اردوئے معلیٰ

Search

آج مفتی منیب الرحمٰن کا یوم پیدائش ہے

مفتی منیب الرحمٰن(پیدائش: 8 فروری 1945ء )
——
مفتی منیب الرحمٰن صاحب 8 فروری 1945ء مطابق 1364ھ کو موضع نمبل (اپر تناول)، تحصیل اوگی، ضلع مانسہرہ ( ہزارہ ڈویژن صوبہ خیبرپختونخوا)میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد ماجد کا نام قاضی حبیب الرحمن اور دادا کا نام قاضی عبداللہ ہے۔ مفتی صاحب کو یہ شرف حاصل ہے کہ آپ عباسی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، وہ گزشتہ سات پشتوں سے علم وفضل میں مشہور چلا آرہا ہے۔اس وقت آپ کی عمرشمسی تقویم کے اعتبارسے 76 سال جبکہ ہجری تقویم کے اعتبار سے 78 سال ہے۔ہزارہ ڈویژن سے تعلق رکھنے کے سبب بعض لوگ آپ کے نام کے ساتھ ’’ہزاروی‘‘کالاحقہ بھی استعمال کرتے ہیں۔
آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے علاقہ میں ہی حاصل کی اور گورنمنٹ ہائی اسکول اوگی سے میٹرک کیا۔ دینی علوم میں فارسی کی کتب اپنے والد ماجد اور والدہ ماجدہ سے پڑھیں۔ اس کے بعد جامعہ نظامیہ لاہور میں درسِ نظامی کی کتب پڑھیں۔ ایک سال جامعہ اسلامیہ بہاول پور میں پڑھا۔ 1965ء میں آپ نے فاضل عربی کیا۔ دورۂ حدیث 1966ء میںشیخ الحدیث علامہ مولانا عبدالمصطفٰی الازہری علیہ الرحمۃ سے دارالعلوم امجدیہ کراچی میں کیا۔ 1969ء میں کراچی یونیورسٹی سے ایم اے کیا۔ 1971ء میں گورنمنٹ کالج آف ایجوکیشن سے بی ایڈ کیا اور 1973ء میں آپ نے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔
آپ کے اساتذہ میں آپ کی والدہ ماجدہ سرفہرست ہیں جنہوں نے آپ کو آدابِ زندگی سکھانے کے علاوہ فارسی کی بنیادی درسی کتابیں (کریما، نامِ حق، پندنامہ وغیرہ) پڑھائیں۔ علاوہ ازیں جن اساتذہ سے آپ نے علوم اسلامیہ کافیض حاصل کیا، ان میں سے چند کے اسمائے گرامی درج ذیل ہیں:
علامہ قاضی حبیب الرحمن صاحب (آپ کے والد ماجد) حضرت علامہ مفتی عبدالقیوم ہزاری(ناظم اعلیٰ،جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور) ٭ حضرت علامہ عبدالمصطفٰی الازہری (شیخ الحدیث دارالعلوم امجدیہ) ٭ جسٹس (ر)ڈاکٹرعلامہ مفتی سید شجاعت علی قادری (مفتی دارالعلوم امجدیہ کراچی ،بانی مہتمم دارالعلوم نعیمیہ کراچی)
——
یہ بھی پڑھیں : معروف محقق اور نقاد شمس الرحمٰن فاروقی کا یومِ وفات
——
ان کا گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ سطح پر درس و تدریس تفسیر، حدیث، فقہ، عربی ادب اور دیگر اسلامی موضوعات پر 30 سے ​​زائد سال کا تجربہ ہے۔ پروفیسر منیب الرحمن نے تفہیمِ المسائل، قانونِ شریعت، اصولِ فقہ اسلام اور دوسری بے شمار کتب لکھی ہیں۔
دارالعلوم نعیمیہ کراچی میں آپ 1973ء سے مسلسل فرائضِ تدریس انجام دے رہے ہیں۔اسی طرح 1985ء میں آپ نے تدریس کے ساتھ ساتھ دارالافتاء کی ذمہ داریاں بھی سنبھالیںجوآج بھی جاری ہیں اورنہ صرف پاکستان سے بلکہ دنیا بھر سے لوگ آپ کی خدمت میں استفتاء بھیجتے ہیں اورآپ ان کے تسلی بخش جوابات دیتے ہیں۔آپ کے فتاویٰ جات کا مجموعہ ’’تفہیم المسائل‘‘ کے نام سے 11مجلدات میں شائع ہوچکاہے۔ ان فتاویٰ میں کئی فتاویٰ ایسے ہیں جوبڑے تحقیقی اورمنفرداندازمیں لکھے گئے ہیں۔
——
تصنیف و تالیف
——
خلاصہ تفسیر
تفسیر سورۃ نسا
تفہیم المسائل
قانون شریعت
آئینہ ایام
زکوٰۃ
اصلاح عقائد و اعمال
رؤیت ہلال
،دیگر کئی کتابیں لکھیں۔
عہدے
آپ تقریباً دو دہائیوں تک چیئرمین، مرکزی رویت ہلال کمیٹی، پاکستان رہے
صدر، تنظیم المدارس اہل سنت پاکستان
صدر، دارلعلوم دار العلوم نعیمیہ کراچی
پروفیسر، جناح یونیورسٹی برائے خواتین کراچی
جنرل سیکرٹری اتحاد تنظیمات بین المدارس
——
یہ بھی پڑھیں : ممتاز ادیب مسعود مفتی کا یومِ وفات
——
پروفیسر منیب الرحمن وفاقی جامعۂ اردو اور انٹرمیڈیٹ تعلیمی بورڈ کراچی کے ایک رکن بورڈ کے طور پر کام کرتے ہیں
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ