری عمر حیرانی نہیں جاتی
میں خود اپنی محبت میں کمی محسوس کرتا ہوں
مری صورت سے دل کی بات پہچانی نہیں جاتی
چمن والوں سے مجھ صحرا نشیں کی بود و باش اچھی
بہار آ کر چلی جاتی ہے ویرانی نہیں جاتی
ابھی ماحول عرفان و ہنر میں پست ہے حیدرؔ
یکایک ہر بلند آواز پہچانی نہیں جاتی
——
نمو کے جوش میں ذوقِ فنا حجاب نا
شریکِ بحر جو قطرہ ہوا حباب بنا
تو آپ اپنے ہی جلووں میں رہ گیا گھر کر
ترا ہی عکس ترے حسن کا جواب بنا
بچھڑ کے تجھ سے ترا سایہ جہاں افروز
سحر کو مہر بنا ، شب کا ماہتاب بنا
نہ مٹ سکے گا ترا نقش لوحِ فطرت سے
نہ بن سکے گا نہ اب تک ترا جواب بنا
سمٹ کے جُزوِ پریشاں بنے جہانِ حیات
ابھر کے جوشِ نمو عالمِ شباب بنا
تمہارے گرمیٔ محفل کے رنگ نے اُڑ کر
کہیں پناہ نہ پائی تو آفتاب بنا
——
شعری انتخاب و سوانح از حیدر دہلوی ( احوال و آثار )
مصنف : ڈاکٹر اختر شمار ، متفرق صفحات
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات