اردوئے معلیٰ

آج بھارت سے تعلق رکھنے والے معروف ناول نگار ، شاعر ،افسانہ نگار، مترجم اور سفرنامہ نگار کشمیری لال ذاکر کا یوم وفات ہے

کشمیری لال ذاکر(پیدائش: 7 اپریل 1919ء – وفات: 31 اگست 2016ء)
——
کشمیری لال ذاکر ایک بھارتی اردو ناول نگار، ڈراما نگار، افسانہ نگار اور سفرنامہ نگار تھے۔
ان کا ادبی سفر ایک غزل سے شروع ہوا جو ادبی دنیا میں 1940ء میں شائع ہوئی تھی۔ یہ رسالہ لاہور سے شائع ہوا۔
ذاکر برطانوی ہند کے شعبۂ تعلیم، پنجاب میں برسر خدمت رہے۔
وہ کئی سال تک ہریانہ اردو اکیڈمی کے صدر نشین رہے۔
وہ ہندی اور اردو دونوں میں لکھتے تھے۔
ان کی تحریروں میں تین چہرے ایک سوال (غزلوں کا مجموعہ)
، اب مجھے جینے دو (ناول)
اور اے ماؤ، بہنو، بیٹیو! (مجوعہ مضامین) شامل تھے۔
ذاکر ہریانہ حکومت کی جانب سے فخر ہریانہ اعزاز سے نوازے گئے۔
بھارت کی حکومت نے انہیں ملک کا چوتھا سب سے بڑا اعزاز پدم شری سے 2006ء میں نوازا گیا۔
7 اپریل 1919ء کو بیگابنیان ، ضلع گجرات میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم ریاست پونچھ اور سری نگر کے اسکولوں میں حاصل کی اور پھر پنجاب یونیورسٹی سے بی اے اور ایم اے کیا۔
——
یہ بھی پڑھیں : آغا جانی کشمیری کا یوم پیدائش
——
ذاکر ترقی پسند فکر کے حامل ادیبوں اور شاعروں میں ہیں ، انہوں نے اپنی شاعری افسانوں اور ناولوں کے ذریعے ملک کے المناک سیاسی، تہذیبی اور سماجی مسائل کے کے خلاف ایک مستقل جہاد کیا۔
ذاکر نے اپنے ادبی سفر کا آغاز تو شاعری سے کیا تھا لیکن دھیرے دھیرے وہ فکشن کی طرف آگئے۔ پھر منٹو، کرشن چندر،اشک،بھیسم ساہنی،اور بیدی کی رفاقت نے ان کی کہانی کہنے اور ملکی مسائل پر ایک ذمے دار تخلیق کار کے نقطۂ نظر سے سوچنے میں ان کی مدد کی۔
تقسیم کے بعد ملک بھر میں بھڑک اٹھنے والے فسادات اور کشمیر کی المناک صورتحال نے انہیں بہت متأثر کیا۔ ان حالات سے پیدا ہونے والا کرب ان کی کہانیوں کی بنت کا اہم حصہ ہے۔
ان کی کتابیں ’جب کشمیر جل رہاتھا‘ ’انگھوٹھے کا نشان‘ ’اداس شام کے آخری لمحے‘ ’خون پھر خون ہے‘ ’ایک لڑکی بھٹکی ہوئی‘ وغیرہ اسی تخلیقی کرب کا اظہار ہیں۔
کشمیری لال ذاکر کی مختلف اصناف پر مشتمل سو سے زیادہ کتابیں شائع ہوئیں۔
ذاکر کو کئی اہم ترین اعزازات سے بھی نوازا گیا۔
31 اگست 2016ء کو چندی گڑھ بھارت میں انتقال ہوا۔
——
اردو شاعری کی کہکشاں کا نیا ستارہ از کیفی اعظمی
——
اردو کی ترقی پسند شاعری کی کہکشاں میں ایک نئے ستارے کا طلوع کشمیری لال ذاکر قدرت نے جن کو شاعر پیدا کیا تھا ۔ اور ابتدا انہوں نے ایسی شاعری سے کی کہ صفِ شعراء میں اپنی جگہ بنا لی ۔
لیکن پھر نہ جانے کیوں وہ نثر کے ایسے گرویدہ ہوئے کہ پریم چند کی زبان میں ہمارے افسانوی ادب میں ایک قابلِ لحاظ اضافہ کیا ۔
اس بیچ ہی شاعری سے ان کی دلچسپی کم ہوتی گئی ۔ میں اس کو اردو کے شعری ادب کا نقصان سمجھتا ہوں ۔
ذاکر صاحب کے دیرینہ ساتھی اور خوش فکر ادیب کے ایل نارنگ مبارک کے مستحق ہیں کہ انہوں نے ذاکر صاحب کا ایک مجموعہ شائع کرنے کا منصوبہ بنایا ہے ۔
شعر و سخن میں ذاکر صاحب کی واپسی ایک فالِ نیک ہے ۔،
ذاکر صاحب ہریانہ اردو اکادمی کے سیکرٹری اور بہت فعال رکن ہیں ۔ ہریانہ میں شراب بندی نافذ ہو چکی ہے ورنہ ذاکر صاحب کے استقبال پر میں ان کے نام چند گھونٹ ضرور پیتا ۔
——
یہ بھی پڑھیں : آرزو لکھنوی کا یوم پیدائش
——
اگر چند گھونٹ پینے پر کوئی بزرگ اعتراض کرتا تو میں ذاکر کا ہی ایک شعر معذرت میں پیش کرتا :
——
ذرا سی پی لی ، ذرا دیر کو بہک بھی گئے
قصور سارا مہکتی ہوئی فضا کا تھا
——
ذاکر صاحب کی نثر ہو یا نظم دونوں کا ماخذ کلاسیکی ادب ہے ۔ وہی رکھ رکھاؤ ، وہی رچاؤ ، زبان کا وہی تخلیقی استعمال ، یہ اگر اتفاق ہے تو بہت خوبصورت اتفاق ہے کہ اُن کا شعری مجموعہ اس موقع پر شائع ہو رہا ہے ۔ یہ دونوں مبارک کام اس لیے ممکن ہو سکے یہ ذاکرؔ ہی سے سنئے :
——
تمام رات اندھیرے سے شمع لڑتی رہی
یہ مسئلہ تو اصولوں کا تھا ، انا کا تھا
——
ذاکر صاحب کی کسی تخلیق پر سرسری نظر ڈالنے والا کبھی فنکار کی روح تک نہیں پہنچے گا ۔
وہ خود اعتراف کرتے ہیں ۔ اس کو صرف تعلی نہیں سمجھنا چاہیے :
——
ذاکرؔ تھا جس کا نام اسے جانتے تھے لوگ
اُس کی کہانیوں میں غضب کا رچاؤ تھا
——
بڑئی سے بڑی بات کم سے کم لفظوں میں اور دل کو چھو لینے والے انداز میں کہہ دینا ذاکرؔ صاحب کا فن ہے
——
(شیشہ بدن خواب کے دیباچے سے ، 8 اگست 1997 )
——
منتخب کلام
——
سخت جاں بھی ہیں اور نازک بھی
درد کے باوجود جیتے ہیں
زندگی زہر ہے، مگر ہم لوگ
چھان کر گیسوؤں میں پیتے ہیں
——
تیرے جمال کی پُرکیف راحتوں کی قسم
حدودِ کون و مکاں سے گزر بھی سکتا ہوں
میں جس خلوص سے جیتا رہا ہوں تیرے لیے
اُسی خلوص سے اے دوست مر بھی سکتا ہوں
——
بہت سے جلوے تصور کی دین ہیں ہمدم
بہت سے پردے خود اپنی نظر کے ہوتے ہیں
وہ زخم ہم جنہیں اپنا سمجھ نہیں پاتے
بہت سے اُن میں دلِ معتبر کے ہوتے ہیں
——
سفر کو اپنے ذرا اور معتبر کر دیں
کہ رہنما ہی کو ہم اپنا ہم سفر کر دیں
مسافروں کو سرِ شام لُوٹ لیتے ہیں
ابھی تو دن ہے ذرا ان کو باخبر کر دیں
——
میرا اپنا وجود کچھ بھی نہ تھا
درد کی کائنات اس کی تھی
وہ تھا ذہن و خیال کا مالک
میری ساری حیات اس کی تھی
——
میری خوشبو ، میرا غم ،، میری دعا لے جائے گا
سوچتا ہوں میرے گھر سے کوئی کیا لے جائے گا
——
ہر سال مرے دوست ، مری سالگرہ پر
مرنے کی دعا کرتے ہیں ، مرنے نہیں دیتے
——
دیوانگی کا درد کہاں جانتے ہیں لوگ
میں تیرا نام لوں تو برا مانتے ہیں لوگ
——
یہ اور بات کہ آگے ہوا کے رکھے ہیں
چراغ رکھے ہیں جتنے جلا کے رکھے ہیں
نظر اٹھا کے انہیں ایک بار دیکھ تو لو
ستارے پلکوں پہ ہم نے سجا کے رکھے ہیں
کریں گے آج کی شب کیا یہ سوچنا ہوگا
تمام کام تو کل پر اٹھا کے رکھے ہیں
کسی بھی شخص کو اب ایک نام یاد نہیں
وہ نام سب نے جو مل کر خدا کے رکھے ہیں
انہیں فسانے کہو دل کی داستانیں کہو
یہ آئینے ہیں جو کب سے سجا کے رکھے ہیں
خلوص درد محبت وفا رواداری
یہ نام ہم نے کسی آشنا کے رکھے ہیں
تمہارے در کے سوالی بنیں تو کیسے بنیں
تمہارے در پہ تو کانٹے انا کے رکھے ہیں
——
شبنم میں چاندنی میں گلابوں میں آئے گا
اب تیرا ذکر ساری کتابوں میں آئے گا
جو لمحہ کھو گیا ہے اسے پھر نہ ڈھونڈنا
جو چاند ڈھل چکا ہے وہ خوابوں میں آئے گا
دکھ دے رہی ہیں اس کی یہ برفیلی عادتیں
پگھلے گا ایک دن تو شرابوں میں آئے گا
پہچان بھی سکو گے نہیں اپنے نام کو
آئے گا بھی تو اتنے حجابوں میں آئے گا
جب تیرا نام حسن کی تاریخ بن گیا
پھر میرا ذکر دل کی کتابوں میں آئے گا
——
پتوں کو ہواؤں میں بکھرنے نہیں دیتے
یہ لوگ فضاؤں کو نکھرنے نہیں دیتے
تاریک مکانوں کے ابھرتے ہوئے سائے
سورج کو بھی آنگن میں اترنے نہیں دیتے
یخ بستہ ہواؤں کے ٹھٹھرتے ہوئے جھونکے
موسم کو کسی طور سنورنے نہیں دیتے
ہر سال ، مرے دوست مری سالگرہ پر
مرنے کی دعا کرتے ہیں ، مرنے نہیں دیتے
احباب کی خاطر تو میں سُولی پہ چڑھا تھا
احباب ہی سولی سے اترنے نہیں دیتے
——
میری خوشبو ، میرا غم ، میری دعا لے جائے گا
سوچتا ہوں میرے گھر سے کوئی کیا لے جائے گا
ریت پر معصوم بچے چیختے رہ جائیں گے
ایک طوفاں آئے گا سب کچھ بہا لے جائے گا
تجھ کو تو معلوم ہے میری کتابوں کا مزاج
چھپ گئیں تو ایک دن کوئی اُٹھا لے جائے گا
مجھ سے رخصت ہو گا تو اپنی حفاظت کے لیے
باندھ کر آنچل میں وہ میری وفا لے جائے گا
جب غزل پر گفتگو ہو گی تو اک نقادِ فن
میرے افسانوں کی کچھ آب و ہوا لے جائے گا
——
شعری انتخاب و تحریر از عالمی اردو ادب ، کشمیری لال ذاکر نمبر
مدیر : نند کشور وکرم
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات