اردوئے معلیٰ

Search

آج معروف ریاضی داں، شاعر، محقق اور مصنف خواجہ دل محمد کا یوم پیدائش ہے

خواجہ دل محمد(پیدائش: 9 فروری 1887ء — وفات: 27 مئی 1961ء)
——
خواجہ دل محمد پاکستان کے شاعر، ریاضی دان، ماہر تعلیم اور مصنف ہیں۔ 1884ء میں لاہور میں پیدا ہوئے ۔ والد کا نام خواجہ نظام الدین تھا۔
جامعہ پنجاب سے ایم۔ اے کیا اور 9 جولائی 1907ء کو اسلامیہ کالج لاہور میں ریاضی کے لیکچرر مقرر ہوئے۔ عمر بھر اس دانش گاہ سے منسلک رہے۔ آخر میں اسی کالج کے پرنسپل بنے اور اسی حیثیت میں 1944ء میں ریٹائر ہوئے۔ ایک اچھے شاعر اور ایک قابل ریاضی دان کا یک جا ہونا خاص دشوار ہے۔ لیکن خواجہ دل محمد کی شخصیت میں شعر و ہندسہ کی ایک یکجائی کو بطور مثال پیش کیا جاسکتا ہے۔ ریاضی کے 32 درسی کتابوں کے مصنف تھے۔ گیتا کا اردو نظم میں ترجمہ کیا۔ سورۃ فاتحہ کی منظوم تفسیر روح قرآن کے نام سے لکھی۔ بچوں کے لیے بھی آسان اور دلچسپ نظمیں لکھتے تھے۔ یونیورسٹی کے فیلو اور سنڈیکیٹ کے رکن تھے۔ بیس سال تک مسلسل لاہور میونسپلٹی کے رکن ہرے۔ لاہور کی ایک سڑک ان کے نام سے موسوم ہے۔
——
"خواجہ دل محمد: شاعر مترجم اور چچا حساب” از احمد سہیل
——
خواجہ دل محمد ایم اے فروری 1883ء میں لاہور میں خواجہ نظام الدین کے ہاں پیدا ہوئے اور 27مئی 1961ء میں ان کی وفات ہوئی۔ خواجہ صاحب سرطان کے عارضے میں مبتلا تھےوہ میانی صاحب لاہور کے قبرستان میں آسودہ خاک ہوئے۔1907ء سے 1939ء تک اسلامیہ کالج میں ریاضی کے استاد رہے اور 1939ء سے 1942ء تک پرنسپل رہے۔ یہ معلومات ’’وَفیاتِ اہلِ قلم‘‘ مرتبہ ڈاکٹر منیر احمد سلیج مطبوعہ اکیڈمی آف لیٹرز اسلام آباد کے مطابق ہیں۔ جبکہ کتاب میں درج ان معلومات میں ’’آئینہ اخلاق‘‘ کا سرے سے اندراج ہی نہیں ہے۔1943ء کی مطبوعہ اس کتاب کے مطابق خواجہ دل محمد ایم اے 1943ء میں بھی اسلامیہ کالج لاہور کے پرنسپل تھے۔ اسلم انصاری لکھتے ہیں۔ آپ کے نامو رشاگردوں میں شیخ عبداللہ سابق وزیر اعلیٰ ریاست مقبوضہ کشمیر ، عبدالحمید سالک، مولانا غلام رسول مہر اور پروفیسر تاج محمد خیال (بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن کے پہلے چیئر مین) شیخ زاہد حسین (سابق گورنر سٹیٹ بنک) شامل ہیں۔
——
یہ بھی پڑھیں : اے ڈی اظہر کا یوم وفات
——
خواجہ دل ریاضی اور شاعری کی خداداد صلاحیت رکھتے تھے۔ آپ نے اپنی شاعری کا آغاز نعت گوئی سے کیا۔ 1902ء میں جب آپ ایف اے کے طالب علم تھے تو آپ کے والد نے آپ کی شاعری کے ابتدائی کلام کا مجموعہ ’’حمدو نعت‘‘ کے عنوان سے طبع کرایا لیکن اب اس کا کوئی نسخہ دستیاب نہیں ہے۔ خواجہ دل محمد کی شاعری کا باقاعدہ آغاز انجمن حمایت اسلام کے سالانہ جلسوں میں قومی نظموں سے ہوا۔ طالب علمی کے زمانے میں خواجہ صاحب ان جلسوں میں نظمیں سناتے تھے جہاں اکابر شعرا کرام حالی، شبلی، ڈپٹی نذیر احمد، ارشد گورگانی نظمیں سناتے تھے۔ خواجہ دل محمد ان اکابر شخصیات سے داد بھی حاصل کرتے اور فیض بھی پاتے تھے۔ خدا نے انہیں ذہن سلیم عطا کیا تھا۔ اس لئے حالی، ارشد گورگانی، سائل دہلوی اور علامہ اقبالؒ کے کلام سے استفادہ کر کے انہوں نے اپنی شاعری کو بالیدگی بخشی۔ مولانا حالی اور اقبالؒ کے کلام سے متاثر ہو کر انجمن کے سالانہ جلسوں میں بڑی اچھی نظمیں پڑھیں۔ آپ کے نامو رشاگردوں میں شیخ عبداللہ سابق وزیر اعلیٰ ریاست مقبوضہ کشمیر ، عبدالحمید سالک، مولانا غلام رسول مہر اور پروفیسر تاج محمد خیال (بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن کے پہلے چیئر مین) شیخ زاہد حسین (سابق گورنر سٹیٹ بنک) شامل ہیں۔ خواجہ دل ریاضی اور شاعری کی خداداد صلاحیت رکھتے تھے۔ آپ نے اپنی شاعری کا آغاز نعت گوئی سے کیا۔ 1902ء میں جب آپ ایف اے کے طالب علم تھے تو آپ کے والد نے آپ کی شاعری کے ابتدائی کلام کا مجموعہ ’’حمدو نعت‘‘ کے عنوان سے طبع کرایا لیکن اب اس کا کوئی نسخہ دستیاب نہیں ہے۔ خواجہ دل محمد کی شاعری کا باقاعدہ آغاز انجمن حمایت اسلام کے سالانہ جلسوں میں قومی نظموں سے ہوا۔ طالب علمی کے زمانے میں خواجہ صاحب ان جلسوں میں نظمیں سناتے تھے جہاں اکابر شعرا کرام حالی، شبلی، ڈپٹی نذیر احمد، ارشد گورگانی نظمیں سناتے تھے۔ خواجہ دل محمد ان اکابر شخصیات سے داد بھی حاصل کرتے اور فیض بھی پاتے تھے۔ خدا نے انہیں ذہن سلیم عطا کیا تھا۔ اس لئے حالی، ارشد گورگانی، سائل دہلوی اور علامہ اقبالؒ کے کلام سے استفادہ کر کے انہوں نے اپنی شاعری کو بالیدگی بخشی۔ مولانا حالی اور اقبالؒ کے کلام سے متاثر ہو کر انجمن کے سالانہ جلسوں میں بڑی اچھی نظمیں پڑھیں۔
مولانا عبدالمجید سالک نے اپنی خودنوشت سوانح "سرگزشت” میں انجمنِ حمایت اسلام، لاہور کے ایک جلسے کا ایک دلچسپ واقعہ لکھا ہے، ملاحظہ کیجیے۔
"خواجہ دل محمد اور ڈپٹی نذیر احمد”:
اس اجلاس میں ایک بہت دلچسپ واقعہ ہوا، جو مجھے اب تک یاد ہے۔ خواجہ دل محمد صاحب ان دنوں کوئی انیس بیس سال کے نوجوان تھے اور اسی سال انہوں نے ریاضی میں ایم – اے کر کے برادرانِ وطن کے اس طعنے کا مؤثر جواب مہیا کیا تھا کہ مسلمانوں کو حساب نہیں آتا۔ خواجہ صاحب کی ایک خصوصیت خاص طور پر حیرت انگیز تھی کہ وہ ریاضی جیسے خشک مضمون کے ساتھ ہی ساتھ بحرِ شاعری کے بھی شناور تھے۔ اس سال انہوں نے ایک پاکیزہ مسدس "کلک گہر بار” کے نام سے پڑھی جس پر بہت پُرشور داد ملی اور انجمن کو چندہ بھی خوب ملا۔
——
یہ بھی پڑھیں : تاجدار ولایت ہیں خواجہ حسن
——
اس اجلاس میں شمس العلماء ڈپٹی نذیر احمد بھی دہلی سے آئے ہوئے تھے، سر پر چوگوشیہ ٹوپی، چہرے پر تعبّس، سفید ڈاڑھی، لمبا سیاہ چغہ جو غالباً ایل ایل ڈی کا گاؤن تھا۔ آپ نے تقریر شروع کی تو دل آویز اندازِ بیان کی وجہ سے سارا جلسہ ہمہ تن گوش ہوگیا۔ آپ نے فرمایا، خواجہ دل محمد بہت ذہین اور لائق نوجوان ہیں اور شاعری فی نفسہ بُری چیز نہیں۔ حسان (رض) بن ثابت حضرت رسولِ خدا (ص) کے شاعر تھے لیکن میں کہتا ہوں کہ جو دماغ زیادہ عملی علوم کے لیے موزوں ہے اسے شعر کے بیکار شغل میں کیوں ضائع کیا جائے۔ اِس پر حاجی شمس الدین اٹھے اور کہا کہ شعر چونکہ مسلمہ طور پر نثر سے زیادہ قلوب پر اثر کرتا ہے اس لیے یہ بھی مقاصدِ قومی کے حصول کے لیے مفید ہے۔ چنانچہ خواجہ صاحب کی نظم پر انجمن کو اتنے ہزار روپیہ چندہ وصول ہوا جو دوسری صورت میں شاید نہ ہوتا۔
اس پر مولانا نذیر احمد کسی قدر تاؤ کھا گئے اور کہنے لگے۔ حاجی صاحب چندہ جمع کرنا کوئی بڑی بات نہیں جو شخص خدمت میں ثابت قدم رہتا ہے اس کی بات قوم پر ضرور اثر کرتی ہے۔ یہ کہا اور عجیب دردناک انداز سے اپنی چوگوشیہ ٹوپی اتاری اور فرمایا کہ یہ ٹوپی جو حضور نظام خلد اللہ ملکہ؛ کے سامنے بھی نہیں اتری محض اس غرض سے اتارے دیتا ہوں کہ اس کو کاسہٴ گدائی بنا کر قوم سے انجمن کے لیے چندہ جمع کیا جائے۔ فقیر آپ کے سامنے موجود ہے، کشکول اس کے ہاتھ میں ہے، دے دو بابا، تمھارا بھلا ہوگا۔ بس پھر کیا تھا، جلسے میں بے نظیر جوش پیدا ہو گیا۔ مولانا کی ٹوپی مولانا کے سر پر رکھی گئی اور ہر طرف سے روپیہ برسنے لگا۔ یہاں تک کہ حاجی شمس الدین کی آواز اعلان کرتے کرتے بیٹھ گئی اور جب ذرا جوش کم ہوا تو مولانا نے پھر تقریر شروع کی اور ہنس کر حاجی صاحب سے کہا۔ اس نظم کے بعد ہماری نثر بھی آپ نے سُنی۔
شاعر، ریاضی دان، ماہر تعلیم اور مصنف تھے انہوں نے اسلامیہ کالج لاہور سے بحثیت لیکچرر کے طور پر ان کی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کیا اور پرنسپل کے عہدے سے ملازمت سے سبکدوش ھوئے ۔ انھوں نے بتیس (32) ریاضی کی کتابیں لکھی۔ ان کا ” دل کا حساب” ایک عرصے تک متحدہ پنجاب کے ریاضی کے نصاب میں سب سے زیادہ مقبول کتاب رھی ھے۔ انکو طالب علم ” چچا حساب” بھی کہتے تھے۔ ادب و زبان کا مطالعہ بہت گہرا تھا۔ انھون نے رباعیات کی کتاب "صد پیرائے دل” کے نام سے ترتیب دی۔ ۔ خواجہ صاحب نے "گلزار معنی” کے عنوان سے اردو لغت بھی مرتب دی اس کے علاوہ انھوں نے ” بھگوت گیتا” کا ” دل کی گیتا” کے نام سے منظوم اردو ترجمہ کیا۔ سیاہ و سفید تصویر میں بائیں جانب سے سید محمد علی اکا بابا جعفری،(اسلامیہ کالج ، لاھور کے پہلے پرنسپل۔ یہ مشہور مزاحیہ شاعر سید محمد جعفری کے والد تھے۔ 1911)، ہار پہنے ھوئےخواجہ دل محمد، نواب مظفر خان ( اسلامیہ کالج ، لاھور کو بنانے میں ان کی مالی معاونت شامل تھی اور وہ انجمن حمایت اسلام کے فال رکن بھی تھے)۔
——
یہ بھی پڑھیں : زیست کی روحِ رواں ہے مرے خواجہ کی نظر
——
اور سید محمد شاہ ( انجمن حمایت اسلام کے سابق صدر) کھڑے ہیں۔ خواجہ دل محمد کی مرتب کردہ ریاضی کی 32 کتب مختلف مدارج کے نصاب میں شامل رہیں۔ خواجہ دل محمد نے پنجاب یونیورسٹی لاہور کی اعلیٰ جماعتوں کا نصاب تیار کرنے میں بھی حصہ لیا۔ پنجاب یونیورسٹی سنڈیکیٹ کے گیارہ برس تک ممبر اور 24 برس تک فیلو آف پنجاب یونیورسٹی رہے۔ لاہور امپرومنٹ ٹرسٹ کے چھ سال تک ٹرسٹی رہے۔ خواجہ صاحب نے اپنی تمام عمر علم و ادب اور سماجی خدمات میں گزاری۔
****خواجہ دل محمد کی کچھ تصانیف یہ ہیں:****
1-درد دل 1938
2-آئینہ اخلاق (پچاس اخلاقی نظمیں)1932
3-روح قرآن (سورة فاتحہ کی منظوم تفسیر)1947
4-بوستان دل 1960
5-صد پارئہ دل(رُباعیات)1946
6-ستاروں کا گیت1917
7-گلزار معنی (اُردو لغت)
8-پریت کی ریت (دوہے)
9-دِل کی گیتا (گیتا کا منظوم ترجمہ)1944
10-جپ جی صاحب (منظوم ترجمہ)1945
11-سُکھ منی صاحب (منظوم ترجمہ)1945
12-روحانی نغمے1955
13-دِل کی بہار (بچوں کے لیے نظمیں)
——
منتخب کلام
——
موتی جس کو چاہیے، جل میں ڈبکی کھائے
ندی کنارے رونے سے موتی ہاتھ نہ آئے
——
ساقی سے مئے ہوش ربا ملتی ہے
رنجور کو شافی سے شفا ملتی ہے
فانی کی محبت میں فنا ہے اے دلؔ
باقی کی محبت میں بقا ملتی ہے
——
فطرت کے لبوں پہ مسکرایا ہے خیال
دنیا پہ وجود بن کے چھایا ہے خیال
تکوینِ جہاں کا راز اتنا ہے فقط
اللہ کے دل میں ایک آیا ہے خیال
——
انساں کو خبر نہیں کہ ہستی کیا ہے
کون اس میں مکیں ہے تن کی بستی کیا ہے
گو پُر ہو شرابِ پرتگالی سے مگر
مینا کو خبر نہیں کہ مستی کیا ہے
——
تنہا نہ فقط شمس و قمر جلتے ہیں
ہر سمت نجومِ پُر شرر جلتے ہیں
شہبازِ تخیل کی رسائی معلوم
اس راہ میں جبریلؑ کے پر جلتے ہیں
——
ساجد تجھے مسجود سمجھ لیتا ہے
عابد تجھے معبود سمجھ لیتا ہے
حیراں ہوں کہ توحید کا قائل کیونکر
اپنے کو بھی موجود سمجھ لیتا ہے
——
شاہد بھی وہی ہے عینِ مشہود وہی
مطلوب وہی کعبۂ مقصود وہی
ہے غیر کہاں صنم کدے میں موجود
معبود بھی خود وہی ہے مسجود وہی
——
ظاہر میں تو پابندِ زمیں ہوں اے دل
خاکی ہوں مگر خاک نہیں ہوں اے دل
تاباں ہے مرے سینے میں وہ نور کہ میں
گو فرش پہ ہوں عرش نشیں ہوں اے دل
——
جلووں کا ہے اک نگار خانہ دل میں
عرفاں کا سجا ہے آستانہ دل میں
میں دولتِ کونین لیے پھرتا ہوں
مخفی ہے محبت کا خزانہ دل میں
——
ظلمت مری کافور ہوئی جاتی ہے
دنیا مری پُرنور ہوئی جاتی ہے
جتنے ہوئے جاتے ہیں خیالات بلند
منزل بھی مری دُور ہوئی جاتی ہے
——
انوار جو آسماں نے برسائے ہیں
ہر اک کو بقدرِ ذوق پہنچائے ہیں
کیا شوقِ طلب ہے دیکھ پتوں کی طرف
ہر شاخ سے سو ہاتھ نکل آئے ہیں
——
کہتے ہیں کہ جو ہند میں مسلم نظر آئے
مسجد سے وہ منہ پھیر کے مندر میں در آئے
اک طوق غلامی کا نظر سینہ پہ آئے
دُمدار سی چوٹی بھی نظر زیبِ سر آئے
جینو کو پہن رام جپیں دین سے پھر جائیں
تسبیح کے دانے ہیں سرِ خاک بکھر جائیں
——
اے مسلمِ خوابیدہ یہ عبرت کی گھڑی ہے
غفلت کی تری آنکھ پہ چادر سی پڑی ہے
دشوار مہم پیش ہے منزل بھی کڑی ہے
تو بے خبری میں ہے ، مصیبت یہ بڑی ہے
اُٹھ جاگ ! کمر باندھ ، سحر سر پہ عیاں ہے
دنیا کا ہر اک قافلہ منزل کو رواں ہے
——
حوالہ جات
تحریر احمد سہیل ، بحوالہ فیس بک صفحہ
انتخاب از نعرۂ توحید ، صد پارۂ دل ، متفرق صفحات ، مصنف خواجہ دل محمد
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ