اردوئے معلیٰ

آج معروف پاکستانی مصنفہ، افسانہ نگار، کالم نگار اور ماہر تعلیم محترمہ حمیرا جمیل صاحبہ کا یومِ پیدائش ہے ۔

حمیرا جمیل( پیدائش: 3 مئی 1996ء )
——
حمیرا جمیل پاکستانی مصنفہ، افسانہ نگار، کالم نگار اور ماہر تعلیم ہیں۔ کلام اقبال اردو (مطالب و شرح) لکھنے والی پہلی خاتون مصنفہ ہیں۔
——
ولادت
——
حمیرا بنت جمیل احمد مغل 3 مئی 1996ء کو ضلع سیالکوٹ میں پیدا ہوئیں۔
——
تعلیم
——
قرآن مجید کی تعلیم گھر سے حاصل کی. گاؤں کے قریبی اسکول سے پرائمری کی تعلیم حاصل کی۔ میٹرک کا امتحان اچھے نمبروں سے پاس کیا۔ گورنمنٹ ڈگری کالج سیالکوٹ سے ایف اے پاس کیا۔ بی ایس آنر اردو 2017ء میں گورنمٹ کالج وؤمن یونیورسٹی، سیالکوٹ سے اور اسی یونیورسٹی سے ایم ایس اردو 2019ء میں پاس کیا۔ مقالے کا موضوع "قیام پاکستان کے بعد اقبال شناسی میں خواتین کا حصہ” استاد محترم ڈاکٹر طاہر عباس طیب کی نگرانی میں مکمل کیا
——
تدریس
——
درس و تدریس سے منسلک ہیں۔ سیالکوٹ کے مختلف کالجز میں تدریسی فرائض سر انجام دے چکی ہیں اور دے رہی ہیں.
——
ادبی سفر
——
حمیرا نے کسی سے باقاعدہ لکھنا نہیں سیکھا ان میں یہ خداد صلاحیت پیدا ہوئی۔ معاشرتی رویوں کو صفحہ قرطاس پر اتارتی رہیں جو فن کی شکل اختیار کر گیا۔ پہلی تحریر 2014ء میں "بلدیاتی الیکشن” کے حوالے سے "روزنامہ نیا اخبار ” میں چھپی۔ افسانہ "سڑک” کے نام سے لکھا لیکن غیر مطبوعہ ہی رہا لیکن آخر کار لکھنے کے شوق نے مجبور کر دیا کے افسانوی مجموعہ "درد کا سفر ” چھپوایا جائے۔
——
یہ بھی پڑھیں : معروف شاعر سید فیاض علی زیدی کا یوم پیدائش
——
درد بھی ختم نہیں ہوا اور سفر بھی جاری ہے "درد کاسفر” کالم نگاری کے مجموعے "تلخ حقیقت” کی طرف لے گیا جو صرف اب شاعر مشرق علامہ محمد اقبال سے ہی متعلق لکھنے تک محدود ہے اس میں مہارت تامہ حاصل ہے.
——
تصانیف
——
درد کا سفر (افسانوی مجموعہ) 2017ء2022ء)
تلخ حقیقت (کالم نگاری کا مجموعہ) 2018ء
بیان اقبال مرتبہ (فکر اقبال کا توضیحی بیان)2018ء
اقبال لاہور میں (9 نومبر 2020ء)
ایم ایس اردو مقالہ (قیام پاکستان کے بعد اقبال شناسی میں خواتین کا حصہ، اقبال خواتین کی نظر میں (2021ء)
اقبال سیالکوٹ میں (اپریل 2022ء)
——
اعزازات و ایوارڈ
——
رکن اقبال ریسرچ انسٹی ٹیوٹ لاہور
رکن الفانوس لائبریری |گوجرانوالہ
پریذیڈنٹ وومن ونگ سیالکوٹ ، پاکستان برٹش آرٹس کونسل
ایوارڈ برائے تحقیق بیان اقبال الفانوس لائبریری گوجرانوالہ 2018ء
ایوارڈ مہمان خصوصی.. بیاد فیض احمد فیض 2019ء
ایوارڈ برائے بال جبریل مطالب و شرح الفانوس لائبریری گوجرانوالہ…دوم پوزیشن 2019ء
1st National Conference on Iqbal
Bahria university islamabad Iqbal chair. Research presentation. Dr Tahir Abbas Tayib & Humaira jamil
بشیر رحمانی ادبی ایوارڈ (2021ء)
ایوارڈ "اقبال لاہور میں” الفانوس لائبریری گوجرانوالہ… دوم پوزیشن 2020ء
——
حمیرا جمیل کی افسانہ نگاری از پروفیسر مہر سخاوت حسین
——
حمیرا جمیل صاحبہ سوشل میڈیا کی دنیا میں کسی تعارف کی محتاج نہیں۔علمی اور ادبی حلقوں میں ان کی ایک خاص پہچان ہے ۔ یوں تو ادب کے میدان میں حمیرا جمیل صاحبہ کامیابیاں سمیٹ رہی ہیں مگر بالخصوص اقبالیات پہ علم و مطالعہ ان کا خاصہ ہے۔میں یہ کہنا چاہوں گا کہ ان کے سینے میں اقبالؒ شناسی کا تمام سامان موجود ہے ۔
——
یہ بھی پڑھیں :  امیر الاسلام ہاشمی کا یومِ پیدائش
——
حمیرا جمیل صاحبہ تدریس جیسے معزز پیشے سے وابستہ ہیں۔
حمیرا جمیل نے اقبالیات میں ایم فل کر رکھا ہے۔حمیرا جمیل کم و بیش سات کتابوں کی مصنفہ ہیں اور دو کتب جن میں”قیام پاکستان کے بعد اقبالؒ شناسی میں خواتین کا حصہ “اور “اقبالؒ لاہور میں” زیر طباعت ہیں۔ جو کہ علمی و ادبی حلقوں میں کافی پذیرائی حاصل کر چکی ہیں ۔ان کی تخلیقات میں
1۔درد کا سفر (افسانوی مجموعہ)
2۔تلخ حقیقت ( کالم نگاری کا مجموعہ)
3۔بیان اقبالؒ ( مرتبہ)
4۔بانگِ درا(مطالب و شرح)
5۔بال جبریل( مطالب و شرح)
6۔ضرب کلیم( مطالب و شرح)
7۔ارمغان حجاز (مطالب و شرح) 8. کلیات اقبالؒ اردو مطالب و شرح شامل ہیں ۔
حمیرا جمیل اقبال ریسرچ انسٹی ٹیوٹ لاہور کی ممبر بھی ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ وہ پاک برٹش آرٹس کونسل اور الفانوس لائبریری گوجرانوالہ کی بھی ممبر ہیں۔ زیرِ بحث ان کا افسانوی مجموعہ “درد کا سفر” ہے۔” درد کا سفر” کی خالق حمیرا جمیل کا تخلیقی سفر جاری و ساری ہے ۔ان کے قارئین کو زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑتا کیونکہ ان کی کوئی نہ کوئی تصنیف شائع ہوتی رہتی ہے چاہے وہ کتب کی صورت میں ہو یا کالم کی۔
——
یہ بھی پڑھیں : حمیرا جمیل: پُر دَم ہے اگر تُو تو نہیں خطرۂ افتاد
——
بات کریں گے ان کے افسانوی مجموعہ “درد کا سفر”کی، جو کہ 2017 میں شائع ہو کر شہرت دوام پا چکا ہے۔شہر اقبالؒ کی افسانہ نگار حمیرا جمیل نے معاشرے میں پائے جانے والے درد کو خوب صورت انداز میں اپنے قلم کے ذریعے بے نقاب کیا ہے۔اگر دیکھا جائے تو یہ افسانہ نگار کی صلاحیت اور میلان طبع پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ کن موضوعات کا چناؤ کرتا ہے کیونکہ بہترین ادب کی جڑیں معاشرے میں پیوست ہوتی ہیں ۔اسی لئے انہوں نے جس موضوع کا انتخاب کیا ہے اس کا تعلق بھی معاشرتی مسائل سے ہے۔حمیرا جمیل کے افسانوں میں معاشرے کی استحصالی قوتوں کی نشاندہی کی گئی ہے ۔مصنفہ نے معاشرے میں پیدا ہونے والے عدم اعتماد کو چابکدستی کے ساتھ پیش کیا ہے ۔جیسا کہ ان کے افسانہ “دھوکا” میں لڑکی اپنی ماں کے اعتماد کا شیرازہ بکھیرتی ہوئی نظر آتی ہےان کی کہانیوں میں نوجوان نسل کو نمایاں طور پر پیش کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ رومانویت کو بھی اچھوتے انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ان کے افسانوں کی ہیروئن رومانیت پسند ہے۔جس کا اظہار وہ کچھ یوں کرتی ہے۔” محلے کے تمام لڑکے مجھ پر مرتے ہیں”۔۔ان کی کہانیوں کی لازوال خوبی یہ ہے کہ قاری کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہیں اور قاری حالات وواقعات کے دھارے میں بہتا چلا جاتا ہے۔حمیرا جمیل کے کردار معاشرے کے چلتے پھرتے کردار ہیں جو واقعاتی طور پر سادہ ہیں لیکن حسی و شعوری طور پر چوکنا کر دینے کی خوبی رکھتے ہیں ۔
حمیرا جمیل کے لئے دعا گو ہوں کہ ان کا تخلیقی سفر جاری وساری رہے (آمین)
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات