اردوئے معلیٰ

Search

آج اردو کے ممتاز شاعر افتخار عارف کا یوم پیدائش ہے

افتخار عارف
(پیدائش: 21 مارچ 1943ء )
——
نام افتخار حسین عارف اور تخلص عارف ہے۔ 21 مارچ 1943ء کو لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ بی اے ، ایم اے لکھنؤ یونیورسٹی سے کیا۔جرنلزم کا ایک کورس انھوں نے کولمبیا یونیورسٹی سے بھی کیا۔۱۹۶۵ء میں مستقل طور پر پاکستان آگئے اور ریڈیو پاکستان سے منسلک ہوگئے۔اس کے بعد افتخار عارف پاکستان ٹیلی وژن سے وابستہ ہوگئے۔ جب ٹیلی وژن میں پروگرام ’’کسوٹی‘‘ کا آغاز ہوا تو عبید اللہ بیگ کے ساتھ افتخار عارف بھی اس پروگرام میں شریک ہوتے تھے۔ یہ پروگرام بہت علمی اور معلوماتی تھا۔ ۱۹۷۷ء میں ریڈیو اور ٹیلی وژن سے استعفا دے کر بی سی سی آئی بینک، لندن سے وابستہ ہوگئے۔ اس کے بعد ڈائرکٹر جنرل اکادمی ادبیات پاکستان ،صدر نشین مقتدرہ قومی زبان اور چیرمین اکادمی ادبیات پاکستان کے عہدوں پر فائز رہے۔ افتخار عارف نے نظم ونثر دونوں میں طبع آزمائی کی ہے۔ ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں : ’’مہر دونیم‘، ’حرف باریاب‘، ’بارہواں کھلاڑی‘، ’اقلیم ہنر‘، ’جہان معلوم‘، ’شہرعلم کے دروازے پر‘(نعت ،سلام ومنقبت)۔ ان کی علمی وادبی خدمات کے اعتراف میں ان کو’’آدم جی ایوارڈ‘‘،’’نقوش ایوارڈ‘‘، ’’صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی‘‘، ’’ستارۂ امتیاز‘‘ اور ’’ہلال امتیاز‘‘ مل چکے ہیں۔
——
بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:357
——
منفرد لب و لہجے کا شاعر افتخار عارف از ڈاکٹر محمد اکبر
——
جدیداردو شاعری میں ایک اہم نام افتخار عارف کا ہے ۔وہ حقیقت پسند واقع ہوئے ہیں ،کسی بات کے اظہار میں جھجک محسوس نہیں کرتے ان کے یہاں کلاسیکی شاعری کا مطالعہ بہت عمیق ہے ۔مروجہ اوزان اور بحروں کو بھی نئے تجربے کے ساتھ خوب استعمال کیے ہیں ۔پرانی لفظیات کو اس طرح بیان کیا ہے گویا ایک نیا معنیٰ و مفہوم پیدا کردیا ہو۔افتخار عارف نے پرانی اور مذہبی تلمیحات کو اپنی شاعری میں استعمال کرکے تنوع پیدا کیا ہے اور دور حاضر کے مسائل سے ہم آہنگ کرکے اردو ادب کے دامن کو خوب وسعت بخشی ہے۔
افتخار عارف 21مارچ 1944کو لکھنو ٔ میں پیدا ہوئے ان کا خاندان تعلیم یافتہ تھا خود انھوں نے لکھنؤیونی ورسٹی سے ایم اے کیا اور عملی زندگی میں اتر آئے ۔ریڈیو پاکستان میں نیوز کاسٹر کی حیثیت سے منسلک ہوئے اور دس روپئے فی بلیٹن کے حساب سے خبریں پڑھنے لگے۔کچھ دنوں کے بعد پی ٹی وی سے جڑ گئے اور خوب محنت سے کام کیا ۔ان کا پروگرام ’’کسوٹی ‘‘ بہت زیادہ پسند کیا گیا ۔تمام لوگوں نے اس پروگرام کو کافی سراہا ۔افتخار عارف علمی و ادبی حوالے سے کہیں آگے نکل جانے کے باؤجود آج بھی ’’کسوٹی ‘‘سے پہچانے جاتے ہیں ۔کسوٹی نے گھر گھر ان کی ذہانت کا چرچا کیا۔اس عہد نے افتخار عارف کو زندہ شناخت بخشی۔ پاکستان سے رخت سفر باندھنے کے بعد انھوں نے کولمبیا یونی ورسٹی امریکا سے میڈیا منجمنٹ کا ایک مختصر کورس کیا پھر بیرون ملک درج ذیل عہدوں پر فائز رہے۔
1977تا 1980تعلقات عامہ بینک آف کریڈٹ اینڈ کامرس لندن۔پھر 1981تا1990ایگزیکٹو انچارج، اردو مرکز لندن افتخار عارف نے اپنی بہترین انتظامی صلاحیتوں کی بنا پر اردو مرکز لندن کو پوری دنیا میں متعارف کرایا۔1990میں مرکز بند ہوگیا افتخار عارف پاکستان واپس آگئے یہاں ایک بار پھر انھیں محبت و عزت سے نوازہ گیا ۔حکومت پاکستان نے 19مئی 1991کو انھیں اکادمی ادبیات پاکستان کا ڈائرکٹر جنرل بنایا اس عہدے پر وہ 1995تک رہے ۔پھر آگے چل کر انھیں مقتدرہ قومی زبان کا صدر بنایا گیا۔یہاں بھی وہ اپنے منصب کے تقاضے بحسن خوبی نبھاتے رہے۔انھوں نے لا تعداد کتابوں کے فلیپ اور مقتدرہ کے زیر اہتمام شائع ہونے والے منصوبوں کے ابتدائیے لکھے۔افتخار عارف کی ادبی ارتقا کی اولین شناخت ان کی شاعری ہے۔
افتخار عارف اپنی شاعری میں ایسی تاثیر عطا کرتے ہیں جو پڑھنے والوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے۔وہ اپنے مشاہدات اور تجربات کو اپنے فن کے ذریعے مکمل طور پر ترسیلی پیکر میں ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں ،اور شعری لوازمات کا بھر پور استعمال کی وجہ سے ان کی شاعری میں چار چاند لگ جاتا ہے۔انھوں نے نہ صرف علامتوں،مبالغوں،استعاروں اور تلمیحوں کو وسعت دی ہیں بلکہ ہم عصر مسائل کو بھی اپنی شاعری میں بحسن خوبی پیش کیا ہے۔صنعتی معاشرے کاسب سے بڑا دکھ یہ ہے کہ انسان اجنبیت اور بے گھری کا شکار ہے تمام دنیا کے ادب میں اس دکھ کے نوحے بکثرت ملتے ہیں لیکن جب افتخار عارف یادوں کے جزیرے میں چلے جاتے ہیں تو انھیں ہر منظر کشش سے زیادہ وطن عزیز کی کشش زیادہ نظر آتی ہے۔وطن سے لگاؤگھر کی بے گھری گھر کے احوال کی نشان دہی اور گھر کے منظر سے اسودگی افتخار عارف کو جدید شاعروں میں سب سے الگ اور نمایاں کرتی ہیں۔ان کا ذخیرہ الفاظ اس قدر صاحب ثروت ہے کہ وہ جیسے چاہتے ہیں انھیں صفحہ قرطاس پر موتیوں کی طرح بکھیرتے چلے جاتے ہیں ۔انھیں کبھی الفاظ کی کمی نہیں پڑتی اور اپنے احساس افکار اور گفتار کو پیراہن و پیکر عطا کرنے کی دولت سے مالا مال ہیں ۔حسی تجربہ شاعر کے لاشعور میں پوری طرح جڑیں پکڑ لیتا ہے تو کسی آمد کے لمحے میں ذہن کے روشن حصے کی طرف آجاتا ہے۔اب شاعر اسے پوری ذہنی بیداری کے ساتھ دیکھتا ہے،اور جو کچھ دیکھتا ہے ایک فطری سحر کاری کے ساتھ الفاظ میں بیان کردیتا ہے۔افتخار عارف کی شاعری سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے یہاں حسی تجربے کے ساتھ ذہنی عمل کی مناسب کار فرمائی موجود ہے سچے اور اچھے فنکار کی پہچان یہ ہے کہ وہ عام زمان و مکان سے الگ دوسرا زمان و مکان اپنے اندر رکھتا ہو۔فن میں یہ خوبی اس وقت آتی ہے جب فنکار کا رابطہ حالات و واقعات سے بہت گہرا ہو۔انھیں سب خصوصیات کی بنا پر ان کا کلام جدید اردو شاعری میں ایک منفرد آواز کے ساتھ قاری کے دل و دماغ پر دیر تک چھایا رہتا ہے۔اور ابلاغی تاثیر خود بخود اپنی جانب متوجہ کرتی ہے۔
افتخار عارف کا کلام ایک ایسا جدید گلدستہ ہے جو کلاسیکی گلزار سخن کے رنگ و خوشبو سے ہم آمیز ہے۔کلاسیکی لفظیات کو نئے مفاہیم کے اظہار کا ذریعہ بنایا ہے۔لفظ کے مزاج سے واقفیت رکھتے ہیں اس لیے بیشتر اشعار میں زبان کا خلاقانہ اظہار ہوا ہے۔انھوں نے پرانی غزل کے احساس کے ساتھ ساتھ نئی غزل کے تقاضوں کو بھی پورا کیا ہے۔وہ اپنی شناخت کے لیے ایک نئی راہ کی تلاش میں کوشاں نظر آتے ہیں ۔مثال کے طور پر یہ شعر دیکھئے :۔
——
حامی بھی نہ تھے منکر غالب بھی نہیں تھے
ہم اہل تذبذب کسی جانب بھی نہیں تھے
اس بار بھی دنیا نے ہدف ہم کو بنایا
اس بار تو ہم شہ کے مصاحب بھی نہیں تھے
بیچ آئے سر قرئیہ زر جوہر پندار
جو دام ملے ایسے مناسب بھی نہیں تھے
مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے
——
اردو میں عربی سے آئی ہوئی بحروں کو جہاں انھوں نے مروجہ صورت میں برتا ہے،وہیں اس سے ہٹ کر بھی اپنے تجربات و خیالات کا اظہار کیا ہے۔شاعری کی مختلف صنف پر آپ نے خوب تجربے کیے ہیں آپ کا ذہن بڑی سنجیدگی سے نئی جہتوں کی اور نئی سمتوں کی تلاش میں سر گرداں رہا اور اپنے فکر و فن کے امتزاج سے نت نئے پیکر وضع کیے اور اردو غزل کو تازگی بخشی۔مضامین و خیال کو ڈھالنے کے لیے افتخار عارف نے ایک خاص ہیئت کا اختراع و انتخاب کرتے ہیں اور اسی پیمانے پر مواد موزوں ہوتے اور ڈھلتے چلے جاتے ہیں ۔مثلاً:
——
بستی بھی سمندر بھی بیاباں بھی مرا ہے
آنکھیں بھی مری، خواب پریشاں بھی مرا ہے
جو ڈوبتی جاتی ہے وہ کشتی بھی ہے میری
جو ٹوٹتا جاتا ہے وہ پیماں بھی مرا ہے
جو ہاتھ اٹھے تھے وہ سبھی ہاتھ مرے تھے
جو چاک ہوا ہے وہ گریباں بھی مرا ہے
جس کی کوئی آواز نہ پہچان نہ منزل
وہ قافلہ بے سروساماں بھی مرا ہے
——
یہ بھی پڑھیں : دلوں کے ساتھ جبینیں جو خم نہیں کرتے
——
افتخار عارف نے کلاسیکی روایت سے خوش اسلوبی کے ساتھ فائدہ اٹھایا ہے اور اس میں کچھ اودھی کے تخلیقی ربط کا ہے جو ابتدا میں لکھنٔوسے تعلق کی بنا پر ہوسکتا ہے۔ان کی آواز میں نرمی ہے کہیں کہیں طویل بحروں میں ارکان کی تعداد بڑھا دی ہے بعض جگہ آوازوں کو بڑھایا گھٹایا ہے جس سے ان کا لہجہ ہندی آہنگ سے قریب تر ہوگیا ہے۔افتخار عارف غزلیں اور نظمیں دونوں لکھتے ہیں دونوں پر یکساں قدرت حاصل ہے ۔طرز اور اسلوب ایک خاص نشیب و فراز سے گزرتے ہوئے عروج تک پہنچتے ہیں ۔چند اشعار ملاحظہ ہوں:
——
میں جس کو اپنی گواہی میں لے کے آیا ہوں
عجب نہیں کی وہی آدمی عدو کا بھی ہو
وہ جس کے چاک گریباں پہ تہمتیں ہیں بہت
اسی کے ہاتھ میں شاید ہنر رفو کا بھی ہو
ثبوت محکمئی جاں تھی جس کی برّش ناز
اسی کی تیغ سے رشتہ رگ گلو کا بھی ہو
وفا کے باب میں کار سخن تمام ہوا
مری زمیں پر اک معرکہ لہو کا بھی ہو
——
افتخار عارف کی شاعری کی کامیابی کا ایک سبب ان کے موضوعات اور ان کا لب و لہجہ ہے۔ہلکے رمزیہ اشاروں اور لطیف کنایوں میں اس طرح برتتے ہیں کہ بعض سامنے کے موضوعات میں بھی حسن اور تازگی پیدا ہوجاتی ہے۔ان کے اندر انسانیت کی تڑپ موجود ہے وہ معاشرے کی گھٹن اور جبر کو محسوس کرتے ہیں اس جبر کے اسباب کا احساس کرتے ہیں ان کے اندر احتجاجی کیفیت پیدا ہوتی ہے ۔افتخار عارف نے اپنے مافی الضمیر کے اظہار کے لیے جن علامتوں کا انتخاب کیا ہے وہ علامتیں اردو ادب میں نامانوس نہیں ہیں بلکہ قدیم شاعری سے لے کر جدید شاعری تک کربلا کی تلمیحات کا استعمال ہوتا رہا ہے۔جب کی نئی شاعری میں ان کی معنویتوں کا احساس ہوا اور انھیں عہد حاضر کے مسائل سے جوڑ کر دیکھا گیا۔اس سے اردو شاعری میں کافی اضافہ ہوا۔انھیں سبب کی بنا پر افتخار عارف کو انفرادیت عطا ہوئی ۔ان کا پہلا شعری مجموعہ 1983میں مہر دونیم کے نام سے شایع ہوا۔جس میں کربلااور اس واقعے کے متعلقات ان کی شاعری کا ایک خاص عنصر ہے۔یہ شعر دیکھئے:
——
شرف کے شہر میں ہر بام و در حسینؑ کا ہے
زمانے بھر کے گھرانوں میں گھر حسینؑ کا ہے
فرات وقت رواں دیکھ سوئے مقتل دیکھ
جو سر بلند ہے اب بھی وہ سر حسینؑ کا ہے
——
ان کا شعری وجدان کچھ اس نوعیت کا ہے کہ ان کے اشعار صدیوں کے درد کا منظر نامہ بن جاتے ہیں اور ان میں لطف و تاثیر پیدا ہوجاتی ہے۔
——
وہی پیاس ہے وہی دشت ہے وہی گھرانا ہے
مشکیزے سے تیر کا رشتہ بہت پرانا ہے
صبح سویرے رن پڑنا ہے اور گھمسان کا رنگ
راتوں رات چلا جائے جس جس کو جانا ہے
ایک چراغ اور ایک کتاب اور ایک امید اثاثہ
اس کے بعد تو جو کچھ ہے وہ سب افسانہ ہے
دریا پر قبضہ تھا جس کا اس کی پیاس عذاب
جس کی ڈھالیں چمک رہی تھیں وہی نشانہ ہے
——
افتخار عارف کے یہاں کئی کیفیتیں دوسروں سے بالکل مختلف ہیں محض ایک فن کار کا کرب جو انسان سے ٹوٹ کر محبت کرتا ہے۔جو زندگی کا متوالاہے اور درد کے رشتوں کو سمجھتا ہے۔جو زندگی ،سماج،معاشرے میں شریک بھی ہے۔اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ افتخار عارف نے بالواسطہ یا بلا واسطہ رثائی ادب سے استفادہ کیا ہے۔مثال کے طور پر ،دشت،پیاس،شام،کوفہ،قافلہ،لشکر،خنجر ،تیغ مقتل ،کربلا اور فرات کی لفظیات جا بجا دیکھنے کو ملتی ہیں ۔انھوں نے اپنے عہد کے سیاسی المیے کے اظہار کے لیے واقعات کربالاکا سہارا لیا ہے عصری جبر کی تصویر کشی کے لیے اسلامی تاریخ میں سانحہ کربلا ہی وسیع تر تلمیحاتی حوالہ ہے۔
——
اب بھی توہین اطاعت نہیں ہوگی ہم سے
دل نہیں ہوگا تو بیعت نہیں ہوگی ہم سے
روز اک تازہ قصیدہ نئی تشبیب کے ساتھ
رزق برحق ہے یہ خدمت نہیں ہوگی ہم سے
——
افتخار عارف کی شاعری کا بنیادی موضوع رزق جلیل ہے یہی رزق جلیل قربت خسروانہ میں بھی ہمیں مرنے نہیں دیتا بلکہ حیات ابدی کا سراغ دیتا ہے۔یہی رزق جلیل اور نان جویں ہمیں اس ٹھکانے تک پہچاتی ہے جسے گھر کے علاوہ کسی دوسرے لفظ سے تعبیر نہیں کرسکتے افتخار عارف کی شاعری کا رزق حلال اور گوشئہ عافیت ہے جو مکان کو گھر بناتا ہے۔اور ان دونوں کا حصول ہمیشہ اس منزل تک پہچاتا ہے ۔اسی ہمہ گیری نے افتخار عارف کے اس شعر کو ضرب المثل کے درجے پر فائز کردیاہے:
——
میرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کردے
میں جس مکان میں رہتا ہوں اس کو گھر کردے
——
کسی معاشرے کے عام عقائد اور تصورات کو شعر کے ذریعہ سے ضرب المثل بنادینا ایک کمال کی بات ہے گویا افتخار عارف نے اپنی فکرکو یہ عمومیت عطا کر کے شاعری کا حق ادا کیا ہے۔
——
یہ روشنی کے تعاقب میں بھاگتا ہوا دن
جو تھک گیا ہے تو اب اس کو مختصر کردے
میں زندگی کی دعا مانگنے لگا ہوں بہت
جو ہوسکے تو دعاؤں کو بے اثر کردے
میں اپنے خواب سے کٹ جیوں تو میرے خدا
اجاڑ دے میری مٹی کو دربدر کردے
مری زمین میرا آخری حوالہ ہے
سو میں رہوں نہ رہوں اس کو بارور کر دے
——
افتخار عارف ایک فنکار شاعر ہیں وہ حقیقت کی سنگینی سے واقف ہیںاور کتاب مساوات کے متن پر چڑھائے گئے حاشیے کے خطرناک اثرات سے سماج کو با خبر کرتے ہیں ۔ان کے موضوعات نا مانوس دنیا کے نہیں ہیں آئے دن پیش آنے والے تجربات سے حاصل کردہ مواد کو خاص اسلوب و انداز میں ادا کرتے ہیں یہی ان کا امتیازی فن ہے ۔
تنہائی ایک ایسا موضوع ہے جو ہر زمانے میں ہر فنکار کے حصے میں آیا فرق صرف یہ ہے کہ وقت اور حالات کے مطابق اس کی کیفیت بدلتی رہتی ہے۔افتخار عارف چاہتے ہیں کہ کوئی بھی دنیا میں مہاجر بن کر نہ رہے کیوں کہ ہجرت کا غم بہت ہی سنگین غم ہوتا ہے۔ہجرت اور تنہائی کا درد و کرب ساری خوشیاں چھین لیتا ہے۔زندگی بے رنگ ہوجاتی ہے۔یہ چند شعر ملاحظہ ہوں:
——
کہاں کے نام و نسب علم کیا فضیلت کیا
جہان رزق میں توقیر اہل حاجت کیا
شکم کی آگ لیے پھر رہی ہے شہر بہ شہر
سگ زمانہ ہیں ہم کیا ہماری ہجرت کیا
——
یہ شعر بھی قابل دید ہے:
——
کہیں سے کوئی حرف معتبر شاید نہ آئے
مسافر لوٹ کر اب اپنے گھر شاید نہ آئے
کسے معلوم اہل ہجر پر ایسے بھی دن آئیں
قیامت سر سے گزرے اور خبر شاید نہ آئے
——
ہجرت اور تنہائی ایسے تلازمے ہیں جو مل کر ایک موضوع کی تشکیل کرتے ہیں ۔وہ موضوع کبھی کبھی ذاتی و داخلی نوعیت کا ہوتا ہے تو کبھی خارجی سطح پر معانی تعبیر کرتا ہے۔دیار غیر میں سب کچھ ہوتے ہوئے بھی بہت سی چیزوں کی کمی کا احساس ہوتا ہے۔اپنی تہذیب و ثقافت اپنا معاشرہ ،اپنے لوگ،رسم و رواج،شادی بیاہ اور موت و حیات ان تمام چیزوں کی یاد ستانے لگتی ہے۔ان کے یہ خیالات ان کی غزلوں کے علاوہ نظموں میں بھی دیکھنے کو ملتے ہیں ۔
اجنبی اور تنہائی کا احساس جہاں ان کی غزلیہ شاعری میں جگہ پاتا ہے وہیں ہیئتی اعتبار سے نظم کا پیکر بھی اس سے خالی نہیں ہے۔جب ہم ان کی نظموں کا مطالعہ کرتے ہیں تو گویا یہ محسوس ہوتا ہے کہ دکھ درد ،غم کی کوئی کتاب پڑھ رہے ہیں جس میں ہمارے اپنے حالات و کیفیات موجود ہیں ۔انھوں نے متانت و شائستگی ،صلہ رحمی و ہمدردی اور اپنائیت کے احساس کا اظہار کرنے میں جس طرز کو اختیار کیا ہے وہ ان کی انفرادیت کی ضامن ہے۔مہر دونیم کی پہلی نظم مکالمہ کو دیکھئے اس نظم میں شاعر نے نہ صرف سوال کھڑا کیا ہے خالق کائنات کے حوالے سے بلکہ پہلے ایسے شاعر ہیں جنھوں نے جوابات بھی فراہم کیے ہیں ۔سوال تو بہت سے شاعروں نے کیے ہیں ۔نظم کا یہ حصہ دیکھئے جس میں قرانی اسلوب کی روشنی دیکھنے کو ملتی ہے۔
——
تو کون ہے جو لوح آب رواں پر سورج کو ثبت کرتاہے اور بادل اچھالتا ہے
جو بادلوں کو سمندروں پر کشید کرتا ہے اور بطن صدف میں خورشید ڈھالتا ہے
وہ سنگ میں آگ، آگ میں رنگ،رنگ میں روشنی کا امکان رکھنے والا
وہ خاک میں صوت، صوت میں حرف،حرف میں زندگی کا سامان رکھنے والا
نہیں کوئی ہے
کہیں کوئی ہے
کوئی تو ہوگا
(مکالمہ)
——
گویا نظم ’’مکالمہ‘‘ ایک ایسے سچ کی دریافت ہے جس میں شاعر اپنے آپ سے ہم کلام ہے اور منا ظر فطرت کے مشاہدے سے اور انسان کی داخلی نفسیات سے ایک حقیقت کا انکشاف کرتا ہے۔
’’قصہ ایک بسنت کا ‘‘ علامتی پیرائے کی نظم ہے جس کی اہمیت ہمیشہ ہمیش باقی رہے گی جب جب اس طرح کے حالات پیدا ہوتے رہے گیں ۔نظم پیش ہے:
——
پتنگیں لوٹنے والوں کو کیا معلوم کس کے ہاتھ کا مانجھا کھرا تھا اور کس کی ڈور ہلکی تھی
انھیں اس سے غرض کیا پینچ پڑتے وقت کن ہاتھوں میں لرزہ آگیا تھااور کس کی کھینچ اچھی تھی؟
ہوا کس کی طرف تھی ،کون سی پالی کی بیری تھی؟
پتنگیں لوٹنے والوں کو کیا معلوم ؟
انھیں تو بس بسنت آتے ہی اپنی اپنی ڈانگیں لے کے
میدانوں میں آنا ہے
گلی کوچوں میں کانٹی مارنا ہے پتنگیں لوٹنا ہے
لوٹ کے جوہر دکھانا ہے
پتنگیں لوٹنے والوں کو کیا معلوم کس کے ہاتھ کا مانجھا کھرا تھا اور کس کی ڈور ہلکی تھی
——
بارھواں کھلاڑی اردو کی زندہ نظموں میں سے ایک ہے آج جس طرح نظم ’’تنہائی‘‘ کا نام آتے ہی فیض احمد فیض یاد آتے ہیں اسی طرح ن م راشد ’’ حسن کوزہ گر ‘‘سے جانے جاتے ہیں یا ندیم احمدقاسمی پتھر کے حوالے سے یاد کیے جاتے ہیں بالکل اسی طرح ’’بارھواں کھلاڑی کا ذکر آتے ہی ہمارے ذھن پر افتخار عارف پوری طرح سماجاتے ہیں ۔نہایت معنیٰ خیزاور خاصی مشہور نظم ہے جو زندگی کے حقائق سے بہت قریب ہے اور اپنے اندر شدید قسم کی محرومی لیے ہوئے ہے۔مختصر ترین بحر میں کہی ہوئی یہ نظم ملاحظہ فرمائیں:
——
خوشگوار موسم میں
ان گنت تماشائی
اپنی اپنی ٹیموں کو
داد دینے آئے ہیں
اپنے اپنے پیاروں کا
حوصلہ بڑھاتے ہیں
میں الگ تھلگ سب سے
بارھویں کھلاڑی کو
ہوٹ کرتا رہتا ہوں
بارھواں کھلاڑی بھی
کیا عجب کھلاڑی ہے
کھیل ہوتا رہتا ہے
شور مچتا رہتا ہے
داد پڑتی رہتی ہے
اور وہ الگ سب سے
انتظار کرتا ہے
ایک ایسی ساعت کا
ایک ایسے لمحے کا
جس میں سانحہ ہوجائے
پھر وہ کھیلنے نکلے
تالیوں کے جھرمٹ میں
ایک جملہ خوش کن
ایک نعرۂ تحسین
اس کے نام پر ہوجائے
سب کھلاڑیوں کے ساتھ
وہ بھی معتبر ہوجائے
پر یہ کم ہی ہوتا ہے
پھر بھی لوگ کہتے ہیں
کھیل سے کھلاڑی کا
عمر بھر کا رشتہ ہے
چھوٹ بھی تو سکتا ہے
آخری وہسل کے ساتھ
ڈوب جانے والا دل
ٹوٹ بھی تو سکتا ہے
تم بھی افتخار عارف
بارھویں کھلاڑی ہو
انتظار کرتے ہو
ایک ایسے لمحے کا
ایک ایسی ساعت کا
جس میں حادثہ ہو جائے
جس میں سانحہ ہوجائے
تم بھی افتخار عارف
تم بھی ڈوب جاؤ گے
تم بھی ٹوٹ جاؤ گے
——
افتخار عارف نے جس طرح ایک عام موضوع پر قلم اٹھایا اور اسے ایک خاص شعری ہیئت میں ڈھال کر ایک نیا رنگ و آہنگ عطا کر کے جو حسن بخشا وہ واقعی امتیازی وصف کے لائق ہے۔ایک کرکٹ کا عام بارھواں کھلاڑی ،اس کی سوچ اور اس کے داخلی احساسات و چہرے کے اظہار کو نہایت ہی فلسفیانہ انداز میں چھوٹی چھوٹی بحروں کو پیکر دے کر موزوں کیا ہے ۔اور بالکل اسی طرح انسان کو ایک کھلاڑی سے تعبیر کرکے اس کو اپنی باری کا منتظر دکھایا ہے۔جو اپنا کردار ادا کرنے کا منتظر ہے۔یعنی ہم زندگی کے کھیل میں لگے ہوئے ہیں اور اپنی اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں ۔
آخیر میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ افتخار عارف کی شاعری زندگی کی بولتی قدروں کے ساتھ ہم آہنگ ہوتے ہوئے اپنے لہجہ کی الگ پہچان بنائی ہے۔ان کے لہجے کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ان کا اپنا منفرد اورپر اعتماد لہجہ ہے ان کے کینوس کے نئے رنگ تازہ کاری اور موضوعاتی تنوع اس تجرباتی عمل کا ثمرہ ہے۔ان کی شاعری اپنے فکری نظام اور فنی اہتمام کے باعث علیحدہ شناخت رکھتی ہے۔
——
منتخب کلام
——
نفاق و نفرت کی آندھیاں پھر اُجاڑ دیں گی تو کیا کریں گے
نئی زمینوں پہ بسنے والوں میں اک یہ ڈر بھی نیا نیا ہے
——
یہاں تک آئی ہے بپھرے ہوئے لہو کی صدا
ہمارے شہر میں کیا کچھ نہیں ہوا ہو گا
——
ہوسِ لقمۂ تر کھا گئی لہجے کا جلال
اب کسی حرف کو حُرمت نہیں ملنے والی
——
تمام خانہ بدوشوں میں مشترک ہے یہ بات
سب اپنے اپنے گھروں کو پلٹ کے دیکھتے ہیں
——
بس ایک خاک کا احسان ہے کہ خیر سے ہیں
وگرنہ صورتِ خاشاک در بدر رہتے
——
رنگ تھا روشنی تھا قامت تھا
جس پہ ہم مر مٹے قیامت تھا
——
مرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کر دے
میں جس مکان میں رہتا ہوں اس کو گھر کر دے
——
مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے
——
ملک سخن میں درد کی دولت کو کیا ہوا
اے شہر میرؔ تیری روایت کو کیا ہوا
ہم تو سدا کے بندۂ زر تھے ہمارا کیا
نام آوران عہد بغاوت کو کیا ہوا
گرد و غبار کوچۂ شہرت میں آ کے دیکھ
آسودگان کنج قناعت کو کیا ہوا
گھر سے نکل کے بھی وہی تازہ ہوا کا خوف
میثاق ہجر تیری بشارت کو کیا ہوا
——
منظر سے ہیں نہ دیدۂ بینا کے دم سے ہیں
سب معجزے طلسم تماشا کے دم سے ہیں
مٹی تو سامنے کا حوالہ ہے اور بس
کوزے میں جتنے رنگ ہیں دریا کے دم سے ہیں
کیا ایسی منزلوں کے لیے نقد جاں گنوائیں
جو خود ہمارے نقش کف پا کے دم سے ہیں
یہ ساری جنتیں یہ جہنم عذاب و اجر
ساری قیامتیں اسی دنیا کے دم سے ہیں
ہم سارے یادگار زمین و زمانہ لوگ
اک صاحب زمین و زمانہ کے دم سے ہیں
——
کوئی مژدہ نہ بشارت نہ دعا چاہتی ہے
روز اک تازہ خبر خلق خدا چاہتی ہے
موج خوں سر سے گزرنی تھی سو وہ بھی گزری
اور کیا کوچۂ قاتل کی ہوا چاہتی ہے
شہر بے مہر میں لب بستہ غلاموں کی قطار
نئے آئین اسیری کی بنا چاہتی ہے
کوئی بولے کے نہ بولے قدم اٹھیں نہ اٹھیں
وہ جو اک دل میں ہے دیوار اٹھا چاہتی ہے
ہم بھی لبیک کہیں اور فسانہ بن جائیں
کوئی آواز سر کوہ ندا چاہتی ہے
یہی لو تھی کہ الجھتی رہی ہر رات کے ساتھ
اب کے خود اپنی ہواؤں میں بجھا چاہتی ہے
عہد آسودگی جاں میں بھی تھا جاں سے عزیز
وہ قلم بھی مرے دشمن کی انا چاہتی ہے
بہر پامالی گل آئی ہے اور موج خزاں
گفتگو میں روش باد صبا چاہتی ہے
خاک کو ہمسر مہتاب کیا رات کی رات
خلق اب بھی وہی نقش کف پا چاہتی ہے
——
خواب دیکھنے والی آنکھیں پتھر ہوں گی تب سوچیں گے
سندر کومل دھیان تتلیاں بے پر ہوں گی تب سوچیں گے
رس برسانے والے بادل اور طرف کیوں اڑ جاتے ہیں
ہری بھری شاداب کھیتیاں بنجر ہوں گی تب سوچیں گے
بستی کی دیوار پہ کس نے ان ہونی باتیں لکھ دی ہیں
اس ان جانے ڈر کی باتیں گھر گھر ہوں گی تب سوچیں گے
مانگے کے پھولوں سے کب تک روپ سروپ کا مان بڑھے گا
اپنے آنگن کی مہکاریں بے گھر ہوں گی تب سوچیں گے
بیتی رت کی سب پہچانیں بھول گئے تو پھر کیا ہوگا
گئے دنوں کی یادیں جب بے منظر ہوں گی تب سوچیں گے
آنے والے کل کا سواگت کیسے ہوگا کون کرے گا
جلتے ہوئے سورج کی کرنیں سر پر ہوں گی تب سوچیں گے
——
نظم : ایک اداس شام کے نام
——
عجیب لوگ ہیں
ہم اہل اعتبار کتنے بد نصیب لوگ ہیں
جو رات جاگنے کی تھی وہ ساری رات
خواب دیکھ دیکھ کر گزارتے رہے
جو نام بھولنے کا تھا اس ایک نام کو
گلی گلی پکارتے رہے
جو کھیل جیتنے کا تھا وہ کھیل ہارتے رہے
عجیب لوگ ہیں
ہم اہل اعتبار کتنے بد نصیب لوگ ہیں
کسی سے بھی تو قرض آبرو ادا نہیں ہوا
لہو لہان ساعتوں کا فیصلہ نہیں ہوا
برس گزر گئے ہیں کوئی معجزہ نہیں ہوا
وہ جل بجھا کہ آگ جس کے شعلۂ نفس میں تھی
وہ تیر کھا گیا کمان جس کی دسترس میں تھی
سپاہ مہر کا فصیل شب کو انتظار ہے
کب آئے گا وہ شخص جس کا سب کو انتظار ہے
ہم اہل اعتبار کتنے بد نصیب لوگ ہیں
عجیب لوگ ہیں
ہم اہل اعتبار کتنے بد نصیب لوگ ہیں
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ