اردوئے معلیٰ

آج ممتاز شاعر خاور رضوی کا یومِ وفات ہے۔

خاور رضوی(پیدائش: یکم جون 1938ء — وفات: 15 نومبر 1981ء)
——
خاور رضوی کا اصل نام سید سبط حسن رضوی اور تخلص خاورؔ تھا ۔ وہ ایک سید خاندان میں یکم جون 1938ء کو ( کچھ کے نزدیک 1936ء مگر یہ درست نہیں ان کے سرکاری کاغذات کے مطابق ان کا یومِ پیدائش 1938ء ہے) پیدا ہوۓ۔
انھوں نے شاعری کی تعلیم اپنی والدہ عابدہ بیگم جو کہ خود ایک نامور شاعرہ تھیں سے حاصل کی ۔
خاور رضوی کے ماموں اور خالہ بھی اعلٰی پاۓ کے شاعر تھے۔
ان کے والد سید نجم الحسن رضوی نے فوج میں اپنی خدمات انجام دی اور انھوں نے خاور رضوی کا ساتھ دیا اور ان کا حوصلہ بڑھایا۔
خاور رضوی نے ابتدائی تعلیم گھر پر ہی حاصل کی اس کے بعد گورنمنٹ سکول کیمبل پور (اٹک) سے میٹرک کیا۔ اس کے بعد گریجویشن گورنمنٹ کالج اٹک سے کی۔
اس کے بعد پوسٹ گریجویشن لیکچرر پنجاب یونیورسٹی لاہور سے کی۔
——
یہ بھی پڑھیں : معروف ادیب ڈاکٹر سجاد باقر رضوی کا یوم پیدائش
——
تعلیم مکمل کرنے کے بعد انھوں نے تین نوکریاں کیں ۔ سب سے پہلے وہ استاد تعینات ہوۓ اس کے بعد بنکنگ کے شعبے میں گۓ اور اس کے بعد سوشل سیکورٹی میں رہے اور اسی محکمے میں ڈائریکٹر کے عہدے پر تعینات رہے۔
گھر سے ڈیوٹی پر جاتے ہوئے راستے میں ہارٹ اٹیک ہونے کی وجہ سے 15 نومبر 1981ء کو انتقال کر گۓ۔
انھیں احمد پور سیال ضلع جھنگ کے قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔
——
خاور رضوی ایک ممتاز شاعر
——
خاور رضوی اردو اور فارسی کے ممتاز شاعر تھے۔ وہ ایک روشن خیال دانشور کی حیثیت سے بھی قابل احترام تھے۔ بنیادی طور پر ان کی شہرت ان کی شاعری کی وجہ سے ہے۔ اس کا اصل نام سید سبط حسن رضوی تھا۔ انہوں نے شاعری اور مضامین لکھنے کے لئے “خاور” کو اپنا قلمی نام لیا۔ خاور کا مطلب فارسی میں “دی مشرق” ہے۔ خاور مشرقی ، مشرقی طرز زندگی اور مشرقی اقدار کا ایک بہت بڑا عاشق اور مداح تھا۔
خاور رضوی کا تعلق ایک سید کنبے سے تھا۔ وہ 1 جون 1938 کو پیدا ہوئے تھے۔ انھیں اپنی والدہ عابدہ بیگم کی شاعری ورثے میں ملی تھی جو خود شاعرہ تھی۔ ان کی شاعری محفوظ نہیں ہوسکی۔ ان کے ماموں ڈاکٹر ابوالحسن ایک مشہور شاعر اور اسکالر تھے۔ بانو سیدپوری ایک مشہور شاعر ان کی خالہ تھیں۔ خاور رضوی کے والد سید نجم الحسن رضوی کا تعلق مسلح افواج پاکستان سے تھا۔ انہوں نے اپنے بیٹے کو ایک عظیم آدمی بننے کی مکمل حمایت اور حوصلہ افزائی کی۔
خاور رضوی کو بچپن سے ہی علم سیکھنے کا شوق تھا۔ انہوں نے اپنی باضابطہ تعلیم گورنمنٹ اسکول ، کیمبل پور سے حاصل کی جسے اب اٹک کہتے ہیں۔ انہوں نے گورنمنٹ کالج اٹک سے گریجویشن کیا۔ اس کے بعد انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے ادب میں پوسٹ گریجویشن کیا۔ انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز بطور ٹیچر کیا اس کے بعد انہوں نے بینکنگ کے شعبے میں شمولیت اختیار کی اور ایک قابل بینکار بن گئے۔ کسی بھی طرح کے استحصال اور غریبوں کو ان کے حقوق سے محروم رکھنے سے نفرت کی بنا پر اس نے مستقبل کے غیر یقینی مستقبل کے باوجود بینکنگ کیریئر چھوڑ دیا۔ کی بہتر ، خاور نے پاکستان میں محکمہ سوشل سیکیورٹی میں شمولیت اختیار کی۔ وہ اسی شعبہ میں بحیثیت ڈائریکٹر خدمات انجام دے رہے تھے جب 15 نومبر 1981 کو اپنے آبائی شہر سے اپنے کام کی جگہ کا سفر کرتے ہوئے اچانک دل کا دورہ پڑنے سے ان کا انتقال ہوگیا۔ ان کی آخری رسومات میں ہزاروں افراد نے شرکت کی اور انہیں پاکستان کے ضلع جھنگ کے تاریخی چھوٹے قصبے احمد پور سیال کے قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔ 43 برس کی عمر میں ان کی وفات پر پورے برصغیر میں ، خاص طور پر جنوبی ایشیاء کے خطے میں بڑے پیمانے پر سوگ تھا۔
——
یہ بھی پڑھیں : کمال احمد رضوی کا یومِ پیدائش
——
خاور رضوی کی ترقی پسند شاعری کو ان کی زندگی میں اور ان کی وفات کے بعد بھی تسلیم کیا گیا اور سراہا گیا۔ احمد ندیم قاسمی ، تنویر سپرا ، پروفیسر یوسف حسن ، امجد اسلام امجد ، منو بھائی ، جیسے دیگر نامور ادیبوں اور شاعروں نے ان کی وفات پر تعزیت کی۔ احمد ندیم قاسمی نے لاہور سے شائع ہونے والے اپنے ادبی رسالہ “فنون” میں ان کے لئے لکھا۔ خالد احمد نے خاور کی شاعری اور شخصیت کے بارے میں ایک طویل مضمون “روزنامہ جنگ” کراچی میں شائع کیا۔ حسن رضوی نے روزنامہ “جنگ” لاہور میں ان کے بارے میں مضمون شائع کیا۔ اظہر جاوید نے اپنے رسالہ “تخلیق” میں ان کے بارے میں لکھا تھا۔ گورنمنٹ کالج اٹک کے”مشال” میگزین نے خاور رضوی اور ان کی شاعری کے لئے خصوصی سیکشن پیش کیا۔ اقبال کوثر اور ڈاکٹر سعد اللہ کلیم ، پروفیسر ظفر جونپری ، سعید جونپوری اور دیگر شاعروں نے بھی خاور کی شاعری کی تعریف لکھی۔ خاور رضوی اور ان کے مشہور بیٹے ڈاکٹر سید شبیہ الحسن رضوی کے نام اور کارناموں کا ذکر رشید امجد ، راغب شکیب ، وقار بن الٰہی کی کتابوں میں اور دیگر کتابوں اور رسالوں میں ہوا ہے۔ ایک مشہور ، انوکھا اور بڑے پیمانے پر چھپنے والا رسالہKidzine International نے خاور رضوی کو مندرجہ ذیل الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا:
وہ زندگی بھر ایک مفکر اور عالم کی حیثیت سے معزز رہا ، حالانکہ وہ عمر میں چھوٹا تھا لیکن کاموں میں بہت بڑا تھا۔ خاور رضوی کی سوچ ترقی پسند تھی۔ اس نے کبھی کسی بھی محکومیت پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ اگرچہ وہ سوشل سیکیورٹی ڈیپارٹمنٹ میں اعلی عہدے پر تھے اس کے باوجود انہوں نے ہمیشہ کارکنوں کے حقوق کا دفاع کیا۔ وہ جوانوں اور بچوں سے محبت کرتا تھا۔ اسے کبھی مایوسی اور منفی سوچ پسند نہیں آئی۔ وہ زندگی سے بھر پور تھا کہ موت نے اس کے گھر میں داخل ہونے کی ہمت نہیں کی لیکن اسے 15 نومبر 1981 کی صبح اپنے گھر سے بہت فاصلے پر پکڑ لیا جب وہ صرف 43 سال کا تھا۔ مگر وہ اب بھی دلوں میں زندہ ہے اور ان کی یادوں میں جو ان کی شخصیت اور اس کی شاعری سے پیار کرتے ہیں۔
——
منتخب کلام
——
جبیں سے مٹ نہ سکے گی یہ وقت کی تحریر
نشانِ زخم رہے گا جو زخم بھر بھی گیا
——
ہر ایک موڑ پہ پیچھے پلٹ کے دیکھتا ہوں
وہ گردِ رہ سہی ہمراہ تو کوئی ہے
——
ہم نے بخشی ہے زمانے کو نظر اور ہمیں
یوں زمانے نے کیا ہے نظر انداز کہ بس
——
کاش کوئی اک اچٹتی سی نظر ہی ڈالتا
چور تھے زخموں سے لیکن ایک منظر ہم بھی تھے
——
حور و قصور سے نہ بہشت بریں سے ہے
نازاں ہوں میں کہ میرا تعلق زمیں سے ہے
——
ضرب تیشہ چاہئے اور دست‌ آزر چاہئے
اک جہان خال و خد خوابیدہ ہر پتھر میں ہے
——
نئی نسل کے نام
یہ دعا ھے کہ تجھے دیدہ بیدار ملے
دلِ حساس ملے جرات اظہار ملے
راستے میں گو ترے جبر کی دیوار رھے
سر پہ یا دکھ کی چمکتی ھوئی تلوار رھے
صحنِ زنداں میں رھے تو یا سرِ دار رھے
حق و انصاف کی لب پر ترے گفتار رھے
دل ترا بادہ اخلاص سے سرشار رھے
تو سدا حسنِ صداقت کا پرستار رھے
تیری گردن کوئی قوت کبھی خم کر نہ سکے
تو وہ کر جائے زمانے میں جو ھم کر نہ سکے
——
یہ بھی پڑھیں : ’’اے خاور حجاز کے رخشندہ آفتاب‘‘
——
وہ خود پرست ہے اور خود شناس میں بھی نہیں
فریب خوردۂ وہم و قیاس میں بھی نہیں
فضائے شہر طلب ہے انا گزیدہ بہت
ادا شناس رہ التماس میں بھی نہیں
میں کیوں کہوں کہ زمانہ نہیں ہے راس مجھے
میں دیکھتا ہوں زمانے کو راس میں بھی نہیں
وہ فیصلے کی گھڑی تھی کڑی سو بیت گئی
بچھڑ کے تجھ سے کچھ ایسا اداس میں بھی نہیں
یہ واقعہ کہ تجھے کھل رہی ہے تنہائی
یہ حادثہ کہ ترے آس پاس میں بھی نہیں
ہوا کرے جو ہے خاورؔ فضا خلاف مرے
اسیر حلقۂ خوف و ہراس میں بھی نہیں
——
جتنا برہم وقت تھا اتنے ہی خود سر ہم بھی تھے
موج طوفاں تھا اگر پل پل تو پتھر ہم بھی تھے
کاش کوئی اک اچٹتی سی نظر ہی ڈالتا
چور تھے زخموں سے لیکن ایک منظر ہم بھی تھے
گر وبال دوش تھا سر ہاتھ میں تیشہ بھی تھا
اک طرف سے تو نصیبے کے سکندر ہم بھی تھے
خود شناسی کا بھلا ہو راکھ کی چٹکی ہیں آج
ورنہ اک رخشندہ و تابندہ گوہر ہم بھی تھے
سطح بیں تھے لوگ کیا پاتے ہماری وسعتیں
جھانکتا دل میں کوئی تو اک سمندر ہم بھی تھے
چڑھتے سورج کی پرستش گو تھا دنیا کا اصول
ہم کسی کو پوجتے کیسے کہ خاورؔ ہم بھی تھے
——
بڑھیں گے اور بھی یوں سلسلے حجابوں کے
کر اپنی بات حوالے نہ دے کتابوں کے
میں شہر گل کا مسافر مرے شریک سفر
صعوبتوں کی یہ راتیں یہ دن عذابوں کے
تری نظر سے عبارت تھے تیرے ساتھ گئے
وہ پھول میرے خیالوں کے رنگ خوابوں کے
تمام عمر پھر اک کرب کی چتا میں جلے
ہم ایک پل جو رکے شہر میں گلابوں کے
ہٹایا رنگ کا پودا تو زخم زخم تھا پھول
چمن چمن تھے وہی سلسلے سرابوں کے
ابھی وہ حبس ہے خاورؔ کہ دم الجھتا ہے
ابھی کھلے رکھو دروازے اپنے خوابوں کے
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات