اردوئے معلیٰ

آج اردو کے شاعر محمد حسن نجمی سکندرپوری ( Hassan Najmi ) کا یومِ پیدائش ہے۔

 محمد حسن نجمی
——
(پیدائش: 1 نومبر 1913ء – وفات: 8 دسمبر 1990ء)
——
نام محمد حسن، نجمیؔ تخلص اور حسن نجمی قلمی نام تھا۔
یکم نومبر ۱۹۱۳ء کو قصبہ سکندرپور، ضلع بلیار (یوپی) میں پیدا ہوئے۔
اردو مڈل ، ہندی مڈل،منشی(فارسی)، اعلی قابلیت(اردو)، وی ٹی سی(نارمل) اور انگریزی ہائی اسکول کے معیار تک تعلیم حاصل کی۔
پہلے ڈسٹرکٹ بورڈ کے تحت درس وتدریس سے وابستہ رہے۔ بعد ازاں ساؤتھ ایسٹرن ریلوے میں بمقام کھٹرک پور، ضلع مدنا پور(مغربی بنگال) میں ملازم رہے۔
پرویز شاہدی اور شریف چکوالی سے تلمذ حاصل رہا۔
۸؍ دسمبر ۱۹۹۰ء کو سکندر پور میں انتقال کرگئے۔
ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں:
’’موم کی عورت‘‘(افسانوں کا مجموعہ۔ہندی)
’’یاپھول کھلے ویرانے میں‘‘(افسانے۔ اردو)،
کسک ، 1987 ء ، شاعری
——
یہ بھی پڑھیں : جدید عہد کے نامور غزل گو شاعر عمیر نجمی کا یوم پیدائش
——
’’شب چراغ‘‘(شعری مجموعہ) جس کو اترپردیش اور مغربی بنگال دونوں اردواکادمیوں نے انعامات سے نوازا۔
——
میری کہانی ، میری زبانی از محمد حسن نجمی
——
میری پیدائش یکم نومبر کو اپنے آبائی علاقے سکندر پور ضلع بلیا ( یو پی ) میں ہوئی ۔ میں اپنے تین بھائیوں میں سب سے بڑا ہوں ۔ منجھلے بھائی احمد حسن کا عین عالمِ شباب میں بس حادثے میں 1955 ء میں انتقال ہو گیا ۔ اُن سے ایک لڑکی ہے ۔
چھوٹے بھائی صغیر حسن خان اپنے آبائی مکان میں سکونت پذیر ہیں ۔ میرے اسلاف میں کچھ لوگ آسام میں تجارت کرتے تھے ، یہ سلسلہ میرے والد مرحوم تک چلا ۔ اس کے بعد ختم ہو گیا ۔
اسلاف کی مختصر تاریخ بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ میرا خاندانی ماحول بالکل غیر ادبی تھا ، میرے ادبی ذوق و شوق کو خدا کی دین کہا جا سکتا ہے ۔
1930 ء اور 1935 ء کے درمیان میرا زیادہ تر قیام گورکھپور میں رہا ۔ یہاں میری ملاقات جناب خیر بہوروی سے ہوئی ۔ مرحوم میرے ہی ضلع کے رہنے والے تھے ۔
موصوف نے گورکھپور سے ایک مزاحیہ رسالہ ” موٹرکار ” نکالا تھا جو ان دنوں کافی مقبول تھا ۔ مولوی عبد الحق کے زمانے میں وہ انجمن ترقی اردو ہند کے نمائندے بھی رہے ۔ ایک طویل مدت تک ان کا قیام علی گڑھ اور پھر بنارس میں رہا ۔ بنارس چھوڑا تو کچھ دنوں تک لکھنؤ میں مقیم رہے ۔
گورکھپور میں خیر بہوروی صاحب نے اپنے کچھ مضامین مجھ سے نقل کروائے ۔ دھیرے دھیرے میرے دل میں بھی نثر نگاری کی دبی دبی خواہش پیدا ہوئی لیکن یہ خواہش پروان نہ چڑھ سکی ۔ اس لیے کہ میری تعلیم ابھی نامکمل تھی ۔
1935 ء میں نارمل پاس کرنے کے بعد دوبارہ درس و تدریس میں لگ گیا لیکن اس ملازمت سے بہت جلدی جی اوب گیا ۔
دو بار ہائی اسکول کا امتحان دینے کی تیاری کی لیکن دونوں ہی بار علالت کی بنیاد پر امتحان نہ دے دسکا ۔
مڈل اردو ، مڈل ہندی ، منشی ، اعلیٰ قابلیت اور وی ، سی ٹی یعنی نارمل پاس کرنے کے بعد تعلیمی سلسلہ منقطع ہو گیا ۔
ہائی اسکول کی تیاری رائگاں نہیں گئی ۔ ٹوٹی پھوٹی انگریزی لکھ لیتا تھا ۔ انگریزی بولنے کی زیادہ مہارت تو نہیں ہوئی لیکن اپنا مطلب ادا کر لیتا تھا ۔
اس دور میں ریلوے میں ملازمت کے لیے اتنی قابلیت بہت تھی ۔ لہذا تھوڑی تگ و دو کے بعد ایسٹرن ریلوے میں ملازمت مل گئی ۔
میری تقرری وشاکھا پٹنم سے ملحق والٹیر ، ریلوے اسٹیشن پر بحیثیت ٹکٹ کلکٹر ہوئی ، اکتوبر 1936 ء سے 1938 ء تک یہاں کام کرتا رہا ۔ 1938 ء میں میرا تبادلہ کھڑگ پور ( مغربی بنگال ) میں ہو گیا اور یہیں سے میں نے ریٹائرمنٹ بھی لیا ۔
تقسیمِ ہند سے پہلے کھڑگ پور میں اردو کا اچھا خاصا ماحول تھا ۔ یہاں ایک انجمن بھی تھی جو بہت فعال تھی ۔
اس انجمن کے زیرِ اہتمام نہایت باقاعدگی سے سالانہ مشاعرے ہوا کرتے تھے ۔ یہ انجمن فی البدیہہ مشاعروں اور نثری مقابلوں کا بھی انعقاد کرتی اور انعامات دیتی تھی ۔
——
یہ بھی پڑھیں : حسن نجمی کا یومِ وفات
——
میں بھی اس انجمن کا ممبر بن گیا اور اس کے ساتھ ہی میری ادبی سرگرمیاں شروع ہو گئیں ۔ ابتدا میں میں نے مختصر افسانے لکھے اور میرا پہلا افسانہ ” قلی ” روزانہ ہند کلکتہ کے سنڈے ایڈیشن میں شائع ہوا ۔
شاعری کے جراثیم ذہن کے کسی گوشے میں محوِ خواب تھے جو سازگار ماحول کی ہوا لگتے ہی تازہ دم ہو گئے اور نثر نگاری کے ساتھ نظم گوئی کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ۔
1938 ء سے 1959 ء تک کھڑگ پور میں قیام رہا ۔ 1959 ء سے 1980 ء تک بنارس میں سکونت پذیر رہا ۔ 1980 ء سے تادمِ تحریر دلی کی خاک چھان رہا ہوں ۔
میں جہاں بھی رہا اردو نثر نگاری میرا مشغلہ بنی رہی ۔ روزانہ آزاد ہند کلکتہ ، ہفتہ وار محرک آسنسول میں میری تخلیقات اور رپورٹیں شائع ہوتی رہتی ہیں ۔ ” تنویرِ نو بنارس ” میں بھی برسوں باقاعدگی سے لکھتا رہا جس کی ادارت جناب سلام اللہ صدیقی فرماتے تھے ۔
میرے دو قدیم محسن جناب تاج الدین اشعرؔ اور جناب سیفی الاعظمی اردو صحافت کا چراغ روشن کیے ہوئے ہیں ۔
میرا ادبی ماحول کچھ ایسا تھا کہ میں شعر و سخن کے ادبی مراکز سے اتنی دور رہا کہ کسی استاد کا شرفِ تلمذ حاصل نہیں ہو سکا ۔
احباب کے مشوروں کا ہمیشہ احترام کرتا رہا ۔ میں نے اپنی شعری اور نثری تخلیقات میں اپنے دور کے تہذیبی ، سیاسی ، سماجی اور معاشرتی حالات اور طبقاتی کشمکش کی ترجمانی کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ میرا قلم اپنے عہد کا ترجمان کہا جا سکے ۔
——
اہلِ نظر کی نظر میں
——
نجمیؔ صاحب کے کلام کے مطالعے سے جو پہلا تاثر پیدا ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ وہ سکہ بند قسم کے شاعر نہیں ہیں یعنی انہوں نے اپنے آپ پر موضوعاتِ شعر کے باب میں کوئی حد بندی قائم نہیں ہے ۔ اس لیے ان کے یہاں ایسے اشعار بھی مل جاتے ہیں جن کا موضوع اور لب ولہجہ ترقی پسندوں کے ساتھ مخصوص ہے اور ایسے اشعار بھی جو اپنے رموز و علائم اور داخلی فضا کے لحاظ سے جدیدت کے دائرے میں آتے ہیں ۔ نجمی صاحب کی شاعری دراصل کچلی ہوئی ہانپتی ، کانپتی انسانیت اور پامال و شکست خوردہ تہذیبی اور اخلاقی قدروں کی صدائے احتجاج ہے ۔
( ڈاکٹر ظفر احمد صدیقی ، نیا دور لکھنؤ )
——
حسن نجمی اور ان کے کلام سے گزشتہ پچیس تیس سالوں سے واقف ہوں ۔ وہ اپنی زندگی میں جتنے بااخلاق ، باعزم اور نرم رو ہیں ان کی شاعری میں بھی وہی نرم روی ، عزم پرستی اور اخلاقی بلندی ملتی ہے ۔ حسن نجمی ابتدا سے آج تک ادب میں اس منزل کے مسافر ہیں جسے عرفِ عام میں ترقی پسندی کہا جاتا ہے ۔ جذبات و تخیل میں زندگی کے تجربوں کے ساتھ جو تبدیلیاں آئیں انہوں نے شاعر کے رنگِ تغزل کو تبدیلیاں عطا کیں ۔ روح نے جسم اور جسم نے لباس بدلا لیکن جسم و روح کی بنیادی قدریں قائم رہیں ۔ حسن نجمی کے یہاں اپنے عصر کے اتار چڑھاؤ کا پورا تاثر بڑی دلنوازی کے ساتھ ملتا ہے ۔
( جناب سالک لکھنوی ، ہفتہ وار اجالا ، لکھنؤ )
——
حسن نجمی کا کلام سننے کے مواقع ملے ۔ سجی سجائی ترکیبیں ، شگفتہ قوافی ، دل میں اتر جانے والی ردیفیں ، ان کی شاعری معنوی فضا ، اردو غزل میں مانوس فضا ہے ۔
( جناب مخمور سعیدی ، دلی )
——
یہ بھی پڑھیں : نجم الغنی خان نجمی کا یوم پیدائش
——
حسن نجمی کے ذوقِ شعری کی تربیت یوں تو کلاسیکی شاعری کے زیرِ اثر ہوئی لیکن ترقی پسند تحریک سے وابستگی نے ان کے شعور کو نئی وسعتوں سے ہمکنار کیا ۔ ان کی غزلیں صرف عشق کی واردات نہیں ، عصرِ حاضر کے آشوبِ حیات کی داستان بھی ہیں ۔ آج کا انسان جس کرب ناک محرومیوں اور جس دہشت آفریں ماحول میں زندہ رہنے پر مجبور ہے اس کے بڑے جاندار تیکھے نقوش حسن نجمی کے کلام میں نظر آتے ہیں ۔
( پروفیر قمر رئیس ، دہلی )
——
ایک شاعر کی حیثیت سے حسن نجمی اگرچہ روایت کے پابند ہیں لیکن وہ روایت کے غلام نہیں بنے ۔ نجمی نے زندگی کی حقیقتوں کو جیسا پایا ، بے کم و کاست بیان کر دیا ۔ اس نے ان کی انفرادیت اور فنکاری کو نقصان سے بچا لیا ۔ نجمی صاحب کے کلام کی اہمیت اور انفرادیت کا مدار ان کے طنز پر ہے ۔ ان کا طنر خاموش مگر گہرا ہے ۔
( پروفسیر حکم چند نئیر ، صدر شعبہ اردو بنارس ہندو یونیورسٹی )
——
منتخب کلام
——
یہ سعادت ہے فقط انسان کو نجمیؔ نصیب
کوہ سے نیچے اتر آئے ، تو پیغمبر لگے
——
ہر سنگ سے تخلیقِ صنم کرتے رہیں گے
یہ کام بھی خاصانِ حرم کرتے رہیں گے
ہم دل کے مہکتے ہوئے زخموں کے سہارے
تاریخ تبسم کی رقم کرتے رہیں گے
——
اہلِ جنوں نے ریت گلا کر جب شیشہ تیار کیا
اہلِ خرد سے کچھ نہ بنا ، تو پتھر لے کر دوڑ پڑے
——
دے کوئی تیشہ ہاتھ میں اے وقت ! یا بتا
رنج و الم کی سخت چٹانوں کو کیا کروں
——
سنگ ریزے ہی ملے شہر میں آ کر بھی ہمیں
سُن کے آئے تھے یہاں لعل و گُہر ملتے ہیں
——
دیارِ زہر فروشاں میں لے چلو امرت
اور اُس کو بانٹ دو لوگوں میں حوصلہ کر کے
——
ہزاروں راستے ہیں راہزن سے بچ نکلنے کے
مگر رہبر کی نیت ہی بدل جائے تو کیا کیجیے
——
قتل یوں کرو خود کو عمر اور بڑھ جائے
اس طرح صلیبوں کی تشنگی کو بہلاؤ
——
بچا کے رکھیے گا آئینۂ جنوں نجمیؔ
خرد ہے سنگ بداماں نہ جانے کب کیا ہو
——
یہ رسمِ انساں کشی سلامت ، کہ دیکھ لیتے ہیں اس کے صدقے
حنا کی سرخی ، لبوں کی لالی ، گُلوں کا جلوہ قدم قدم پر
وہ ایک شیطاں کہ جس نے وحدت پہ خود کو قرباں کیا تھا نجمیؔ
یہ ایک انساں کہ مصلحت کو کرے ہے سجدہ قدم قدم پر
——
تجھ سے بھی داد چاہے گا بھرپور وار کی
قاتل کو اپنا زخم دکھانے سے فائدہ
——
جو بوند بوند کو ترسے خرد کے صحرا میں
جنوں سے ملتے تو دریا تلاش کر لیتے
——
دل کے تمام راز تو چہرے چھپا گئے
ہے کس کی آستین میں خنجر ، تلاش کر
——
تمام عمر تو ظلمت کے ہم نوا تھے تم
زمانہ طنز کرے گا ، سحر کا نام نہ لو
——
عشق کو پاس وفا آج بھی کرتے دیکھا
ایک پتھر کے لیے جی سے گزرتے دیکھا
پست غاروں کے اندھیروں میں جو لے جاتی ہیں
وہ اڑانیں بھی تو انسان کو بھرتے دیکھا
جبھی لائی ہے صبا موسم گل کی آہٹ
برگ افسردہ ہوۓ شاخوں کو ڈرتے دیکھا
تری دہلیز پہ گردش کا گزر کیا معنی
تجھ کو جب دیکھا ہے کچھ بنتے سنورتے دیکھا
بے صدا ہی سہی پر سنگ صفت ہیں لمحے
ان کی آغوش میں ہر شے کو بکھرتے دیکھا
جو بھی بیتی سر فرہاد پہ بیتی نجمیؔ
کسی پرویزؔ کو تیشے سے نہ مرتے دیکھا
——
بیتے ہوۓ لمحوں کے جو گرویدہ رہے ہیں
حالات کے ہاتھوں وہی رنجیدہ رہے ہیں
ان جلووں سے معمور ہے دنیا مرے دل کی
آئینوں کی بستی میں جو نادیدہ رہے ہیں
رندان بلا نوش کا عالم ہے نرالا
ساقی کی عنایت پہ بھی نم دیدہ رہے ہیں
برسوں غم حالات کی دہلیز پہ کچھ لوگ
گل کر کے دیۓ ذہنوں کے خوابیدہ رہے ہیں
ہر دور میں انسان نے جیتی ہے یہ بازی
ہر دور میں کچھ مسئلے پیچیدہ رہے ہیں
انسان کی صورت میں کئی رنگ کے پتھر
ہم سینے پہ رکھے ہوۓ خوابیدہ رہے ہیں
مجرم کی صفوں میں ہیں وہ مظلوم بھی جن سے
نجمیؔ نے جو کچھ پوچھا تو سنجیدہ رہے ہیں
——
یہ بھی پڑھیں : ماہر علم عروض مولوی نجم الغنی خان نجمی رام پوری کا یوم پیدائش
——
آئینے سے نہ ڈرو اپنا سراپا دیکھو
وقت بھی ایک مصور ہے تماشا دیکھو
کر لو باور کوئی لایا ہے عجائب گھر سے
جب کسی جسم پہ ہنستا ہوا چہرہ دیکھو
چاہیۓ پانی تو لفظوں کو نچوڑو ورنہ
خشک ہو جاۓ گا افکار کا پودا دیکھو
شہر کی بھیڑ میں شامل ہے اکیلا پن بھی
آج ہر ذہن ہے تنہائی کا مارا دیکھو
وہ جو اک حسرت بے نام کا سودائی ہے
اس کو پتھر نے بڑی دور سے تاکا دیکھو
حد سے بڑھنے کی سزا دیتی ہے فطرت سب کو
شام کو کتنا بڑھا کرتا ہے سایا دیکھو
اب تو سر پھوڑ کے مرنا بھی ہے مشکل نجمیؔ
ہائے اس دور میں پتھر بھی ہے مہنگا دیکھو
——
حوالہ جات
——
تحریر و اقتباسات : کسک از حسن نجمی ، 1987 ء
شعری انتخاب : شب چراغ از حسن نجمی ، 1982 ء ، متفرق صفحات
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات