اردوئے معلیٰ

Search

آج عمران سیریز کے سینکڑوں ناول لکھنے والے مظہر کلیم ایم اے کا یوم وفات ہے

مظہر کلیم ایم اے(پیدائش:22 جولائی 1942ء – وفات: 26 مئی 2018ء)
——
مظہر کلیم ملتان پاکستان کے کامیاب قانون دان اور ناول نگار جو پاکستانی مصنف ابن صفی کی تخلیق کردہ عالمی شہرت یافتہ عمران سیریز اور جاسوسی دنیا (فریدی حمید سیریز) کی وجہ سے خاصے مقبول ہوئے۔ ریڈیو ملتان کا مشہور سرائیکی ریڈیو ٹاک شو "جمہور دی آواز” کے اینکرپرسن بھی رہے۔ ملتان بار کونسل کے نائب صدر بھی منتخب ہوئے نیز ملتان کی ضلعی عدالتوں کی سربراہی بھی کی۔
مظہر کلیم نے ابن صفی کی تخلیق کردہ مشہور و معروف عمران سیریز پر قلم آزمائی کی۔ یہ بات بھی یاد رہے کہ یہ سب مظہر کلیم نے اُس وقت کیا جب ابن صفی حیات تھے اور اپنے کرداروں پر ناول لکھ رہے تھے۔ مظہر کلیم نے نہ صرف ابن صفی کے کرداروں پر بلا اجازت لکھا بلکہ اپنے طور پر اس میں مزید توسیع کی اور چند نئے کرداروں کو متعارف کروایا۔ اسی کے ساتھ بچوں کے لیے بھی بہت سے ناول لکھے جن میں چلوسک ملوسک سیریز، آنگلو بانگلو سیریز، فیصل شہزاد سیریز اور چھن چھنگلو سیریز بھی مشہور ہوئی۔
مظہر کلیم کی پیدائش 22 جولائی 1942ء کو پاکستان کے شہر ملتان میں ہوئی۔ والد حمید یار خان ایک برخاست شدہ پولس افسر تھے۔ مظہر کلیم کا اصل نام مظہر نواز خان ہے لیکن مظہر کلیم خان کے قلمی نام سے شہرت پائی۔
ملتان اسلامیہ ہائی اسکول میں تعلیم حاصل کی اور دانشگاہ ایمرسن (Emerson College) سے فراغت حال کی؛ اس کے بعد جامعہ ملتان (حالیہ جامعہ بہاء الدین زکریا) سے اردو ادب میں ایم اے اور ایل ایل بی کی۔
——
یہ بھی پڑھیں : صفی لکھنوی کا یوم پیدائش
——
پیشہ کے لحاظ سے ایک قانون دان ہے اور ناول نگاری کو ایک جزوقتی مشغلہ کے طور پر اپنایا۔ نیز ریڈیو ملتان کا مشہور سرائیکی ریڈیو ٹاک شو "جمہور دی آواز” کے اینکرپرسن بھی رہے۔
مظہر کلیم کے 2 لڑکے اور 4 لڑکیاں ہیں۔ لیکن سب سے بڑا بیٹا فیصل جان 31 سال کی عمر میں وفات پاگیا اور دوسرا لڑکا فہد عثمان خان ایک بنک میں ملازم ہے۔
26 مئی 2018ء کو ملتان میں وفات پائی۔
——
بچوں کا ادب از اختر سردار چودھری
——
’’میں نے اتنی بڑی تعداد میں ناول اپنی قوت خیال کے زور پر لکھے ہیں کیونکہ جب خیال کو قوت مل جاتی ہے تو جیسے آپ کو پر لگ جاتے ہیں اب یہ آپ پر ہے کہ آپ کہاں تک اُڑ سکتے ہیں۔
نسل نو میں کتب بینی اور کتاب دوستی کو فروغ دینے میں مظہر کلیم ایم اے کا بڑاکردار ہے
قوت خدا کی دین ہے تھوڑی بھی ہو سکتی ہے اور زیادہ بھی اس میں مطالعہ لازمی جزو ہے، مطالعہ اور مشاہدہ تخیل کو پر لگا دیتے ہیں جتنا عمیق مطالعہ ہو گا جتنا مشاہدہ تیز ہوگا جب ان ساری قوتوں میں تخیل بھی شامل ہو جائے تو پھر کوئی ایسی چیز ہی بنے گی جو لوگوں کے لئے حیران کن ہوگی۔‘‘مظہر کلیم نے یہ الفاظ اپنے ایک انٹرویو میں کہے تھے ۔آب زر سے لکھے جانے والے یہ الفاظ تقریباً سات سو کے قریب عمران سیریز لکھنے والے ملک کے صف اول کے تخلیق کار مظہر کلیم ایم اے کے ہیں ۔جاسوسی ادب میں ابن صفی کے بعد مظہر کلیم ایم اے کو جو شہرت حاصل ہوئی اس کی مثال مشکل ہی نہیں ناممکن ہے ۔انہوں نے عمران کے کردار کو نہ صرف موجودہ عہد بلکہ آنے والے عہد میں لکھا ہے۔عمران کے کردار کی تخلیق کا بڑا دلچسپ واقعہ ہے ۔ہوا کچھ ایسے کہ چند ادیب بیٹھے ادب بارے گفتگو کر رہے تھے ان میں ابن صفی بھی شامل تھے ۔زیادہ اس رائے کے حق میں تھے کہ ادب عشق و محبت کے علاوہ کچھ نہیں ۔لیکن ابن صفی نے اس بات پر اختلاف کیا ۔اور بعد ازاں عمران کا کردار متعارف کروایا ۔جو عشق ومحبت میں ان ادباء سے بھی دو قدم آگے تھا لیکن یہ محبت زمین سے تھی اپنے وطن سے تھی ۔اس میں مزاح بھی تھا اور ادبی چاشنی کے ساتھ جاسوسی بھی تھی ۔
——
یہ بھی پڑھیں : عمران عامی کا یوم پیدائش
——
ہم میں سے شائد ہی کوئی ایسا ہوجس نے بچپن میں عمران سیریز نہ پڑھی ہو۔ہزاروں نے لکھنا ابن صفی کو پڑھ کر سیکھا ۔یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے ۔ابن صفی کی وفات کے بعد یک دم بہت سے جعلی ابن صفی وجود میں آ گئے انہوں نے اپنے نام کے ساتھ صفی کا لاحقہ بھی لگایا ۔انہی دنوں مظہر کلیم ایم اے بھی اس میدان میں کودپڑے اور دیکھتے ہی دیکھتے چھا گئے ۔اب جب بھی عمران سیریز کا ذکر ہوتا ہے تو دو نام ابن صفی اور مظہر کلیم ایم اے ہی قابل ذکر ہیں۔
مظہر کلیم 22 جولائی 1942ء کو پاکستان کے شہر ملتان میں پیدا ہوئے۔والد حامد یار خان ایک پولیس آفیسر تھے ۔ملتان اسلامیہ ہائی اسکول میں تعلیم حاصل کی۔ جامعہ ملتان (حالیہ جامعہ بہاء الدین زکریا) سے اردو ادب میں ایم اے پھر صحافت کی طرف آئے ۔اصل نام مظہر نواز خان تھا لیکن قلمی نام مظہر کلیم ایم اے کے نام سے شہرت پائی۔ ملتان سے ایک روزنامہ ’’آفتاب‘‘ شائع ہوتا تھا۔ مسلسل3 سال ان کا کالم ’’تماشا میرے آگے‘‘ بھی اسی اخبارکے ادارتی صفحہ پر چھپتا رہا۔
صحافت کے دوران ہی میں ایل ایل بی کر لیا تھا، 1978ء کے قریب اخبار کی ملازمت چھوڑ کر کل وقتی وکالت شروع کر دی۔اور جز وقتی ناول نویسی ۔ناول نویسی کی طرف آنے کا بھی ایک معمولی سا حادثہ بنا ۔ان کے دوست بی اے جمال تھے ، انہوں نے بوہڑ گیٹ میں اپنی ایک لائبریری اور ایک پبلشنگ ہاؤس بنا رکھا تھا، وہ اپنے ادارے کی طرف سے جاسوسی ادب شائع کرتے رہتے تھے۔
——
یہ بھی پڑھیں : ابن صفی کا یوم پیدائش اور یوم وفات
——
ابن صفی کی وفات کے بعد ایک دن انہوں نے جاسوسی ادب میں دو نمبری کا ذکر کیا تو مظہر کلیم صاحب نے کہا میں ناول لکھ دیتا ہوں لیکن میرے نام سے شائع ہونا چاہیے ۔اس طرح انہوں نے زندگی کا پہلا جاسوسی ناول ’’ماکا زونگا‘‘ لکھا جو افریقی قبائل کے پس منظر میں تھا۔اس کے بعد یہ سفر ان کی وفات تک جاری رہا ۔میرے خیال میں ابن صفی کے بعد جاسوسی ا دب کو مزیدوسعت مظہر کلیم ایم اے نے دی ۔انہوں نے بہترین ادب لکھا۔ان کے موضوعات میں تنوع تھا ۔ان کے ناولز میں خاص بات سائنس کا ٹچ تھا ۔انہوں نے ایسی ایسی ایجادات کے بارے میں لکھا جو بعد میں ایجاد ہوئیں ۔ان کا ہر ناول 50 سے 60 ہزار کی تعداد میں شائع ہوتا رہا ۔بچوں کے لیے انہوں نے آنگلو بانگلو سیریز شروع کی تھی ۔اس پر بھی انہوں نے کافی ناولز لکھے ۔ابن صفی چونکہ عمران سیریز کے خالق ہیں اس لیے ان کا مقام اپنی جگہ ہے لیکن جناب مظہرکلیم ایم اے نے ان کرداروں پر جتنا کام کیا ہے اس کی مثال ہی نہیں ملتی۔
اس وقت پاکستان میں شاید ہی کوئی اور ناول نگار ہو جو ان کی جگہ لے سکے ۔ان کے علاوہ عمران سیریز پر یوں تو ظہیر احمد نے بھی لکھا لیکن وہ بھی ا س دار فانی سے کوچ کر گئے ہیں ۔ایک نام مشتاق احمد قریشی بھی ہیں لیکن اب کافی عرصہ ہوا ۔انہوں نے اسلامی بکس اور ایک مشہور اخبار میں کالم نویسی شروع کی ہوئی ہے۔ابن صفی کی وفات کے بعد مظہر کلیم صاحب نے ایک طویل عرصے تک عمران سیریز کو زندہ رکھا تھا اور اپنے لاکھوں قارئین کو عمران سیریز کے کرداروں سے جوڑے رکھا تھا ۔
تقریباً نصف صدی تک وہ بچوں کے ادب اور جاسوسی ناولز پر راج کرتے رہے ، وہ بے شمار خدا داد صلاحیتیں رکھتے تھے ،انہیں ادبی دنیا میں ایک منفرد مقام حاصل تھا۔مظہر کلیم ایم اے کی عاجزی و انکسار ی بھی قابل دید ہوتی۔ وہ اپنے کام اور فن پر فخر کرنے والے کبھی نہ تھے۔ وہ اپنے کام سے کام رکھنے والے عظیم انسان تھے۔ ان کی وفات سے بچوں کا ادب ایک خوبصورت سائبان سے محروم ہو گیا ۔ وہ پیشہ کے اعتبار سے وکیل تھے اور ریڈیو پرسرائیکی پروگرام ”جمہور دی آواز” میں بطور اینکر بھی کام کرتے تھے۔26 مئی 2018ء کو بعد نماز ظہر ابدالی مسجد ملتان میں ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی اور انہیں ہزاروں سوگوارن کی موجودگی میں آہوں سسکیوں کے ساتھ منوں مٹی تلے سپرد خاک کر دیا گیا ۔ اردو ادب کے نامور ناول نگارمظہر کلیم ایم اے کو ہم سے بچھڑے تین برس بیت گئے ہیں لیکن وہ آج بھی ہم سب کے دلوں میں موجود ہیں۔
——
یہ بھی پڑھیں : کلیم عثمانی کا یومِ پیدائش
——
مظہر کلیم ایم اے کے ناولوں میں ہمیں حب الوطنی، ملک دشمنوں سے ہر صورت ٹکرانے، قومی مفادات کے خلاف ہونے والی سرگرمیوں کو روکنے اور اتحاد و اتفاق کے ساتھ ملکی ترقی کے لیے کام کرنے کا بھی سبق ملتا ہے۔ مظہر کلیم ایم اے کی یاد ہم سب کے دلوں میں آج بھی موجود ہے، آپ کا احترام ،عزت ہمیشہ ہمیشہ رہے زندہ رہے گی اور عمران سیریز کے تمام کردار بھی زندہ رہیں گے۔اچھے لوگوں کی سب سے بڑی خوبی یہی ہوتی ہے کہ وہ دور رہ کر ہی بہت پاس ہوتے ہیں۔
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ