مجید امجد کا یوم پیدائش

آج معروف شاعر مجید امجد کا یومِ پیدائش ہے

(پیدائش: 29 جون 1914ء- وفات: 11 مئی 1974ء)
——
29 مجید امجد جون، 1914ء کو (جھنگ) میں پیدا ہوئے۔والد کا نام علی محمد تھا۔ مجید کے والد نے جب عقد ثانی کیا تو ان کی والدہ ان کو لے کر ننھیال آگئیں. ان کے نانا میاں نور محمد (جو ایک عالم فاضل انسان تھے)،نے ان کی پرورش اور تربیت کی. مجید امجد نے ابتدا میں عربی اور فارسی کی تعلیم اپنے نانا ہی سے حاصل کی. نوجوانی میں قدم رکھا تھا کہ آپ کی والدہ کا انتقال ہو گیا۔ انٹر تک کی تعلیم جھنگ ہی سے حاصل کی. 1930ء میں اسلامیہ کالج ریلوے روڈ سے بی اے کیا۔ آپ کی ادبی زندگی کا آغاز 9 سال کی عمر سے ہی ہو گیا تھا۔ بی اے کرنے کے بعد آپ جھنگ واپس آ گئے تو ایک نیم سرکاری ہفت روزہ اخبار”عروج” میں مدیر رہے. 1939ء تک اسی ادارے سے وابستہ رہے۔ اس کے بعد برطانوی سامراج کے خلاف "عروج” کے صفحئہ اول پر آپ کی نظم "قیصریت” شائع ہوئی. جس کے نتیجے میں اخبار چھوڑنا ان کی سزا ٹھرئی گی. 1944ء انسپکٹر سول سپلائر مقرر ہوئے۔ ترقی پاکر اسسٹنٹ فوڈ کنٹرولر بنے۔ ملازمت کا زیادہ عرصہ منٹگمری موجودہ ساہیوال میں گذرا۔ جہاں سے وہ 29 جون 1972ء کو ریٹائر ہوئے۔بعد میں بڑی تنگدستی سے گذر اوقات کرنے لگے. ان کے بعض دوستوں کے توجہ دلانے پر حکومت پاکستان نے مارچ 1973ء میں ان کے لیے پانچ سو روپے ماہانہ ادبی وظیفہ مقرر کیا.
1939ء میں خالہ کی بیٹی سے شادی ہوئی۔ جو گورنمنٹ اسکول جھنگ میں استانی تھیں۔ دونوں کے مزاج میں اختلاف تھا۔ جس کی وجہ سے ان کی اہلیہ ان سے بنا طلاق لیے الگ رہنے لگی. اوروہ اولاد سے محروم رہے۔
آخری ایام انتہائی عسرت اور تنگی میں گذرے۔ وفات سے ایک ماہ پہلے تک انہیں پینشن نہ مل سکی۔ نوبت تقریباً فاقہ کشی تک پہنچ گئی۔ آخر اسی کیفیت میں گیارہ مئی، 1974ء کے روز اپنے کوارٹر واقع فرید ٹاون ساہیوال میں مردہ پائے گئے۔ تدفین آبائی وطن جھنگ میں ہوئی۔
——
خود نگر اور تنہا شاعر ، مجید امجد از رضوان احمد
——
بعض ادیب اپنے دور میں دیو قامت گردانے جاتے ہیں ، لیکن وقت گزرنے کے بعد لوحِ زمانہ سے ان کی شبیہہ مٹتی چلی جاتی ہے ، حتیٰ کہ کچھ ہی عرصہ گزرنے کے بعد ان کا نام و نشان بھی نہیں رہتا ۔
——
یہ بھی پڑھیں : بہرِ علم و ہنر میرے امجد علی
——
اس کے برعکس جوں جوں وقت گزررہا ہے ، اپنے دور میں گمنامیوں کے دھندلکے میں کھوئے ہوئے مجید امجد کے قد میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے ۔ ان کا شعر ہے
——
میں روز ادھر سے گزرتا ہوں ، کون دیکھتا ہے
میں جب ادھر سے نہ گزروں گا ، کون دیکھے گا
——
زندگی میں تو شاید مجید امجد کی طرف کم ہی دیکھا گیا ، لیکن ان کے انتقال کے بعد معاشرے کے عام دستور کے مطابق مجید امجد کی
عظمت کو پہچانا گیا ۔ حتیٰ کہ 2000ء میں لاہور میں شائع ہونے والے رسالے (کاغذی پیرہن) کی طرف سے کیے جانے والے سروے کے مطابق مجید امجد کو بیسویں صدی کا سب سے بڑا نظم گو شاعر قرار دیا گیا۔
عام قارئین تو مجید امجد تک نہیں پہنچ سکے ، لیکن ناقدین شروع سے ہی مجید کے فن کے گرویدہ تھے ، یہی وجہ ہے کہ تقریبا سبھی بڑے نقادوں نے انہیں خراج تحسین پیش کیا ہے ، اور متعدد رسائل مجید امجد نمبر نکال چکے ہیں ۔
چناں چہ انور سدید لکھتے ہیں:
مجید امجد ان خوش قسمت شاعروں میں سے ہے جس نے اپنی زندگی میں اپنے متعدد معاصرین کی طرح شہرت اور دولت کی چوہا دوڑ میں حصۃ نہیں لیا ، نہ کسی سرکاری دربار میں حاضری دی ، نہ کسی تمغے یا ایوارڈ کے لیے تعلقات ہموار کیے ، نہ اخباری سطح پر مہم چلائی لیکن وفات کے بعد جب وہ جسمانی طور پہ ہم میں موجود نہیں رہے تو شہرت پر افشاں ہو کر اس کے پیچھے دوڑنے لگی ، اس کی عظمت کے اعتراف کا حلقہ وسیع ہونا شروع ہو گیا اور یہ نقطہ سے بڑھ کر قوس میں تبدیل ہوا اور پھر دائرہ در دائرہ پھیلتا گیا ۔
مجید امجد کی پیدائش 29 جون 1914ء کو جھنگ میں معمولی خاندان میں ہوئی تھی ۔ ان کے ابدائی حالات بڑے ہی ناخوشگوار تھے ، اس لیے ان کی زندگی میں دشواریاں ہی دشواریاں تھیں ۔ ابتدائی تعلیم انہوں نے جھنگ کے مدرسہ اور اسکول میں حاصل کی تھی ۔ پھر وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے لاہور چلے گئے ۔ جھنگ میں واپسی کے بعد ایک ہفتہ وار اخبار (عروج) سے وابستہ ہو گئے۔ لیکن 1939ء میں انگریزوں کے خلاف ان کی ایک نظم شائع ہونے پر انہیں اخبار سے رخصت ہونا پڑا ۔ اسی زمانے میں انہوں نے (شاعر) کے نام سے ایک نظم لکھی تھی ، جس کا ایک بند کچھ یوں تھا :
——
یہ محلوں یہ تختوں یہ تاجوں کی دنیا
گناہوں میں لتھڑے رواجوں کی دنیا
محبت کے دشمن سماجوں کی دنیا
——
اسی مصرعے کو لے کر ساحر لدھیانوی نے فلم (پیاسا) کے لیے گیت لکھا
——
یہ محلوں یہ تختوں یہ تاجوں کی دنیا
یہ انساں کے دشمن سماجوں کی دنیا
یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے
——
محمد رفیع کی آواز میں گائے گئے اس نغمے کو بے حد مقبولیت ملی تھی۔
ساح رپر ہی بس نہیں ، بلکہ مجید امجد کی شاعری کی جھلک جدید دور کے کئی شعرا کے ہاں بھی نظر آتی ہے ، بلکہ بعض نے تو مجید امجد کی کچھ نظموں پر ہاتھ صاف کر کے اپنی شہرت کے مینار کھڑے کر لیے ہیں۔ مثال کے طور پہ مجید امجد کے ابدائی دور کی ایک نظم کے چند مصرعے ملاحظہ فرمائیے:
——
کاش میں تیرے بُنِ گوش میں بُندا ہوتا
رات کو بے خبری میں جو مچل جاتا میں
تو ترے کان سے چپ چاپ نکل جاتا میں
صبح کو گرتے تری زلفوں سے جب باسی پھول
میرے کھو جانے پہ ہوتا ترا دل کتنا ملول
تو مجھے ڈھونڈتی کس شوق سے گھبراہٹ میں
اپنے مہکے ہوئے بستر کی ہر اک سلوٹ میں
——
(عروج) چھوڑنے کے بعد مجید امجد کو جھنگ ڈسٹرکٹ بورڈ میں کلرکی مل گئی ۔ انہوں نے خالہ کی بیٹی سے شادی کی تھی جو اسکول میں ٹیچر تھی ۔ لیکن یہ شادی یکسر ناکام ثابت ہوئی۔ بلکہ اس کے سبب ان کے ذہنی خلجان میں اضافہ ہوتا گیا ۔ بعد میں مجید امجد محکمہ غذا سے وابستہ رہ کر مختلف شہروں میں تعینات رہے۔
——
یہ بھی پڑھیں : رام ریاض کا یومِ ولادت
——
مجید امجد کی زندگی میں ہی ان کا شعری مجموعہ (شبِ رفتہ) شائع ہوا تھا جس کا پیش لفظ انہوں نے منظوم لکھا تھا ۔ اسے 1958ء میں نیا ادارہ لاہور نے شائع کیا تھا ۔ تاہم اس کی اشاعت کے بعد بعض حلقوں کی طرف سے ردِ عمل پر مجید امجد ناخوش تھے ، جس کے بعد انہوں نے اپنی زندگی میں کوئی مجموعہ شائع نہیں کروایا۔
ان کی مقت کے بعد بقیہ کلام جاوید قریشی نے 1976ء میں (شبِ رفتہ کے بعد) کے نام سے شائع کیا ۔ ڈاکٹر خواجہ محمد ذکریا نے مکمل کلام (کلیات مجید امجد) کے عنوان سے 1979ء میں شائع کیا ۔ تاج شہید نے رسالہ (قند) کا مجید امجد نمبر بھی نکالا تھا ۔ اس کے علاوہ دستاویز میں ایک خصوصی شمارہ مجید امجد کے نام وقف کیا۔ چند دوسرے ادبی رسائل نے بھی ان پر گوشے شائع کیے۔
لیکن نامور ناقد وزیر آغا کو یہ تخصیص حاصل ہے کہ انہوں نے مجید امجد پر پہلی تنقیدی کتاب (مجید امجد کی داستانِ محبت) کے نام سے شائع کی۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ مجید امجد کی زیادہ تخلیقات وزیر آغا کے رسالہ (اوراق) میں ہی شائع ہوئی تھیں۔
وزیر آغا ان کے بارے میں لکھتے ہیں:
شاعر کے باطن کی دنیا خارج کے مظاہر سے منسلک اور ہم آہنگ ہے مگر یہ ہم آہنگی عافیت کوشی یا فراق کے مماثل نہیں بلکہ شدید جذبے کی پیداوار ہیں۔ جو جزوکو کُل سے مربوط کرتا ہے اور جس کے دباؤ کے تحت شاعر اپنی انا کی دیواروں کو عبور کر کے وسیع تر زندگی سے ہمکنار ہو جاتا ہے اور اس ربطِ باہم کو دریافت کر لیتا ہے جو کائنات میں جاری و ساری ہے۔
دراصل مجید امجد کی شاعری وزیر آغا کا مستقل موضوع رہی ہے اور وہ ان کی شاعری کو توازن کی مثال مانتے ہیں۔ مجید امجد پر کتاب لکھنے سے قبل انہوں نے اپنی معرکہ آرا کتاب (اردو شاعری کا مزاج) میں مجید امجد کو انفرادیت کا مظہر قرار دیا تھا۔
ڈاکٹر وزیر آغا نے مجید امجد کی شاعری میں استعمال ہونے والی تمام علامتوں کا جائزہ لیا ہے اور ان کے مفاہیم کو پیش کیا ہے ۔ مجید امجد کے یہاں جو الفاظ استعمال ہوتے ہیں ان میں اکہرا پن نہیں ہے ۔ بلکہ تہہ در تہہ معنی پوشیدہ ہیں اس لیے شاعری میں استعمال ہونے والے الفاظ آنکھ ، خوشبو ، سرسراہٹ ، لمس اور زندگی کے لاتعداد موضوعات کے چمکتے ہوئے ذرات کی طرح شامل ہو کر لو دینے لگتے ہیں اور آخر میں اس وجود کا علامتی حوالہ جا بجا اپنی جھلک دکھاتا ہے ۔
حالانکہ مجید امجد فیض احمد فیض ، ناصر کاظمی ، ن م راشد جیسے منفرد لب و لہجے کے شعرا کا ہم عصر ہے لیکن اس کے باوجود وہ اپنے متقدمین اور معاصرین میں پہلا شاعرہے جس نے عرب و عجم کی شعری ساختیات سے منہ موڑا اور اردو زبان میں مقامی بولیوں کے رچاؤ کو پیوست کر دیا۔ ہمارے تمام ہی شعراء عربی و فارسی شاعری کے خوشہ چیں رہے ہیں، وہی تراکیب ، وہی تشبیہات اور علامات استعمال کرتے رہتے ہیں لیکن مجید امجد نے انہیں یکسر تبدیل کر دیا اور دہلی اور لکھنؤ کی ٹکسالی بولی سے باہر نکال کر سائنسی دور میں لا کھڑا کیا ۔ علی تنہا مجید امجد کی شاعری پر لکھتے ہیں:
نئی شاعری میں متنوع تجربات کا بازار مجید امجد سے پہلے بھی گرم تھا لیکن وہ تمام گذشتہ تجربوں کا رس اور نچوڑ صرف اس کی شاعری میں شکل پذیر ہوا ۔ اس کی شاعرانہ عظمت کے ہزار پہلو ہیں ، پہلی بات تو یہی لیجیے کہ اس نے نحوی و صرفی ، باریکیوں کے بارے میں گہرا سوچا ۔ پھر ایک ایسی زبان کی ہو باس کو راہ دی جو خالص پاکستانی اردو ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے فن پاروں میں زمین کی مہک نمایاں ہے ۔ لیکن یہ خالی خولی زبان کا رچاؤ ہی نہیں اس کی زبان کے پیچھے واردات کا شعلہ ایسا تپاں ہے کہ خیال بلیغ اور سانس لیتا ہوا محسوس ہوتا ہے ۔
مجید امجد کی شعری کائنات میں کافی تجربے ہیں ، ان کی غزلوں کے اشعار میں بھی نیا پن ہے اور نظمیں تو بہرحال نئے ذائقہ سے آشنا کرتی ہیں۔
——
میرے نشان قدم دشتِ غم پہ ثبت رہے
ابد کی لوح پہ تقدیر کا لکھا نہ رہا
——
میں روز ادھر سے گزرتا ہوں کون دیکھتا ہے
میں جب ادھر سے نہ گزروں گا کون دیکھے گا
——
دنیا کے ٹھکرائے ہوئے لوگوں کا کام
پہروں باتیں کرتے رہنا دنیا کی
——
پلٹ پڑا ہوں شعاعوں کے چیتھڑے اوڑھے
نشیب زینہ ایام پر عصا رکھتا
جو شکوہ اب ہے یہی ابتدا میں تھا امجد
کریم تھا مری کوشش میں انتہا رکھتا
——
یہ انجانا شہر پرانے لوگ ، اے دل، تم یہاں کہاں
آج اس بھیڑ میں اتنے دن کے بعد ملے ہو کیسے ہو
——
11 مئی 1974ء کو مجید امجد کا نہایت کسمپرسی کے عالم میں انتقال ہو گیا ۔ جس کی تفصیل ایک اخبار کی خبر کے مطابق یوں ہے :
ممتاز شاعر مجید امجد فرید ٹاؤن میں اپنے گھر پر مردہ پائے گئے ۔ مرحوم کی میت فرش پر پڑی تھی کہ ایک شخص نے کھڑکی میں سے دیکھا جس پر دو افراد دیوار پھاند کر اندر داخل ہوئے تو انہیں مردہ پایا۔
——
یہ بھی پڑھیں : رشید امجد کا یومِ وفات
——
اس پر وزیر آغا نے لکھا تھا :
دیکھو ہماری بدقسمت قوم بہترین تخلیقی صلاحیت رکھنے والے اپنے جیالے سپوتوں سے کیسا سلوک کرتی ہے کہ وہ تنہائی ، ے بسی اور کسمپرسی کے عالم میں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر جاتے ہیں مگر اس پر کوئی اثر مرتب نہیں ہوتا پھر ایک صبح چند راہگیر کسی بند کمرے کی کھڑکی میں سے جھانکتے ہیں اور انہیں فرش پر کوئی لاش نظر آتی ہے ۔ فرش پر لاش ؟ کسی بے نام اور بے چہرہ فقیر کی نہیں جو سردیوں کی رات میں ٹھٹھر ٹھٹھر کر مر گیا ہو بلکہ اپنے وطن کے اس شاعر کی لاش جسے آنے والی نسلیں اس صدی میں ابھرنے والی دو تین منفرد آوازوں میں سے ایک قرار دیں گی ۔
آخر کو تو حالات کے ستائے ہوئے لوگ تھے اس لیے یہ کہتے ہوئے چلے گئے :
——
وار دنیا نے کیے مجھ پر تو امجد میں نے اس گھمسان میں
کس طرح جی ہار کر رکھ لی نیامِ حرف میں شمشیرِ دل
——
منتخب کلام
——
جنونِ عشق کی رسمِ عجیب کیا کہنا
میں ان سے دور وہ میرے قریب کیا کہنا
——
میری زیست پر ان کے جلووں کے نقش
ابھرتے گئے ، دن گزرتے گئے
——
امجدؔ نشاطِ زیست اسی کش مکش میں ہے
مرنے کا قصد ، جینے کا عزم ایک ساتھ کر
——
میں روز ادھر سے گذرتا تھا کون دیکھتا تھا
میں جب ادھر سے نہ گزروں گا کون دیکھے گا
——
کیا روپ دوستی کا کیا رنگ دشمنی کا
کوئی نہیں جہاں میں کوئی نہیں کسی کا
——
یہ کیا طلسم ہے یہ کس کی یاسمیں بانہیں
چھڑک گئی ہیں جہاں در جہاں گلاب کے پھول
——
زندگی کی راحتیں ملتی نہیں ملتی نہیں
زندگی کا زہر پی کر جستجو میں گھومیۓ
——
چہرہ اداس اداس تھا میلا لباس تھا
کیا دن تھے جب خیالِ تمنا لباس تھا
عریاں زمانہ گیر شررگوں جبلتیں
کچھ تھا تو ایک برگ دل ان کا لباس تھا
اس موڑ پر ابھی جسے دیکھا ہے ، کون تھا؟
سنبھلی ہوئی نگاہ تھی سادہ لباس تھا
یادوں کے دھندلے دیس کھلی چاندنی میں رات
تیرا سکوت کس کی صدا کا لباس تھا
ایسے بھی لوگ ہیں جنہیں پرکھا تو انکی روح
بے پیرہن تھی جسم سراپا لباس تھا
صدیوں کے گھاٹ پر بھرے میلوں کی بھیڑ میں
اے دردِ شادماں ترا کیا کیا لباس تھا
دیکھا تو دل کے سامنے سایوں کے جشن میں
ہر عکسِ آرزو کا انوکھا لباس تھا
امجدؔ قبائے شہ تھی کہ چولا فقیر کا
ہر بھیس میں ضمیر کا پردا لباس تھا
——
عشق کی ٹیسیں جو مضرابِ رگِ جاں ہو گئیں
روح کی مدہوش بیداری کا ساماں ہو گئیں
پیار کی میٹھی نظر سے تو نے جب دیکھا مجھے
تلخیاں سب زندگی کی لطف ساماں ہو گئیں
اب لبِ رنگیں پہ نوریں مسکراہٹ ؟ کیا کہوں
بجلیاں گویا شفق زاروں میں رقصاں ہو گئیں
ماجرائے شوق کی بے باکیاں ان پر نثار
ہائے وہ آنکھیں جو ضبطِ غم میں گریاں ہو گئیں
چھا گئیں دشواریاں پر میری سہل انگاریاں
مشکلوں کا اک خیال آیا کہ آساں ہو گئیں
——
اپنے دل کی کھوج میں کھو گئے کیا کیا لوگ
آنسو تپتی ریت میں بو گئے کیا کیا لوگ
کرنوں کے طوفان سے بجرے بھر بھر کر
روشنیاں اس گھاٹ پر ڈھو گئے کیا کیا لوگ
سانجھ سمے اس کنج میں زندگیوں کی اوٹ
بج گئی کیا کیا بانسری رو گئے کیا کیا لوگ
میلی چادر تان کر اس چوکھٹ کے دوار
صدیوں کے کہرام میں سو گئے کیا کیا لوگ
گٹھڑی کال رین کی سونٹی سے لٹکائے
اپنی دھن میں دھیان نگر کو گئے کیا کیا لوگ
میٹھے میٹھے بول میں دوہے کا ہنڈول
سن سن اس کو بانورے ہو گئے کیا کیا لوگ
——
یہ بھی پڑھیں : رشید امجد کا یومِ پیدائش
——
روش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھول
حسیں گلاب کے پھول، ارغواں گُلاب کے پھول
اُفق اُفق پہ زمانوں کی دُھند سے اُبھرے
طیور، نغمے، ندی، تتلیاں، گلاب کے پھول
کس انہماک سے بیٹھی کشید کرتی ہے
عروسِ گُل بہ قبائے جہاں، گلاب کے پھول
جہانِ گریۂ شبنم سے کس غرور کے ساتھ
گزر رہے ہیں، تبسّم کناں، گلاب کے پھول
یہ میرا دامنِ صد چاک، یہ ردائے بہار
یہاں شراب کے چھینٹے، وہاں گلاب کے پھول
کسی کا پھول سا چہرہ اور اس پہ رنگ افروز
گندھے ہوئے بہ خمِ گیسواں، گلاب کے پھول
خیالِ یار، ترے سلسلے نشوں کی رُتیں
جمالِ یار، تری جھلکیاں گلاب کے پھول
مری نگاہ میں دورِ زماں کی ہر کروٹ
لہو کی لہر، دِلوں کا دھواں، گلاب کے پھول
سلگتے جاتے ہیں چُپ چاپ ہنستے جاتے ہیں
مثالِ چہرہِ پیغمبراں گلاب کے پھول
یہ کیا طلسم ہے یہ کس کی یاسمیں باہیں
چھڑک گئی ہیں جہاں در جہاں گلاب کے پھول
کٹی ہے عمر بہاروں کے سوگ میں امجد
مری لحد پہ کھلیں جاوداں گلاب کے پھول
——
سازِ فقیرانہ
——
گلوں کی سیج ہے کیا، مخملیں بچھونا کیا
نہ مل کے خاک میں گر خاک ہوں تو سونا کیا
فقیر ہیں، دو فقیرانہ ساز رکھتے ہیں
ہمارا ہنسنا ہے کیا اور ہمارا رونا کیا
ہمیں زمانے کی ان بیکرانیوں سے کام
زمانے بھر سے ہے کم دِل کا ایک کونا کیا
نظامِ دہر کو تیورا کے کس لئے دیکھیں
جو خود ہی ڈوب رہا ہو اسے ڈبونا کیا
بساطِ سیل پہ قصرِ حباب کی تعمیر
یہ زندگی ہے تو پھر ہونا کیا، نہ ہونا کیا
نہ رو کہ ہیں ترے ہی اشک ماہ و مہر امجد
جہاں کو رکھنا ہے تاریک اگر تو رونا کیا
——
زندگی ، اے زندگی
خرقہ پوش و پا بہ گل
میں کھڑا ہوں، تیرے در پر ، زندگی
ملتجی و مضمحل
خرقہ پوش و پا بہ گل
اے جہانِ خار و خس کی روشنی
زندگی ، اے زندگی
میں ترے در پر چمکتی چلمنوں کی اوٹ سے
سن رہا ہوں قہقہوں کے دھمیے دھیمے زمزمے
گرم ، گہری ، گفتگو کے سلسلے
منقل آتش بجاں کے متصل،
اور ادھر باہر گلی میں، خرقہ پوش و پا بہ گل
میں کہ اک لمحے کا دل
جس کی ہر دھڑکن میں گونجے دو جہاں کی تیرگی
زندگی ، اے زندگی
کتنے سائے محوِ رقص
تیرے در کے پردہء گلفام پر
کتنے سائے، کتنے عکس
کتنے پیکر محوِ رقص
اور اک تو کہنیاں ٹیکے خم ایام پر
ہونٹ رکھ کر جام پر
سن رہی ہے ناچتی صدیوں کا آہنگِ قدیم
جاوداں خوشیوں کی بجتی گتکڑی کے زیر و بم
آنچلوں کی جھم جھماہٹ، پائلوں کی چھم چھم
اس طرف، باہر، سر کوئے عدم
ایک طوفاں، ایک سیل بے اماں
ڈوبنے کو ہیں مرے شام و سحر کی کشتیاں
اے نگارِ دل ستاں
اپنی نٹ کھٹ انکھڑیوں سے میری جانب جھانک بھی
زندگی، اے زندگی
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ