اردوئے معلیٰ

Search

آج معروف شاعر م حسن لطیفی کا یوم پیدائش ہے ۔

م حسن لطیفی(پیدائش: 11 دسمبر، 1905ء – وفات: 23 مئی، 1959ء)
——
سوانح حیات
——
کوائف
——
نام : محمد حسن
قلمی نام : م حسن لطیفی
والد کا نام : میاں محمد شاہ
تاریخِ پیدائش : 11 دسمبر، 1905ء
مقامِ پیدائش : لدھیانہ
مذہب : سُنی مسلمان
ذات: بھور راجپوت ( راجہ پورس کی اولاد )
تعلیم : بی ۔ اے ، پنجاب
ایم ۔ اے انگلش ، علی گڑھ
ڈپلومہ آف جرنلزم 1938 ء ، آکسفورڈ
——
غیر نصابی سرگرمیاں
——
(ا)
سیکرٹری بوائز اسپیکنگ سوسائٹی ، اسلامیہ مڈل اسکول لدھیانہ ، انتخاب 1918 ء
(ب)
میڈل ونر نیشنل سروس ، اسلامیہ مڈل اسکول لدھیانہ ، 1918 ء
(پ)
سکالر شپ ہولڈر مشن ہائی اسکول لدھیانہ ، 1921 ء
(ت)
پرائز ونر لدھیانہ کالج لدھیانہ ، اعلیٰ تعلیمی اعزاز ، 1924 ء
(ٹ)
سیکرٹری لدھیانہ مسلم اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن ، انتخاب 1926 ء
(ث)
سیکرٹری شاہجہاں منزل ڈیبیٹنگ سوسائٹی مسلم یونیورسٹی علی گڑھ ، انتخاب 1927 ء
(ج)
سیکرٹری اولڈ بوائز ایسوسی ایشن لدھیانہ کالج لدھیانہ ، انتخاب 1928 ء
(چ)
کیبنٹ ممبر علی گڑھ یونیورسٹی ، انتخاب فروری 1929 ء
(ح)
چیئرمین لدھیانہ مسلم اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن لدھیانہ ، انتخاب جون 1929 ء
(خ)
چیئرمین میونسپل کمیٹی لدھیانہ ( کم عمر ترین چیئرمین )، انتخاب 1930 ء
——
زبانیں
——
پنجابی ، اردو ، انگریزی ، عربی ، فارسی ، فرانسیسی ، جرمنی اور اطالوی
تخلیق ادب کی زبانیں :
اردو ، انگریزی ، فارسی اور فرانسیسی
——
مطبوعہ تصانیف :
——
(ا)
لطیفیات اول 1928 ء
(ب)
لطیفیات دوم 1935 ء
(پ)
ہفت آویزہ ( سات طویل نظموں کا مجموعہ ) 1937 ء
(ت)
عظمتِ آدم
(ٹ)
روحِ جانشیں سے
(ث)
نگہتِ رائیگاں
(ج)
مطالعہ ۔ ہفت روزہ تنہا نگار رسالہ جو اردو اور انگریزی میں لگاتار تین سال ( 1932 ء سے 1935 ء ) تک شاطو پریس سے چھپتا رہا ۔
(چ)
تین سو کے قریب اردو نظمیں پمفلٹ کی صورت میں
(ح)
پچھتر کے قریب انگلش مقالات پمفلٹ کی صورت میں جن میں مشہور :
Let British Nation Know
میرٹھ کے ایک انگریزی روزنامے میں چھپا
Forefinger of Foresight
مئی 1945 ء
Mystery of Millenium
ستمبر 1945 ء میں شاطو پریس سے شائع ہوئے ۔
Dynamic Potentialitics of Holy Quran
21 مئی 1948 ء کو گارڈن کالج راولپنڈی میں پروگریسو رائٹرز ایسوسی ایشن کی میٹنگ میں پڑھا گیا ۔
——
غیر مطبوعہ تصانیف
——
(ا)
The Legend of Heer Ranjha
انگریزی میں ہیر رانجھا پر ریسرچ ورک جس پر م حسن لطیفی نے اپنی زندگی کی نصف دہائی صرف کی ۔ بھوک ، پیاس اور تھکن کی پرواہ نہ کرتے ہوئے جھنگ کے گرد و نواح میں معلومات حاصل کیں ۔ یہ ضخیم کام سات جلدوں پر مبنی تھا ۔ جس کی پہلی جلد
Glimpses of Jhang History
تصویروں ، نقشوں اور ڈایاگرامز سے مزین جون 1951 ء میں جھنگ میں چھپنے والی تھی اور اس کے چند ابواب انگریزی روزنامہ سول اینڈ ملٹری گزٹ میں چھپے تھے ۔ جیسا کہ ان کاغذات سے معلوم ہوتا ہے ۔ اس ریسرچ ورک کو چھپوانے کے لیے انہوں نے جھنگ میں ایک بورڈ آف ٹرسٹیز بنایا تھا اور اس وقت م حسن لطیفی نے اپنی خط و کتابت کے لیے اپنا پتہ معرفت مسٹر یوسف شاہ ، بار ایٹ لاء سول لائنز جھنگ دے رکھا تھا ۔
مگر لطیفیؔ صاحب کے انتقال کے بعد سے آج تک ان کے ضخیم ریسرچ ورک کا کچھ پتہ نہیں چل سکا ۔
(ب)
ناتمام آموز ایک طویل نظم کتابچے کی صورت میں
(پ)
تقریباَ ستر کے قریب طویل و مختصر اردو نظمیں
زیرِ ترتیب تصانیف :
(ا)
لطیفیات جلد سوم
(ب)
لطیفی کا فارسی کلام
(پ)
لطیفی کے ہمعصر مشاہرین کے خطوط
(ت)
لطیفی کی کلیاتِ شعر
(ٹ)
لطیفی کی کلیاتِ نثر
——
ادارت و صحافت کا تجربہ
——
(ا)
اسسٹنٹ ایڈیٹر ماہنامہ خیالستان لاہور
(ب)
فرانسیسی روزنامہ Le Petit Nicois Nice کے ہندوستان میں خصوصی نمائندہ رہے ۔
(پ)
1932 ء میں اردو ادب میں تنہا نگاری کی بنیاد ڈالی اور اردو ادب کے اب تک واحد تنہا نگار یعنی سولو جرنلزم ہفتہ وار جریدہ ” مطالعہ ” کا اجراء کیا جو لگاتار تین سال تک اردو اور انگریزی میں شاطو پریس سے چھپتا رہا ۔
یہ رسالہ اب تک اردو ادب میں تنہا نگاری کی واحد مثال ہے ۔
——
خطابت و سیاست
——
م حسن لطیفی علیگڑھ اور آکسفورڈ یونیورسٹی میں اردو اور انگریزی کے بہترین مقرر رہے ۔ اکثر اپنے ذاتی بنگلے شاطو کے وسیع لان میں جلسے کرتے تھے ۔
آزادیٔ نسواں اور بیداریٔ مسلمانانِ ہند کے لیے تقاریر کیا کرتے تھے ۔
1946 ء میں جب انگریز حکومت نے جلسوں اور تقاریر پر پابندی لگا رکھی تھی ، ایک جلسے میں لگاتار چار گھنٹے تک انگریز حکومت کے خلاف تقریر کی ۔
نتیجتاََ تین ماہ تک م حسن لطیفی نے نظر بندی کی صعوبتیں برداشت کیں ۔
——
طباعت
——
اپنی زیادہ تر نظمیں اور مقالات پمفلٹ کی صورت میں اور ہفتہ وار رسالہ مطالعہ ، انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں اپنے ذاتی پرنٹنگ پریس شاطو سے شائع کرتے تھے ۔
——
مشاغل
——
سفر اور نایاب کتب کو جمع کرنا ، 1931 ء میں یورپ سے واپسی پر اپنے ساتھ بیس ہزار کی نادر کتب ( جبکہ ایک فوڈ کار کی قیمت پانچ سو روپے ہوتی تھی ) خرید کر لائے اور شاطو میں اپنی ذاتی لائبریری میں رکھیں ۔
——
شادی
——
11 نومبر 1932 ء کو اپنی عم زاد سے شادی کی
——
بچے
——
اکلوتا بیٹا ، میاں محمد پروین لطیفی ، تاریخِ پیدائش 14 جنوری 1935 ء اور تاریخِ وفات 20 اگست 1951 ء
بڑی بیٹی ڈاکٹر عذرا ظہور اہلیہ میجر جنرل ظہور ملک
چھوٹی بیٹی صوفیہ حسن لطیفی اہلیہ آغا سید حسن جلال
——
بیرونی سفر
——
برطانیہ ، فرانس ، جرمنی ، اٹلی ، ایران اور سعودی عرب
——
مذہب سے لگاؤ
——
پنج وقتہ نماز اور آخری عمر میں تہجد گزاری
جانداروں پہ رحم
غریب مسکین اور بھوکوں کو کھانا کھلانا
تقسیمِ ہند سے پہلے انگریزی قوانین کے زمانے میں اسلامی قانون کے مطابق اپنی بہنوں کو جائیداد میں سے حصہ دیا ۔
تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان آ کر اپنی جائیداد ، دوکانیں ، باغات ، آبائی مکانات ، شاطو ، شاطو باغ ، شاطو لائبریری اور شاطو پریس کے عوض کوئی کلیم نہیں دیا ۔ کیونکہ ان کے مطابق اس سے ہجرت کے جذبات کی نفی ہوتی ہے ۔
دو بار حج کی سعادت نصیب ہوئی ۔ 1931 ء اور 1936 ء میں
——
ہجرت
——
ستمبر 1947 ء
——
وفات
——
23 مئی 1959 ء
——
آخری آرامگاہ
——
قبرستان میانی صاحب
——
منتخب کلام
——
جھلک پیدا ہوئی شورِ جرس میں نوحہ خوانی کی
حدودِ عشق میں داخل ہوا جب کارواں میرا
——
زلف و جبیں کی کشمکش اہلِ چمن سے کہہ گئی
صبحِ بہار کے لیے شرطِ شب دراز ہے
——
دل ہوا چاک تو آئی یہ جگر سے آواز
ترکشِ ناز میں کیا اور کوئی تیر نہیں
——
ربطِ باہم سے دل آویز ہیں اجزائے بہار
ورنہ یہ گل کدہ بیگانۂ رعنائی ہو
——
کچھ ایسی لالہ چیں ثابت ہوئی خنجر فراموشی
بہار آئی نہ تھی گویا کبھی اپنے گلستاں میں
——
اندھیری رات میں تاروں کے جھرمٹ جب چمکتے ہیں
ہزاروں زرنگار آنچل تصور میں جھلکتے ہیں
——
آوارۂ طوفاں کو سنورنا نہیں آتا
ڈوبی ہوئی کشتی کو ابھرنا نہیں آتا
ہر گام پہ ہوتا ہے گماں حدِ عدم کا
شاید مجھے دنیا سے گزرنا نہیں آتا
——
دعا
مرا جسم تحلیلِ غم ہو چکے جب
تو بن جاۓ خوں گشتہ فریاد یا رب
وہ انگڑائی لے پھر تڑپ کر قفس میں
سحر بن کے ہو جاۓ شق ہر تہِ شب
گریبانِ مشرق کی روداد لے کر
پہنچ جاۓ تا بامِ سرکار یثرب!
——
خزاں
گلگشت کے منظر پہ خزاں ہے طاری
ہاں! ایسے میں پھر دَور ہو ساقی جاری
آ ! یہ غم و اندوہِ زمانہ کر دیں
غرقِ خُم پیمانہء بادہ خواری
——
زمستان
یہ رُت ہو یہ راتیں یہ شبستان اے گُل!
اور مضمحلِ خواب یہ مژگاں؟ اے گُل
مُرجھائیں نہ ان پتلیوں کے تیور سے
مہکی ہوئی شبہاۓ زمستاں اے گل!
——
صہباۓ تغزل
سَنکی ہوئی ہوا میں ، سنتا ہوں یہ بشارت
اُس پار گھاٹ سے، کچھ مے پی کے آ رہا ہوں
الوانِ عہدِ رفتہ کو آئینہ دِکھا کر
میں نو بہارِ دوشیں ، پھر کھینچے لا رہا ہوں
کیا واپس آ رہا ہے دورِ نشاطِ برہم؟
اے وحشت! آج پیہم کیوں مسکرا رہا ہوں
کس پیرہن کو چھو کر، موجِ نسیم آئی؟
مہکی ہوئی سی مستی پھر دل میں پا رہا ہوں
اے نازشِ تصور! یہ کون سی ہے منزل؟
کس کی حسیں نگہ میں میں پھر سما رہا ہوں
چھٹکی ہوئی ہے جس میں اک ست لڑی کی چشمک
اُس من کی بیکلی سے میں جھلملا رہا ہوں
گو چَھن رہی ہے کچھ کچھ تنویر چلمنوں سے
نازک امانتوں کو دل میں چھپا رہا ہوں
آسودگی نہیں ہے جو سب میں رنگ بھر لوں
اکثر بنا بنا کے خاکے مٹا رہا ہوں
بیداد سے بھی اب تو اُکتا رہے کچھ وہ
یہ داد مل رہی ہے یہ داد پا رہا ہوں
مستی میں اَبر تَر ہے لیکن اے واۓ قسمت
ساقی کی بے رخی سے میں تلملا رہا ہوں
جن کی نظر میں دل کا کچھ خوں بہا نہیں ہے
دوشینہ حسرتِ دل ان کو سنا رہا ہوں
وہ گم ہیں رنگ و بو کی سرمستیوں میں اور مَیں
خوننا بہء رگِ جاں سے گُل کھلا رہا ہوں
جب سے کہا کسی نے یہ زیست رائیگاں ہے
میں کچھ لُٹا رہا ہوں اور کچھ گنوا رہا ہوں
ہر سنگ راہ مجھ کو ہمسنگِ بے ستوں سے
ہر ہر قدم پہ جاں کی بازی لگا رہا ہوں
نادت ترین ہے اک بے حاصلی کا حاصل
اُس کی گدائیوں کے میں گیت گا رہا ہوں
وہ جو سمٹ سمٹ کر مجھ سے کھنچے ہوۓ ہیں
میں دل کے تار اُن کے دل سے مِلا رہا ہوں
روٹھے ہوۓ ہیں لیکن ، ہیں آئینہ پہ نظریں
کِس جذبِ شوق سے میں ان کو منا رہا ہوں
چھایا ہے ناز پر، واں نیرنگیوں کا عالم
میں بے نوائیوں میں عالم پہ چھا رہا ہوں
ان سے ہو کیا شکایت اپنے ہی سے گِلہ ہے
دوہری ندامتوں سے نظریں جُھکا رہا ہوں
نبضوں کو تھامتا ہوں دل کو تھپک تھپک کر
نا رُکتے آنسوؤں میں نظریں بُھجا رہا ہوں
رومانِ راہ معنی کی نَے نوازیوں سے
حرماں نصیبوں کو اپنی بُھلا رہا ہوں
پہلے جہاں پہ دل تھا بے نام اب خلش ہے
تیری بقا سمجھ کر اس کو بچا رہا ہوں
——
یہ بھی پڑھیں : دردِ دِل کی دَوا آپ کا نام ہے
——
حشر مرا بخیر ہو ، مجھ کو بنا رہے ہو تم!
خاک میں جان ڈال کر ، خاک اڑا رہے ہو تم!
عبرتِ ذوق زہر خند ، ذوق زبوئی دو چند
شوق بڑھا کے پے بہ پے شمعیں بجھا رہے ہو تم!
میرے عدم میں بھی بہم ، تھا ستم ازل کا غم
پہلے ہی میں نزار تھا اور ستا رہے ہو تم!
سوز تو سوز ہے مگر، ساز بھی سوز ہو نہ جاۓ
ساز کو آج سوز کے سامنے لا رہے ہو تم!
تہمتِ ہست بھی روا ، حاصلِ نیست بھی بجا
ہاں! مری سر نوشت کے داغ مٹا رہے ہو تم!
خندہ ء زیرِ لب بھی ہے ، گریہء بے سبب بھی ہے
بے ہمہ و بہر ادا ، رنگ جما رہے ہو تم !
——
حوالہ : لطیفیات ، حصہ سوئم ، م حسن لطیفی از عذرا ظہور
ناشر خالد شریف ، صفحہ نمبر 5 تا 12 ، شائع شدہ 1989 ء
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ