اردوئے معلیٰ

Search

آج معروف نوجوان شاعر جواد شیخ کا یوم پیدائش ہے

جواد شیخ(پیدائش: 26 مئی 1985ء )
——
جواد شیخ اردو غزل کا ایک اہم نام ہیں ۔ بھلوال ، ضلع سرگودھا سے تعلق ہے ۔
تیرہ برس اوسلو (ناروے) اور پرتگال میں گزارے۔
1997 میں شاعری کا آغاز ہوا جبکہ باقاعدہ آغاز 2002 سے کیا ۔
سرگودھا یونیورسٹی سے اردو ادب میں ماسٹرز کیا حلقہ اربابِ ذوق اوسلو (ناروے) کے جنرل سیکرٹری رہے ۔
جنوری 2016 میں ان کا پہلا مجموعہ "”کوئی کوئی بات”” منظر عام پر آیا ہے۔ جسے ادبی حلقوں میں بہت پذیرائی حاصل ہوئی۔
دنیا کے کئی ممالک میں مشاعروں کے سلسلہ میں شریک ہوتے رہتے ہیں ۔
مختلف ادبی ایوارڈ وصول کیے جن میں اُن کی کتاب "کوئی کوئی بات” کو پیش کیا جانے والا "نم گرفتہ ایواراڈ 2016/2017″ اور ” اشارہ ادبی ایوارڈ 2017″ سر ِ فہرست ہیں ۔
جواد شیخ کے اکثر اشعار زبان زدِ عام ہیں
——
"کوئی کوئی بات” کا شاعر از غلام حسین ساجد
——
انیس ناگی نے اپنے کسی مضمون میں سوال اٹھایا تھا کہ کیا غزل ایسا متن ہے جسے سبھی شاعر یکساں سہولت سے لکھ رہے ہیں؟ اور محمد سلیم الرحمٰن نے موضوعات کی یکسانیت کی بنیاد پر اپنے ایک انگریزی کالم میں غزل کے شاعروں کو ممیاتی ہوئی بھیڑوں کا گلّہ قرار دیا تھا تو میں ایک غزل گو شاعر ہونے کے ناتے کئی دن پریشان رہا کہ آخر ان دونوں دانشوروں نے غزل کے حوالے سے اس تلخ گوئی کا مظاہرہ کیا تو کیوں کیا؟ اور بہت غور کرنے پر میری سمجھ میں یہ بات آئی کہ اس یکسانیت کی وجہ یہ ہے کہ غزل زندگی سے مکالمہ کرنے کا نام ہے اور غزل کا ستم پیشہ محبوب کوئی اور نہیں، بذاتِ خود زندگی ہے جو کبھی اپنے چاہنے والوں پر مہربان نہیں ہوتی اور اس کے کرم کا حقدار ہمیشہ رقیب یعنی زمانہ ہوتا ہے- اس لئے غزل کے متن کی عمومی قرات میں ایک خاص طرح کے توارد کا شائبہ محسوس ہوتا ہے جو بڑے شاعروں کے یہاں اور زیادہ ابھر کر سامنے آتا ہے-
——
یہ بھی پڑھیں : خادم رزمی کا یوم وفات
——
"کوئی کوئی بات” کے شاعر جواد شیخ کی غزل اس تسامح سے پاک ہے- ان تک آتے آتے غزل کلاسیکی، جدید، نئی اور اساطیری غزل کے موضوعی تجربوں سے گزر آئی ہے اور غزل کے میدان میں ایک بار پھر تغزل اور زندگی سے پیوست معاملات کو اجاگر کرنے کی راہ ہموار ہوئی ہے- یہی وجہ ہے کہ اسّی کی دہائی اور اس کے بعد کے شعرا زندگی اور اس سے جڑے موضوعات کو ایک تواتر کے ساتھ منتخب ہی نہیں کر رہے اس میں روحِ عصر کی نمو کا حق بھی ادا کر رہے ہیں- اس ضمن میں عباس تابش، قمر رضا شہزاد، اختر عثمان، حسن عباسی، ندیم بھابھہ ، عامر سہیل، ضیاالحسن، آفتاب حسین، حمیدہ شاہین اور یاسمین حمید وغیرہم کے نام سہولت سے ذہن میں آتے ہیں- جواد شیخ بھی غزل کی توانائی سے بھرپور استفادہ کرنے والے انہی شاعروں میں سے ایک ہیں-
"کوئی کوئی بات” جواد شیخ کی غالباً پہلی کتاب ہے جسے کسی دعوے، فلیپ، تقریظ اور دیباچے کے بغیر پیش کیا گیا ہے- اس سادگی کی ایک ہی وجہ سمجھ میں آتی ہے کہ شاعر کو خود پر اور اپنے طرزِ سخن پر اعتماد ہے اور حقیقت یہ ہے کہ یہ اعتماد بے وجہ نہیں کیونکہ اس کتاب کا مطالعہ، ان کے خوش فکر اور منفرد شاعر ہونے کی دلیل بنتا ہے اور اس کے تناظر میں وہ غزل کی ایک توانا آواز بن کر سامنے آتے ہیں –
جواد شیخ کی غزل کی پہلی انفرادیت جدت ہے ان کے یہاں غزل کے پژمردہ موضوعات جیسے تازہ دم ہوکر سہولت سے سانس لینے لگتے ہیں – غزل کے عمومی متن کو خصوصی بنانے کا کام کوئی آسان کام نہیں- اس کے لئے توفیق کے علاوہ ایک نکتہ رس دماغ کی ضرورت پڑتی ہے اور جواد شیخ کے یہاں اس نعمت کی کمی نہیں، چند شعر دیکھیئے
——
اِک تو ویسے بڑی تاریک ہے خواہش نگری
پھر طویل اتنی کہ پیدل نہیں دیکھی جاتی
——
اتنی جلدی تو سنبھلنے کی توقع نہ کرو
وقت ہی کتنا ہوا ہے مرا سپنا ٹوٹے
——
یہ لوگ میری خموشی پہ مجھ سے نالاں ہیں
کوئی یہ پوچھے میں گویا ہوا تو کیا ہوگا
——
خدا کے بارے میں اک دن ضرور سوچیں گے
ابھی تو خود سے تعلق بھی استوار نہیں
——
میں اُسے چھوڑنا چاہوں بھی تو کیسے چھوڑوں
وہ کسی اور کا ہو کر نہیں رہنے والا
——
ہمارے درد کو ہجرت نہ کرنی پڑ جائے
ہمیں یہ دیکھنا پڑتا ہے آہ بھرتے ہوئے
——
بتا سکتا ہوں میں صاحب تمہیں سمجھا نہیں سکتا
کہ غربت میں ذرا سی بات بھی محسوس ہوتی ہے
——
یہ چند اشعار اس کتاب کی شروع کی چند غزلوں سے ہیں اور اس بات کی تصدیق کے لئے کافی ہیں کہ اس سے شاعر کی ندرتِ فکر کے علاوہ بیان کی انفرادیت کا احساس بھی ہو جائے- بات یہ ہے کہ آج کے شاعر کے لئے غزل کے میدان میں رم کرنے لئے دو باتوں کا دھیان رکھنا ضروری ہے- پہلی تو یہ کہ وہ غزل کی روایت کو ایک تجزیاتی دانش کے ساتھ اپنے کلام کی طاقت بنائےاور دوسری یہ کہ وہ پیش پا افتادہ موضوع میں کوئی ایسی جہت پیدا کرے جو خاص اسی کے مزاجِ شعری سے علاقہ رکھتی ہو- جواد شیخ کے یہاں یہ دونوں خوبیاں موجود ہیں- وہ زندگی سے جڑی ہر کیفیت میں معلوم و نامعلوم کی توانائی بھرنے کی اہلیت رکھتے ہیں اور یوں ان کی غزل ایک متحرک وجود بن کر قاری کی روح کو سرشار اور تازہ دم کرنے میں کامیاب رہتی ہے-
——
یہ بھی پڑھیں : قیوم نظر کا یومِ پیدائش
——
غزل میں کئی طرح کے لہجے اور تجربات آزمائے جا چکے ہیں مگر میری رائے میں اس کی کنہٗ ممکنات کو مَس کر کے پچھڑ جانے والی کسی کوشش سے پھوٹنے والی اداسی ہے، جس میں غربت اور ہجرت کے تجربے کی نمو اور شدت پیدا کرتی ہے – جواد شیخ کے یہاں اس کیفیت کا تاثر بہت گہرا ہے جو اس کے سچے شاعر ہونے کی دلیل ہے- ذرا دیکھئے
——
تم اپنی حالتِ غربت کا غم مناتے ہو
خدا کا شکر کرو مجھ سے بے دیار نہیں
——
وطن سے دور اداسی نڈھال کرتی ہے
کبھی جو خواب میں ہم اپنے گھر کو دیکھتے ہیں
——
سوچنا پڑ رہا ہے رک رک کر
جی رہا ہوں کہ مر رہا ہوں میں
——
اپنے سامان کو باندھے ہوئے اس سوچ میں ہوں
جو کہیں کے نہیں رہتے وہ کہاں جاتے ہیں
——
"کوئی کوئی بات” زندگی کے بیش و کم کا استعارہ ہے- فہمیدہ ریاض نے پروین شاکر کے بارے میں ایک تاثر میں کہا تھا کہ اسے پڑھتے ہوئے میں خود کو بہت ہی یاد آئی- دراصل یہ کیفیت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب آپ کا اور شاعر کا تجربہ کسی نہ کسی سطح پر مماثل ہوتا ہے اور آپ اس کی فکر کے آئینے میں اپنی کھوئی ہوئی دنیا کا احیا کرتے ہیں اور یہ تبھی ممکن ہوتا ہے جب شاعر اپنی ذات اور اپنے موجود سے جڑا ہو- جواد شیخ کی شاعری میں موجود سے ہمدمی کا سلسلہ بہت وسیع ہے اور اسے پڑھتے ہوئے آپ کو قدم قدم پر خود اپنے آپ سے ملنے کی سہولت ملتی ہے- آج کی دنیا میں یہ قدر غیر موجود نہیں تو کمیاب ضرور ہے-
——
پھر کسی سے بھی مجھے کوئی شکایت نہ رہی
میں نے جب دیکھ لیا خود پہ بھروسہ کر کے
——
مرے خیال میں یہ بات بھی سمجھ کی ہے
کہ اپنے آپ کو سمجھا نہیں گیا مجھ سے
——
کیا کہوں کس قدر ہوا دی ہے
میرے جذبوں کو نارسائی نے
——
ہم کہیں کے نہ ہوئے پوری طرح
کہ یہاں بھی تھے، کہیں اور بھی تھے
——
اب اور ضبط کی طاقت نہیں رہی مجھ میں
میں اپنے خواب کا پرچار کرنے والا ہوں
——
کوئی کوئی بات کے شاعر نے زبان و بیان کی سطح پر کوئی نیا تجربہ کیا ہے نہ غزل کی ہئیت کے حوالے سے کسی نوع کی جدت طرازی دکھائی ہے- پھر بھی اس کے لہجے میں تازگی اور اس کی شاعری کا مجموعی حوالہ اس کا نیا پن ہے- اس لئے کہ وہ اپنی ذات، اپنے موجود اور اپنےعصر سے بیگانہ نہیں- بلّھے شاہ نے کہا تھا
——
بلھیا رب کہو نہ کہو
آئی صورتوں سچّا رہو
——
یہ بھی پڑھیں : ہری چند اختر کا یوم پیدائش
——
کیونکہ آئی صورتوں سچا رہنے والا شخص حقیقتِ ازلی کا منکر نہیں ہو سکتا- کچھ یہی کیفیت جواد شیخ کی ہے اور اس کی شاعری اس کی سچائی اور عدم ریائی پر دلالت کرتی ہے- میں اپنی بات کی مزید وضاحت نہیں کروں گا کہ بقول جواد
——
وضاحتوں میں اُلجھ کر یہی کھُلا جوّاد
ضروری ہے کہ رہے ان کہی کوئی کوئی بات
——
23 جنوری 2016 لاہور
——
منتخب کلام
——
نہ شرق و غرب کا ہے اور نہ عرش و فرش کا ہے
کسی طرف کا نہیں ، جو شہِ نجف کا نہیں
——
اپنے سامان کو باندھے ہوئے اس سوچ میں ہوں
جو کہیں کے نہیں رہتے وہ کہاں جاتے ہیں
——
عام لوگوں میں اداسی ہے تعارف میرا
اور شاعر مرے لہجے سے مجھے جانتے ہیں
——
آپ کہیے تو نبھاتے چلے جائیں گے مگر
اِس تعلق میں اذیت کے سِوا کچھ بھی نہیں
——
لڑتے ہوئے سالار کو یاد آیا ، کوئی زخم !
اک ہاتھ سے دل ، ایک سے تلوار کو تھاما
——
ہمیں اپنی تلاش میں مت بھیج
کھڑی فصلیں اجاڑ آئیں گے
——
تو اب مرے تمام رنج مستقل رہیں گے کیا ؟؟
تو کیا تمہاری خامشی کا کوئی حل نہیں رہا ؟؟
کڑی مسافتوں نے کس کے پاؤں شل نہیں کیے ؟؟
کوئی دکھاؤ جو بچھڑ کے ہاتھ مَل نہیں رہا !!
——
تجربہ گاہ ِ محبت میں ہمیں عمر ہوئی
آتے جاتے ہیں مگر کچھ نہیں آتا جاتا
——
مرا خزانہ زمانے کے ہاتھ جا نہ لگے
تجھے کسی کی ، کسی کو تری ہوا نہ لگے
میں ایک جسم کو چکھنا تو چاہتا ہوں مگر
کچھ اس طرح کہ مرے منہ کو ذائقہ نہ لگے
ہمیں لگا سو لگا خود اذیتی کا نشہ
دعا کرو کہ تمہیں بددعا دعا نہ لگے
دعا کرو کہ کسی کا نہ دل لگے تم سے
لگے تو اور کسی سے لگا ہُوا نہ لگے
حسد کیا ہو ترے رزق سے کبھی میں نے
تو مجھ کو اپنی کمائی ہوئی غذا نہ لگے
ہمیں ہی عشق کی تشہیر چاہیے ورنہ
پتہ نہ لگنے دیا جائے تو پتہ نہ لگے
پڑا رہا میں کسی اور ہی بکھیڑے میں
بہت سے قیمتی جذبے کسی دشا نہ لگے
بنا رہا ہوں تصور میں ایک مدت سے
اِک ایسا شہر جسے کوئی راستہ نہ لگے
ہمیں تو اُس سے محبت ہے اور بے حد ہے
اگر اُسے نہیں لگتا تو کیا ہُوا ، نہ لگے
خدا کرے کہ ہمارے سروں پہ کوئی خدا
خدائے واحد و یکتا کے ماسِوا نہ لگے
کسے خوشی نہیں ہوتی سراہے جانے کی
مگر وہ دوست ہی کیا ہے جو آئنہ نہ لگے
کبھی کبھار جو رکھنے لگے زباں کا بھرم
وہ اب بھی کیا نہیں لگتا ، مذید کیا نہ لگے
یہی کہوں گا کہ جواد ! بچ بچا کے ذرا
اگر کسی کا رویہ برادرانہ لگے
——
ایسا مت کہہ کہ یہاں تُو غلطی سے آیا
دل وہ حجرہ ہے جہاں غم بھی خوشی سے آیا
خامشی آئی دریدہ دہنی سے تیری
دیکھنا مجھ کو تری کم نظری سے آیا
فتح مندی کا جو اِک رنگ ہے اُس چہرے پر
سرخروئی سے نہیں ۔۔۔۔۔ دل شکنی سے آیا
ورنہ راہیں تو مری سمت کئی آتی تھیں
اٌس کو عجلت تھی سو بے راہ روی سے آیا
نئے ملبوس میں وہ جچ تو رہا ہے لیکن
کوئی پوچھے کہ یہ کس آمدنی سے آیا
اِس کہانی میں ترا ذکر بھی آیا تو سہی
کیا ہوا جو مری کردار کشی سے آیا
آزماتا ہوں مگر اور کسی پر ، افسوس !!
یہ ہنر جبکہ مجھے اور کسی سے آیا
اب کوئی روک رہا ہو تو میں رک جاتا ہوں
مجھ میں یہ وصف غریب الوطنی سے آیا
موت کا خوف بڑا خوف ہے لیکن جواد
جو مجھے اُسکی توجہ میں کمی سے آیا
——
اِک محبت کے حوالے سے مجھے جانتے ہیں
وہ سبھی لوگ جو اچھے سے مجھے جانتے ہیں
عام لوگوں میں اداسی ہے تعارف میرا
اور شاعر مرے لہجے سے مجھے جانتے ہیں
سونے والوں سے بھی نسبت کوئی ہو گی میری
جاگنے والے تو گریے سے مجھے جانتے ہیں
سب نے رکھی ہوئی ہے کوئی نشانی میری
جیسے کچھ آنکھ کے حلقے سے مجھے جانتے ہیں
میں کسی اور تعلق سے اُنہیں دیکھتا ہوں
وہ کسی اور علاقے سے مجھے جانتے ہیں
سچ تو یہ ہے کہ مجھے لوگ نہیں جان سکے
خاص کر جو بڑے دعوے سے مجھے جانتے ہیں
——
تم اگر سیکھنا چاہو مجھے بتلا دینا
عام سا فن تو کوئی ہے نہیں تحفہ دینا
اُن بزرگوں کا یہی کام ہوا کرتا تھا
جہاں خوبی نظر آئی اُسے چمکا دینا
دل بتاتا ہے مجھے عقل کی باتیں کیا کیا
بندہ پوچھے کہ ترا ہے کوئی لینا دینا
کیا پتہ، خود سے چھڑی جنگ کہاں لے جائے
جب بھی یاد آؤں، مِری جان کا صدقہ دینا
اُس کی فطرت میں نہ تھا ترک ِ تعلق لیکن
دوسرے شخص کو اِس نہج پہ پہنچا دینا
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ